Sunday , November 18 2018
ہوم > کالم > مشال خان کا قتل کھلی بربریت ۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

مشال خان کا قتل کھلی بربریت ۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

مذہب کے نام پر قتل عام بند کیا جائے ۔مشال خان کون تھا جہاں تک ممکن ہو سکا میں نے سوشل میڈیا سے اس طالب علم کا حساب لگایا ہے کہ یہ لائق اور محب حضرت محمد مصطفی ﷺ تھا ۔اور ایک شاعر تھا ،اسے حسد ، کنیے اور سازش سے قتل کیا گیا، حکومت پاکستان اس سے متعلق بھر پور ایکشن لے اور ملزموں کو سزا دے ۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ مشال خان کے قتل نے ایک بات تو ہر طرح سے واضع کر دی کہ یہاں کوئی انسان مذہب اور ریاست سے محفوظ نہیں رہا ۔۔ سلمان تاثیر کیس کی کڑیاں بھی ملتی جلتی ہیں ۔ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ مذھبی جماعتیں مذھب کے نام پر ریاست کی قانونی رٹ کی دھجیاں اڑا رھی ھیں ۔۔ مشال خان ایک بے گناہ امتی اور ایک سچا مسلمان تھا جس کو اسی زمرے میں مارا گیا ھے ۔۔ اب تو بات کرتے بھی ڈر لگتا ھے کہ نجانے کیا مطلب نکال لیا جا ئے گا ۔۔ یہ اسلام کی تعلیمات ہر گز نہیں ۔۔ پاکستان مذھب کی بنا پر بنائی گئی تجربہ گاہ تھی جو مکمل طور پر ناکام ھوئی ھے ۔۔ مذھب کو ریاست سے الگ کر دیا جائے اور مذھب اور مسلک ذاتی کر دیا جائے تا کہ ریاست میں مذھب کے نام سے مزید قتل نہ ھوں اس طرح ھم اپنے مذھب اور اپنے رسولﷺ کی توہین کرتے ہی جا رھے ہیں اور پوری دنیا میں یہ پیغام دے رھے ھیں کہ ھم سے برا کوئی نہیں، تمام علماء مل کر مسئلے کا حل تلاش کریں اور حکومت وقت اپنی ذمہ داری کو سمجھے، عام آدمی نفسیاتی طور پر بہت پریشان ھو چکا ھے ، مشال خان جسے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں توہینِ مذہب کے مبینہ الزام میں قتل کردیاگیا، کچھ دن پہلے کی لکھی نظم ضرور پڑھیے.

 میں لاپتا ہوگیا ہوں

 کئی ہفتے ہوئے پولیس کو رپورٹ لکھوائے تب سے روز تھانے جاتا ہوں

 حوالدار سے پوچھتا ہوں میرا کچھ پتا چلا؟

 ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

 ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا پھر وہ تسلی دیتا ہے کسی نہ کسی دن تم مل ہی جاؤ گے

 بے ہوش کسی سڑک کے کنارے یا بری طرح زخمی کسی اسپتال میں یا لاش کی صورت کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں میں بازار چلا جاتا ہوں

 اپنا استقبال کرنے کے لیے گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

 اپنے زخموں کے لیے کیمسٹ سے مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی اور درد کشا گولیاں

 اپنی آخری رسومات کے لیے مسجد کی دکان سے ایک کفن اور اپنی یاد منانے کے لیے کئی موم بتیاں،

 کچھ لوگ کہتے ہیں کسی کے مرنے پر موم بتی نہیں جلانی چاہیے

 لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے تو روشنی کہاں سے لائیں؟

 گھر کا چراغ بجھ جائے تو پھر کیا جلائیں؟۔۔۔

  آخر کب تک یوں ہی ہوتا رہے گا، جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر۔۔۔ شہر کا شہر مسلمانوں ھوا پھرتا ہے۔۔

 

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *