Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > پولیس وردی اورخزانے کوسوراخ۔۔۔۔تحریر/محمد مناظرعلی

پولیس وردی اورخزانے کوسوراخ۔۔۔۔تحریر/محمد مناظرعلی

اگرکسی نے گندم کاذخیرہ دیکھاہے تواسے معلوم ہوگا کہ کتنی احتیاط کی ضرورت ہے،ذراسی غلطی بھی ذخیرے کوغیرمحفوظ بنادیتی ہے اس لیے گندم خواہ جس طرح بھی ذخیرہ کی جائے اسے اچھی طرح ڈھانپناضروری ہوتاہے،کہیں سے  کوئی باریک سا سوراخ بھی کسی بڑے نقصان کی وجہ بن سکتاہے،بالکل اسی طرح قومی خزانے کی حفاظت بھی ضروری ہے،گندم کی طرح اسے بھی کیڑے مکوڑوں  اورچوہوں سے بچاناضروری ہے اورساتھ ہی ساتھ چوروں اورڈاکوؤں سے بچانابھی اسی طرح ضروری ہے جیسے گندم کے ذخیرے کوہوتاہے۔

پنجاب پولیس جس کانام لیتے ہی ذہن میں رشوت اورخوف کاتصورابھرتاہے خواہ اس میں حقیقت جتنی بھی ہو ،یہ ایک الگ موضوع ہے جس پرکبھی پھربات کریں گے مگرآج  ہم پنجاب پولیس کی وردی پربات کرتے ہیں،وردی تبدیل ہونے پربڑے بڑے کالم نگاروں اورتجریہ کاروں نے اپنے اپنے اندازمیں تنقیدکی جومیراخیال ہے بنتی بھی تھی،قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے اس موضوع پر کالم لکھنے کاخیال تھوڑادیرسے آیاہے مگرایسابالکل نہیں،گزشتہ روزمیں اپنے محترم دوست جناب وقاص غوری صاحب کیساتھ آفس سے باہرنکلاتوہمیں ایک تھانے کاپولیس اہلکارملاجووردی کے معاملے پرخاصاپریشان تھا،شناسائی ہونے کی وجہ سے اہلکارنے کھل کر تنقیدکی،میں نے پوچھاکہ آپ کواس نئی وردی سے کیامسئلہ  ہے؟توکہنے لگاکہ بات اتنی سی ہے  کہ بھائی ہمیں یہ میاں منشاء کے تمبوؤں سےبنی وردی نہیں چاہیے،اس میں پولیس کے امیج کامعاملہ توایک الگ کہانی ہے مگراس کپڑے میں بھی ایک بہت بڑی خرابی ہے،وہ یہ کہ تھوڑی سی مٹی لگ جائے توہزاربارجھاڑنے سے بھی مٹی وردی کی جان نہیں چھوڑتی اورکھردراپن اتناہے کہ کچھ نہ پوچھیں،بھئی  ہماری توپہچان ہی ختم ہو گئی ہے،ہم پولیس اہلکارکم اورڈاکیازیادہ لگتے ہیں،کہنے لگا کہ میں ایک جگہ سے روٹی کھانے جاتاتھا مگرنئی وردی کے پہلے دن گیاتومجھے فوری کھانانہیں ملاکیوں کہ انہوں نے پہچاناہی نہیں کہ میں وہی پولیس والاہوں جس کاایک رُعب تھا،عوام عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔میں نے استفسارکیاکہ آیاوردی سے مزاج پربھی کوئی فرق پڑاتوکہنے لگا کہ بھئی خاک فرق پڑھناہے؟۔۔کیسافرق؟۔۔کوئی فرق نہیں میرے بھائی،ٹکے کافرق نہیں پڑا۔۔آپ نے نہیں دیکھی پچھلے دنوں ٹی وی پرفوٹیج چلی ہے،وہی چھتر،وہی پولیس والے اوروہی تفتیش کاطریقہ کار،وہی گالم گلوچ ،کچھ بھی تونہیں بدلا،اُلٹاجوایک عزت تھی وہ بھی جیسے خاک میں مل گئی ہو اورخاک وردی پہ لگ جائے تووہ مٹیو مٹی ہوجاتی ہے جودھونے سے بیگم کے ہاتھ بھی چھلتے جارہے ہیں۔۔

مجھے اہلکارکی داستان غم سن کرپھرقومی خزانے کاخیال آیا،،شایدکہیں سے سوراخ تھا،کہیں سے وردیوں کے نام پردیہاڑی لگی ہے،میراخیال ہے،شایدایسانہ بھی ہو،آپ بھی غوروفکرکرلیں کیوں کہ اہل منطق کاکہناہے کہ غوروفکرہی کسی نتیجے پرلے کر جاتاہے۔۔

مجھے ایک بارپھرقومی خزانے کی فکردامن گیرہورہی ہے کیوں کہ آج صبح ہی ایک بڑے اخبارکی ویب سائٹ نے ذرائع سے یہ خبردی ہے کہ پولیس کی ایک بارپھروردی بدلنے کی بات ہورہی ہے اوراس بارسب کچھ وزیراعلیٰ خودفائنل کریں گے۔۔یعنی کہ “میاں صاحب تسی وی؟؟”

بحرحال میاں صاحب آپ جوچاہیں کریں،ہمیں اعتراض نہیں مگرقومی خزانے کوچوہوں اورکیڑے مکوڑوں سے بچائیں،یہ خیال ضروررکھیں کہ یہ حشرات الارض کہیں آپ کے محلات سے گزرکرتونہیں آتے،کیوں کہ خزانے کولوٹنے والے بہت تیزہیں ۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *