Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > کیا۔۔سب ایک جیسے ہیں؟؟۔۔۔تحریر:محمدوقار

کیا۔۔سب ایک جیسے ہیں؟؟۔۔۔تحریر:محمدوقار

 پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی پولیس کے سربراہ مشتاق احمد سکھیرا اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے ۔موصوف پولیس اہلکاروں کارویہ تو نہ بدل سکے لیکن وردی کوضروربدل گئے ،وہ بھی ایسی کہ بجائے ثواب کے گناہ کےمستحق ٹھہرے ۔یہ وردی جس کمپنی سے بنوائی گئی ہے وہ موجودہ حکمران کے دوست کی ہے،کہاجارہاہے کہ حکمرانوں نے نشاط مل کووردیوں کاٹھیکہ دے کرخوب دوستی نبھائی جیسا کہ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیق کو اس عمرمیں گورنرسندھ لگاکر نبھائی گئی ۔اب تک اس منطق کی سمجھ نہ آسکی ہے کہ وردی تبدیل کرکے پولیس کلچر میں کیسے تبدیلی لائی جاسکے گی ۔ فرنٹ ڈیسک سے لے کر وردیوں کی تبدیلی تک پولیس اہلکاروں کاانداز وہ ہی پرانا،گالی،دھونس،بدت¬میزی،سائلین کوتنگ کرنے کاسلسلہ ویسے ہی جاری ،یعنی تن کالباس تبدیل،من ویسا ہی آلودہ ۔ مشتاق احمدسکھیرا جو کہ اب سابق آئی پنجاب ہیں نے اپنی پولیس فورس کابھردفاع کرتے ہوتے رویوں کاسارا ملبہ پنجاب کے کلچرپرڈالتے ہوئے فرمایاکہ پولیس اہلکاروں کارویہ شہریوں کے مزاج جیساہے۔جیسے لوگ ان کے ساتھ ویساہی رویہ،جوکہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہےکیونکہ نہ ہمارے اندر اب برداشت ہے نہ ہی ہم خوش اخلاقی اپناتے ہیں۔ہمارے ہاں تو حال یہ ہے یہ اگر پیارسے ،خوش اخلاقی سے بات کرے تو سمجھ لیاجائے کہ یا تو اس کابس نہیں چل رہا یاپھر اس میٹھی زبان کے پیچھے کوئی مقصد ضرور ہے۔ ہمارے وزیرداخلہ چودھری نثارفرماتے ہیں کہ یہاں جائزہ کام مہینوں لٹکے جبکہ رشوت اور سفارش کے کام منٹوں میں ہوجاتے ہیں،اگر آپ سرکاری عملے کے ذہن کے مطابق رہے تو کام فوری اور اگر تھوڑے سے مزاج کی رینج سے باہر نکلے تو لٹکتے رہیں انتظارکی سولی پر۔ یہ ہمارا کلچرہی تو ہے کہ ہم اب کسی کوبرداشت نہیں کرتے ,ہمسایہ اگر ڈانٹ دے تو فوری ڈنڈے سوٹے چل جاتے ہیں جبکہ اپنا دوست اگر خوب گلیوں سے تواضع کرے تو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں۔جعل سازی،دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے،کوئی اپنا بھی ہاتھ کرنے سے باز نہیں آتا،آپ اگراپنے کسی بھی کام میں اپنے کی مددلیتے ہیں تو وہی آپ کوکسی نہ کسی طرح ڈس لینے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑتا،دکھایاکچھ جاتاہے اوردیاکچھ جاتاہے۔خدمت کرنے والے ادارے اورافسران ہی غریب کونچوڑنے کے درپرہیں،ہسپتالوں میں سفارشی علاج،تھانوں میں فون کے ذریعے مقدمے کااندراج،تعلیمی اداروں میں لیٹرکے ذریعے جی حضوری کے تحت داخلے،جبکہ گلی محلوں کی صفائی کے لیے بھی ترلے منتوں بغیر جناب خاکروب نہیں ہلتے۔۔یہاں ہرجائزکام کروانے سے پہلے خوشامد یانوٹوں کی چمک ضروری ہے اور اگر غصہ دکھایاتو کام کروا کردکھاؤ،اس کام میں سوطرح کی ایسی غلطیاں نکالی جائیں گی جن کاسر ہوگا نہ ہی پاؤں،لیکن کام نہیں ہوگا اور پھر آپ خاموش اوربے بس ہی رہ جائیں گے۔اگر ایسے رویے ہم سب کے ہیں تو صرف پولیس ہی کوقصوروار ٹھہرایاجائے۔صرف پولیس سے ہی تو نہیں روز پالا پڑتا،روز ہم تھانے کے سامنے سے تونہیں گزرتے پھرکیوں کہیں کہ وردی بدلنے سے رویہ بھی بدلنا چاہیے تھا جبکہ ہم روز کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور روز کاروبار میں بے ایمانی،جھوٹ اور ناپ تول میں کمی کاسہارا لیتے ہیں ۔کیا ہمارے رویے نہیں بدلنے چاہییں ۔؟؟۔ دفاترہوں یا اپنے کاروبار ،ہسپتال ہوں یا تھانے ،ہرجگہ رویوں نے انسان کومات دیدی ہے۔ہم اپنے حقوق کے لیے نہیں بول سکتے،ہم اپناحق نہیں مانگ سکتے،بے بس اور لاچارقوم صرف آزاد ہوئی لیکن وڈیروں اورجاگیرداروں کے ابھی بھی غلام ہے۔اس لیے یہی وقت ہے قوم کوایک سلجھی ہوئی قوم بننے کا کیونکہ اگریہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو بعد میں چاہیے پولیس کی وردی تبدیل ہویا فرنٹ ڈیسک قائم، کسی بھی چیز سے کوئی استفادہ نہ ہوگا اور یہ پاکستانی عوام ایک ہجوم کی مانند ہی رہ جائے گی کبھی قوم نہیں بن پائے گی اور پھرچاہیے پولیس کی وردی تبدیل ہویا پھر قومی کرکٹ ٹیم میں پڑھے لکھے کھلاڑی لائیں کسی بھی چیزکاکوئی فائدہ نہیں ہوگا اورقوم پاکستانی قوم نہیں بن پائے گی بلکہ ایساہی ہجوم ہرجگہ بدکلامی اور سخت رویہ برتارہے گا۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *