Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > پانامہ فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟؟رائے صابر حسین

پانامہ فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟؟رائے صابر حسین

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ جوکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس اعجاز افضل خان،جسٹس گلزار احمد،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تھا، نے 23فروری کو 26روز تک سماعت کے بعد پاناما سکینڈل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے جمعرات کی دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔ دوران سماعت ہر فریق کو تسلی بخش وقت دیا گیا اور ایک ایک نکتہ پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ تاریخی فیصلہ ہوگا تاہم تمام سیاسی تجزیہ کاراِس بات پر شروع دن سے ہی متفق ہیں کہ فیصلہ ملکی سیاست پر ان گنت اثرات مرتب کرے گا۔
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان اور شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے تمام اہم رہنماؤں کو اسلام آباد طلب کر لیا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس کے بجائے جاتی عمرہ رائے ونڈ میں ڈیرے ڈال لیے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور امیر جمعیت علماءاسلام فضل الرحمن بھی اپنے اہم رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی نے بھی سانس روک رکھا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی حالت پنجابی زبان کے محاورے کے مطابق جو جیتے گا وہ اُس کے ساتھ ہو گی۔
سپریم کورٹ کی کازلسٹ جاری ہوتے ہی لاہور کی سڑکوں پر وزیراعظم نواز شریف سے وفاداری کے بینر لگ گئے جن پر نعرہ درج ہے”قائد تیرا ایک اشارہ،حاضر حاضر لہو ہمارا”۔ خواجہ سعد رفیق کے حلقہ انتخاب میں لگنے والے بینرز کیا ماضی کی اُن تلخ حقیقتوں کی پردہ پوشی کر سکیں گے جب میاں نواز شریف کو اِس “لہو” کی ضرورت تھی تو تمام چوری کھانے والے مجنوں گھروں میں دبک بیٹھے تھے۔ اُس وقت یہ نعرے گلی محلوں میں عام سنائی دیتے تھے کہ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر بارہ اکتوبر 1999ءکی شب کوئی سڑکوں پر نہ نکلا۔ دوسری طرف خاتون اول محترمہ کلثوم نواز اکیلی سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلاتی رہیں۔ لاہور کی سڑکیں سنسان ہی دکھائی دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کی بار کیا ہوگا؟
سپریم کورٹ سے پاناما سکینڈل کیس سے متعلق فیصلہ کیا آتا ہے، یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر کچھ قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ماہرین قانون کے تجزیوں اور حالات و شواہد کے جائزہ سے خاکسار اِس نتیجے پر پہنچا ہے کہ میاں نواز شریف اب شاید مزید وزیراعظم نہ رہیں۔ اُن کی براہ راست نااہلی بھی ہو سکتی ہے اور احتساب کمیشن سے کلئیرنس تک کوئی بھی سرکاری عہدہ نہ سنبھالنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ اِس بات کو کوئی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ انہیں سپریم کورٹ سے کلین چٹ مل جائے گی۔
مسلم لیگ ن کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر پاناما سکینڈل کیس کا فیصلہ میاں نواز شریف کیخلاف آتا ہے تو ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو دس دس کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کے نام پر دیے جائیں گے اور وہ اِن فنڈز سے لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی فیصلہ آیا، وہ عوام میں جائیں گے۔ پیپلز پارٹی انتخابی مہم کا اعلان کرنے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ ہو سکتا ہے، جماعت اسلامی بھی سڑکوں پر آئے اور اپنے بعض خدشات کا اظہار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں ملک میں ریلیوں کا ایک سیلاب امڈ آئے گا۔
ریلیوں کے دوران مختلف جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوں گے جو خوفناک شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جائیں گی۔ یہ فساد اِس قدر پھیلے گا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کرپٹ اور نااہل افراد کیخلاف مل کر ”آپریشن ردالفساد “ کرنے پر مجبور جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *