ہوم > کالم > صدر ممنون کیلئے ممنونیت اور کرپشن کی ریاست- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

صدر ممنون کیلئے ممنونیت اور کرپشن کی ریاست- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

صدر ممنون کے علاوہ اس دور حکومت میں کوئی ایسا حکمران نہیں ہے جو حکمران نہیں لگتا۔ کوئی اس طرح کی معنی آفریں اور زومعنی باتیں بھی نہیں کرتا۔ صدر ممنون وہ صدر ہیں جن کا سب کو ممنون ہونا چاہئے۔ پہلے پہل لوگوں نے ممنون کا لفظ ایک مذاق بنالیا تھا اس میں حکومت کے کچھ لوگوں کا بھی کردار ہے مگر اب لوگ جس شخص کی سب سے زیادہ قدر کرتے ہیں وہ صرف ممنون حسین ہیں۔
وہ کھری سچی پکی باتیں کرتے ہیں پہلے پہل لگتا تھا جیسے وہ صرف دکھاوے کے صدر ہیں مگر انہوں نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

جیسا کہ نواز شریف کا طریقہ ہے۔ انہوں نے رفیق تارڑ صاحب کو صدر بنایا۔ لوگوں نے بہت مذاق اڑایا مگر جس نے نواز شریف کو بچایا وہ رفیق تارڑ تھے۔ مصنوعی جلاوطنی کے سارے معاملات تارڑ صاحب نے مکمل کروائے تھے۔

میں نے ایک بار کلثوم نواز سے پوچھا تھا کہ نواز شریف اٹک جیل میں ہیں مگر تارڑ صاحب ایوان صدر میں ہیں تو کلثوم نواز نے کہا کہ ان سے ابھی ایک بہت بڑا کام لینا ہے۔ اور وہی عیش و عشرت والی جلا وطنی کا باعث بنے تھے۔ جلا وطنی کے سارے کاغذات پر دستخط رفیق تارڑ نے کئے تھے۔ وہ بہت وفا حیا والے آدمی ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں اور صدر ممنون حسین سے بھی زیادہ حیاوالا کون ہو گا ان کی عزت میں زیادہ کرتا ہوں۔ ان کے اور صدر رفیق تارڑ جیسا پہلے کوئی نہیں رہا۔ وہ کبھی بیان دیتے ہی نہ تھے۔ یہ بھی ان کی وفاداری کیخلاف تھا۔ نواز شریف پر وقت آئے گا اور مددگار ممنون حسین بنیں گے کیونکہ وہی پاکستان کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہیں۔ یہ منصب کی بے حرمتی ہے کہ اسے بیکار محض بنا دیا گیا ہے مگر اصل کام اسی سے لیا جاتا ہے۔

جب صدر ممنون حسین کوئی بیان دیتے ہیں تو مزا آ جاتا ہے۔ ایسا ایک بیان بھی نواز شریف کے مقدر میں نہیں ہے۔ ممنون حسین کا تازہ بیان یہ ہے ”بدعنون لوگوں سے بدبو اور کراہت آتی ہے“ اور یہ بات قابل غور ہے معنی آفرین اور زومعنی ہے۔ اس پر تھوڑا سا غور کریں تو سب سمجھ آ جاتی ہے۔ ممنون صاحب کہتے ہیں جن بد عنوانوں کو جانتا ہوں ان کے ساتھ بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ لوگوں، حکمرانوں اور افسران میں کام کرنے کی عادت ہی ختم ہوگئی ہے۔ اگر ترقی کرنا ہے تو چین کی طرح محنت کرنا ہوگی۔ محنت کرنا ختم ہوگیا ہے۔صرف حکومت کرنا ہی رہ گیا ہے۔ حکومت کون لوگ کرتے ہیں جو محنت کرنا جانتے ہی نہیں ہیں۔ وہ صرف حکومت کرنے کے معاملات ہموار اور خوشگوار کرتے رہتے ہیں۔

بدعنوان حکمران کون ہیں جن کو ممنون حسین جانتے ہیں اور جن کے ساتھ بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اتنی کھلم کھلا باتیں اور کون کرسکتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ وہ حکمرانوں کیخلاف بات کر رہے ہیں نواز شریف کو مخاطب کرنا بھی ان کا طریقہ ہے وہ صدر پاکستان ہیں۔ صدر پاکستان کا یہی طریقہ ہے مگر ہمارے حکمران نجانے کس کام کے لئے صدر بناتے ہیں؟ صدر تارڑ نے تو وہ کام کر دیا تھا جس کے لئے انہیں صدر بنایا گیا تھا۔ صدر ممنون کو صدر بنا کے نواز شریف اتنے خوش نہ ہونگے مگر مجھے یقین ہے کہ نواز شریف کی عزت میں اضافہ صدر ممنون حسین کی وجہ سے ہو گا۔

پہلے انہوں نے کرپٹ لوگوں یعنی حکمرانوں اور افسروں کے خلاف بات کی تھی جو عین نشانے پر لگی ہے۔ اب انہوں نے اس کی مزید وضاحت کی ہے اور بدعنوان لوگوں کے خلاف بات کی ہے۔ بدعنوان کون ہوتے ہیں جس کا جو بس چلتا ہے وہ بدعنوانی کی حد کرتا ہے۔ مگر بدعنوان عموماً حکمران کو سمجھا جانا ہے۔ افسران بھی اور مخصوص ملازمین بھی بہت بدعنوان ہوتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بدعنوانی میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔

آج ہی خبر آئی ہے کہ ارباب عالمگیر اور عاصمہ ارباب دو سال کے بعد وطن واپس آگئے ہیں تاکہ پھر وطن سے باہر جا سکیں۔ دونوں نے کہا کہ ہم نیب کے ڈر سے وطن چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔ انہوں نے نیب کا نام کیوں لیا ہے؟ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ارباب اور عاصم دونوں کی داڑھی نہیں ہے۔ اب اس مقصد کے لئے کوئی اور محاورہ بنانا پڑے گا۔ ارباب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ جائیدار میری ہے۔ وہ یہ بھی تو بتائیں کہ یہ جائیداد کس طرح بنائی گئی ہے۔ بے چارے نواز شریف کو اب تک جواب دینا پڑ رہا ہے۔ کبھی قطری خط آتا ہے۔ کبھی قطر سے قطرہ قطرہ دولت آتی ہے۔ نواز شریف سے ارباب کی دولت کم نہ ہو گی۔

ارباب اور عاصمہ نے کہا کہ عدالت میں کیس ہے وہاں جواب دیں گے۔ آخر پیسے بنانے والے لوگوں کا کیس عدالت میں کیوں جاتا ہے؟ اور عدالتیں کبھی فیصلہ نہیں کرتیں۔ معذرت کے ساتھ ماضی میں کسی کرپٹ آدمی کے خلاف عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
نیب بھی ایک ایسا ارادہ ہے جو کرپٹ لوگوں کی فرسودگی سے آسودگی تک لانے کا ذمہ دار ہے اور اپنا کام بہت خوش اسلوبی سے کرتا ہے کیونکہ اب بد اسلوبی و خوش اسلوبی میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ گوجرانوالہ کے ایک بالکل نوجوان شاعر صدام ساگر کا شعر سنیں جو اس نے مجھے اس کالم کے دوران سنایا ہے۔ شعر پنجابی میں ہے۔

جدوی ہوئیا اخیر لوکاں دا
مر گیا سی ضمیر لوکاں دا

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *