ہوم > کالم > کلبھوشن اوربھی ہیں۔۔۔۔۔۔تحریر/مناظرعلی

کلبھوشن اوربھی ہیں۔۔۔۔۔۔تحریر/مناظرعلی

ہربات کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے اورکہتے ہیں کہ وہی اصل بات ہوتی ہے،بس ضرورت ہے تواس بات کی کہ ہربات کی تہہ میں جاکرحقیقت جانی جائے اورپھرمستقبل میں بہت سے ایسے مسائل مشکلات پیدا کرسکتے ہیں انہیں قبل از وقت ہی ختم کردیاجائے۔۔

اکثروبیشتریونیفائیڈمیڈیاکلب کے زیراہتمام ہونے والے سیمینارزمیں شرکت کاموقع ملتاہے جہاں موضوع کی مناسبت  سےایسے مقررین کومدعوکیاجاتاہے جن کے پاس متعلقہ موضوع کے بارے میں  خاصی تفصیلات ہوتی ہیں اوریہ سارے کاسارا کریڈٹ جناب حافظ محمدحسان صاحب کوجاتاہے جو اس میڈیاکلب کواحسن اندازمیں چلارہے ہیں، لاہورچیمبرآف کامرس میں  بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پرگفتگو کے لیے ایک نشست رکھی گئی جس میں سابق گورنرپنجاب خالدمقبول،سینئرصحافی نویدچوہدری اورکچھ دیگراہم شخصیات نے شرکت کی،ہر ایک نے معاملے پراپنے اپنے نقطہ نظرسے آگاہ کیا،خالدمقبول گورنرپنجاب سمیت  مختلف اہم عہدوں پرکام کرچکے ہیں اورسابق اعلیٰ فوجی افسربھی ہیں، ان کااس حوالے سے خصوصی خطاب رکھاگیاتاکہ وہ اپنے تجربات اورمعلومات کی بنیادپربھارتی جاسوس کے معاملے پربات چیت کریں،ظاہرہے خالدمقبول چونکہ  فوج کے اعلیٰ عہدے پررہ چکے ہیں اورفوجی اگرریٹائربھی ہوجائے تووہ اپنی سوچ ،حب الوطنی اورنظم وضبط  کے حساب سے فوجی ہی رہتاہے،انہوں نے وطن عزیزکی حفاظت اوراس کی ترقی وخوشحالی کیخلاف ہونے والی سازشوں  کو بے نقاب کرنے اوران کا سرکچلنے میں پاک فوج کے کردارپروشنی ڈالی،انہوں نے امیدظاہرکی کہ پاکستان کامستقبل روشن ہے اورکوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی ،انہوں نے کہاکہ لوگوں کوگھبرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ ہوجائے گایاوہ ہوجائے گا بلکہ ان کاکہناتھا کہ  پاکستان کادنیامیں ایک وقار ہے اوراتنے بڑے رتبے پرمسائل بھی سامنے آتے رہتے ہیں جوکوئی بڑاخطرہ نہیں بلکہ معمول کی بات ہے۔۔

سیمینارمیں جہاں دیگرمقررین نے اپنی اپنی گفتگو کی وہی پی ٹی آئی کے رہنمااعجازچوہدری نے کلبھوشن کے معاملے پرکہاکہ پاکستان کی  ایک بڑی سیاسی پارٹی کے چیئرمین نے بڑاعجیب اورمایوس کن بیان دیاہے کہ انہیں کلبھوش کی پھانسی کی خبرسن کراپنے نانا کی پھانسی یاد آگئی ہے،،اعجازچوہدری کے مطابق انہیں تشویش ہے کہ ایک بھارتی جاسوس کی پھانسی پرایک اہم پارٹی کے سربراہ نے ایسابیان کیوں دیاہے؟؟؟۔۔۔۔کیاوہ نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ بھارتی جاسوس کوسزانہ ملے یابھارت کیساتھ اس طرح کی زبان میں بات نہ کی جائے؟۔۔انہوں نے حیرت کااظہارکیاکہ بھارت کشمیری مسلمانوں کاقتل عام کرے،بھارت افغانستان کے راستے بلوچستان میں سازشیں کرے اورپاکستان کو توڑنے کی ناپاک کوششیں کرے اوریہاں ہم ان کے جاسوسوں کوکھلی چھٹی دے دیں؟؟؟یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے۔۔۔۔چونکہ سیمینارکاعنوان بھی یہی تھا کہ”کلبھوش اوربھی ہیں” اس لیے اس اہم اورکم عمرسیاستدان کابیان اس تناظرمیں کافی حیران کن ہے۔۔۔یعینی بھارت سے زیادہ خطرہ اندرونی ہے جوملک دشمن عناصرکے سہولت کارہیں یانرم گوشہ رکھتے ہیں۔۔۔غداری اورمنافقت کی سزاتوکہیں پربھی نرم نہیں پھرہمارے ہاں بعض لوگوں کے پیٹوں میں مروڑکیوں اٹھ رہے ہیں؟؟؟؟

معاملہ چونکہ حساس نوعیت کاہے اس لیے مقررین نے بھی اپنے خدشات کااظہاردبے لفظوں میں کیااوریہ ضروری بھی تھا کہ جہاں ملکی سلامتی واستحکام کامعاملہ ہو یاملکی اداروں کے فیصلوں کامعاملہ ہوتوپھربھانت بھانت کی بولیوں سے اجتناب ہی کرناچاہیے مگرکلبھوشن کے معاملے پرکسی بھی شخص کانرم گوشہ رکھنایاملک  کیخلاف تاثردینے والابیان واقعی تشویش ناک ہوگا جس پرمتعلقہ ذمہ داروں کوسوچناہوگا تاکہ جوکلبھوشن کردارکے عناصرہمارے درمیان ہی موجودہیں انہیں بے نقاب کرکے وطن عزیزکوایسی کالی بھیڑوں سے پاک کیاجاسکے۔

یہ بھی دیکھیں

’پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اختیار کر لو‘

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک ہندو خاتون اور ان کے مسلمان شوہر …

2 تبصرے

  1. ایسے سیمینار ہوتےرہنے چائہیں تواترسے ،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *