Sunday , November 18 2018
ہوم > کالم > الیکشن سے پہلے- عبدالقادر حسن

الیکشن سے پہلے- عبدالقادر حسن

اس سے پہلے کہ میرے ایڈیٹر مجھے بھولنا شروع ہو جائیں اور ایک اردو محاورے کے مطابق مجھے بستہ فراموشی میں پھینک دیں اور میرے قارئین بھی مجھے ایک ’لکھنے والا‘ کے طور پر یاد کرنا شروع کر دیں عقلمندی اسی میں ہے کہ میں اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کو ضایع نہ ہونے دوں اور قارئین کرام کے ساتھ اپنے عمر بھر کے رشتے کو کمزور نہ ہونے دوں۔ ابھی تک یہ سب اختیار اور قابو میں ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے بعض لکھنے والوں کا کاغذ قلم پر اختیار کمزور پڑ گیا ہے اور وہ جیتے جی اپنی اس عمر بھر کی دولت اور کمائی سے محروم ہو گئے۔
انھوں نے لکھنے والے رکھ لیے لیکن املاء کرانے کی عادت نہیں تھی اس لیے وہ اس طرح بول نہ سکے جس طرح لکھ سکتے تھے۔ ایسا ہی ایک مشہور اور مقبول عام لکھنے والے نے مجھ سے مشورہ کرنا چاہا کہ اب میں کیا کروں تو میں نے بلا تأمل عرض کیا کہ بہت لکھ لیا ہے اب بس کر دیں اور ذہن میں کچھ باقی رہ گیا ہے تو اسے کسی ساتھی کے حوالے کر دیں لیکن ذہنوں میں جو مواد باقی رہ جاتا ہے وہ منتقل نہیں کیا جا سکتا یہ خود ہی لکھا جاتا ہے اور اسی ذریعے سے باہر جاتا ہے۔ میں نے تحریر پر قابو رکھنے والے کئی جید لکھنے والے دیکھے کہ انھوں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیے اور بادل نخواستہ چپ ہو گئے اس طرح دل و دماغ پر انھوں نے جو جبر کیا وہ ان کی زندگی بھی لے گیا کہ اس عمر میں وہ تحریر کے ذریعے ہی سانس لے سکتے تھے۔
ادھر تحریر بند ہوئی اور ادھر سانس بند ہو گیا اور ہم نے ان کے جنازوں میں شرکت کی اور سوچا کہ اگر وہ حکمت سے کام لیتے اور ’سانس‘ کا یہ سلسلہ بھی جاری رکھتے تو ابھی ان کی تحریر کی عمر باقی تھی اس میں تازگی تھی اور جان بھی لیکن انسان بعض اوقات اپنے ساتھ بھی دشمنی پر اتر آتا ہے اب میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ ہمارے کن دوستوں نے ضد کی اور خود ہی تحریر کے ذریعے آنے والے سانس کو بند کر دیا۔ میں اپنے ایسے ہی ایک دوست سے ملنے گیا تو وہ کچھ پریشان دکھائی دیے۔
ان کا علاج ان کی تحریر کا شوق تھا جسے انھوں نے ترک کر دیا تھا نتیجہ وہی نکلا جو ایسی صورت حال میں نکلا کرتا ہے وہ تحریر کے بغیر زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے اگرچہ انھوں نے اپنے آپ کو بہت دھوکا دیا اور لکھتے لکھاتے رہے لیکن ان کی قوتوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ان کا قلم ان کے ہاتھ سے گر ہی گیا جس کا نتیجہ اس قلبی بندش کی صورت میں ظاہر ہوا جو ان کا بوڑھا جسم زیادہ دیر تک اسے برداشت نہ کر سکا اور جب میں ان کی خیریت معلوم کرنے گیا تو انھوں نے میرا ہاتھ بہت دیر تک پکڑے رکھا مجھے اس سے اندازہ ہو گیا کہ اب انھیں ذہنی سہارے کی ضرورت ہے اور میں بدقسمتی سے ان کو یہ سہارا نہ دے سکا۔ میں خود بھی زود یا بدیر کسی ایسے سہارے کو تلاش کرنے والا تھا۔
کھانے پینے سے آپ زندگی کا سلسلہ آسانی کے ساتھ باقی رکھ سکتے ہیں لیکن قلمی خوراک جو قلم کے راستے سے ملتی ہے وہ زیادہ دیر آپ کا انتظار نہیں کرتی ورنہ وہ خراب ہو جاتی ہے اور قابل استعمال نہیں رہتی۔ میں ایک ایسے ’بھوکے‘ سے ملنے گیا خوشی تو ظاہر ہے کہ بہت زیادہ تھی لیکن اس کے ساتھ یہ احساس بھی تھا کہ یہ خوشی عارضی ہے کیونکہ وہ خوراک ختم ہو گئی ہے جو ایسی کسی خوشی کو زندہ رکھتی تھی۔ انسان جو بھی آیا ہے وہ جانے کے لیے آیا ہے اور جس قدر جلدی چلا جائے اتنا ہی بہتر ہے معلوم نہیں لوگ طویل العمری کی دعائیں کیوں مانگتے ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہو گی اور ہونی بھی چاہیے۔
ایک نہایت ہی حقیقت پسند دوست نے اپنی ملاقات میں مجھ سے کہا کہ میری نجات کی دعا مانگو اور وہ بھی جلد از جلد کیونکہ میں جیسا بھی ہوں اس میں کسی نیکی کا اضافہ مجھے دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی گناہ کے اضافے سے پہلے میں گزر ہی جاؤں۔ اگرچہ زندگی میں نیکی بھی نہیں کمائی لیکن کوشش کی ہے کہ گناہوں سے بچ کر رہیں اب معلوم نہیں اس کوشش میں کوئی کامیابی ہوگی یا نہیں لگتا ہے کہ برابر برابر بھی رہنے کا امکان نہیں ہے۔ میں آپ ہم سب جو بھی ہیں اپنے رب کے سامنے ہیں اور وہی ہمارا حساب قدرے مہربانی سے کر سکتا ہے۔
مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان اپنے حساب کتاب سے بالکل ہی غافل رہتے ہیں۔ دنیا کا کون سا پہلو ہے جس میں وہ دخل نہیں دیتے اور حساب کتاب نہیں کرتے ان دنوں خطرہ ہے کہ الیکشن جلدی نہ ہو جائیں چنانچہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے سیاستدان نئی نئی پارٹیاں بدل رہے ہیں اور ادھر ادھر سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ سیاسی مستقبل کہاں محفوظ ہو سکتا ہے ایک جید سیاستدان نے جب مجھ سے پوچھا کہ سیاسی پارٹی کون سی زیادہ بہتر رہے گی میں نے عرض کیا کہ آپ کی پارٹی۔ پوچھا کیا مطلب عرض کیا کہ اپنے دل سے پوچھیں کہ آپ نے عوام کے لیے کیا کیا ہے کہ آج آپ ان سے کوئی امید باندھ رہے ہیں۔
عوام ایک بے رحم طبقہ ہے جو ہر لیڈر کا حساب کتاب رکھتا ہے اور عوام کے دلوں میں ہر لیڈر کا کھاتہ کھلا ہوا ہے کوئی لیڈر بھی جب عوام کے پاس جاتا ہے خواہ وہ فاتحہ خوانی کے لیے ہی جائے تو عوام ان کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس لیڈر کا کھاتہ کھول لیتے ہیں اور یہ ایک ایسے بنئے کا کھاتہ ہے جس میں حساب کتاب کی کوئی بے ایمانی نہیں ہوتی جو حساب کتاب ہے صاف صاف لکھا ہوا ہے کسی قسم کی ہیرا پھیری نہیں ہے اگر کوئی ہے تو وہ لیڈر کے کھاتے میں ہے۔ ہمارے ہاں اگر کھاتہ صاف ہوتا ہے تو وہ سیاست کا ہے۔ ووٹر اور لیڈر کے دل میں پورا حساب کتاب موجود ہے اور جب بھی کوئی گردن جھکاتا ہے سب دیکھ لیتا ہے۔ یار کی تصویر کی طرح کہ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔
ہر الیکشن میں ہر امید وار کو علم ہوتا ہے کہ اس کے کتنے ووٹ ہیں اور ووٹروں کے سامنے اس کی اوقات کیا ہے چنانچہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ امیدوار اپنے انتخابی مستقبل سے واقف ہوتے ہیں وہ جب بھی عوام کے کسی اجتماع میں جاتے ہیں خواہ وہ فاتحہ خوانی ہی کیوں نہ ہو ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کی سیاست اور مقبولیت کتنے پانی میں ہے اور کس نے ان کے سلام کا جواب کس انداز میں دیا ہے۔ سیاست ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس میں کوئی راز نہیں رہتا ہے سب کچھ چہروں پر لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے اور تجربہ کار سیاستدان چہرے پڑھ لیتے ہیں اور اپنی سیاست کا اندازہ کر لیتے ہیں ووٹر درحقیقت بہت بے حیا ہوتا ہے اور زیادہ دیر تک اپنے آپ کو چھپا نہیں سکتا۔ ایک ووٹر کا چہرہ ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے جو سب کچھ بتا دیتا ہے کوئی راز نہیں رہتا ہے کہ سیاست کا شعبہ سب کچھ بتا دینے والا شعبہ ہوتا ہے۔ ووٹر اور امید وار دونوں سب جان رہے ہوتے ہیں اور سب جلد ہی الیکشن میں سامنے آ جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *