ہوم > کالم > پانامہ کا فیصلہ ۔۔وزیراعظم نااہل نہیں ہوں گے۔۔۔۔تحریر/حسن تیمورجھکڑ

پانامہ کا فیصلہ ۔۔وزیراعظم نااہل نہیں ہوں گے۔۔۔۔تحریر/حسن تیمورجھکڑ

میربھی کیاسادہ ہیں کہ ہوئےبیمارجس کےسبب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی عطارکےلونڈے سےدوالیتے ہیں۔

مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بقول وزیراعظم کمیشن کے سامنے نہیں بلکہ کمیشن ان کے سامنے پیش ہوگا۔۔۔ ایک ادنی افسرکی ملک کےطاقتورترین سیاستدان کےسامنے کیا بساط ہوگی۔۔ملک میں کرپشن کی روک تھام کےلیے بنائے گئے یہ ادارے اب تک اس کے فروغ کا ہی ذریہ بنے ہیں ۔۔۔ ۔ ایک برس قبل شروع ہونے والے پانامہ کا ہنگامہ اب حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔۔ پاکستان کی اعلی ترین عدالت کی جانب سے لمباعرصہ لٹکائے جانے کے بعد اسے اپنے ایک ماتحت ادارے کے سپردکرکے فی الوقت جان بچالی گئی ہے (اپنی بھی ،وزیراعظم کی بھی) ۔۔ دو تین کےتناسب سے آنے والے فیصلے کےمطابق وزیراعظم کی جانب سے دئیے گئے ثبوتوں کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنادی گئی ہے ،، جو وزیراعظم اوران کےاہلخانہ کاٹرائل کرکے حتمی رپورٹ 60روز میں پیش کرینگے ۔۔ ہمارے ایک محترم سینئر کالم نگارآصف محمودصاحب نے اپنی تحریر میں اسے شاندار فیصلہ قراردیتے ہوئے بتایاہے کہ جے آئی ٹی بناکر ٹرائل کورٹ نہ ہونےکا سقم پورا کیاجارہاہے ۔۔تاکہ کوئی بھی نتیجہ آنے پہ یہ نہ کہاجائے کہ سپریم کورٹ نے بغیرٹرائل کیے فیصلہ سنایا ہے ۔۔۔ قانونی طور پہ ان کی یہ بات سمجھ میں پڑتی ہے ،،مگر ہمارے مروجہ سیاستی ،معاشرتی نظام اور ماضی کےتجربات بتاتے ہیں کہ ایک ماتحت ادارے کے کم سطح کے افسرکی سربراہی میں بننے والا کمیشن کس قدر موثرتفتیش کرسکےگا۔۔ پاکستان کی اعلی سطح کی عدالت کی جانب سے اس قدر سطحی فیصلے کی توقع نہ تھی ۔۔ اگر ٹرائل کی ضرورت پوری کرنے کےلیے جےآئی ٹی ہی بنانی تھی تو پھر اتناعرصہ لٹکانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔ بلاوجہ قوم کا پیسہ،وقت اور توانائی ضائع کرکے عدلیہ نے اپنے اوپرعوامی اعتماد میں مزید کمی کرلی ہے ۔۔۔ماضی میں بھی ایسی تفتیشی ٹیمیں بنتی رہی ہیں جن میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کےعہدیدار بھی شامل رہے ہین ۔۔ یہ جے آئی ٹی یا تحقیقاتی کمیشن کس قدر موثر ہوگی اس کااندازہ ماضی کی کچھ مثالوں سے ہی واضح ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ ماضی میں سانحہ خروٹ آباد،سانحہ ماڈل ٹاؤن،سانحہ اےپی ایس ،عزیربلوچ کیس،میموگیٹ اسکینڈل، اجمل پہاڑی کیس،رحمان بھولا کیس سمیت کئی دیگر اہم معاملات میں جے آئی ٹیز یا کمیشن بنے ۔۔۔ اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔۔۔سوشل میڈیاپہ ایک دوست کی دلچسپ بھپتی بھی یقینا قابل غورہے کہ کاش بھٹو کےمعاملےپہ بھی جے آئی ٹی بنادی جاتی تویقینا اسے پھانسی نہ ہوپاتی اور وہ طبعی موت مرتا۔۔۔۔ان اداروں کی یہ کارکردگی دیکھنے کے بعد شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کہ یہ جے آئی ٹی کیا کرنے والی ہے ۔ وزیراعظم کی شدید خواہش ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنی حکومت کی آئنی مدت پوری کرکے قبل ازوقت ختم ہونےوالی حکومتوں کی ہیٹ ٹرک سے بچیں ۔۔۔مگر خان صاحب کو یہ بات کون سمجھاے،وہ تو ہاتھ منہ ،پیر سب کچھ دھوکرہی وزیراعظم کےپیچھے پڑیں۔۔مگرافسوس شائد اس میدان میں بھی ان کو منہ کی کھانی پڑے ۔۔ کیوں کہ ابھی عوام تو عوام ،،عدلیہ بھی اتنی باشعور نہیں ہوئی ۔۔ ماضی کےتجربات ،سیاستدانوں کی اخلاقیات ، ہمارے اجتماعی شعور کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ وزیراعظم نااہل نہیں ہونگے ۔۔ (البتہ کسی ڈیل کےتحت ان کااقتدار سے الگ ہونا اگرچہ ممکن ہے )۔۔عدلیہ میں بیٹھے اعلی ذہن کس طرح وزیراعظم کی خواہش پوری کرینگے یہ ایک الگ سائنس ہے ۔۔ کچھ قیاس آرائی اس مد میں کرلیتے ہیں۔۔ ذیل میں کچھ حساب کتاب پیش خدمت ہے جس کے بعد اپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ وزیراعظم کس طرح بچ سکیں گے۔۔60دن کا مطلب ہے 20 جون یعنی قریب قریب عید الفطر،،جے آئی ٹی اپنی رپورٹ پیش کریگی جو یقینا عیدالفطر کےباعث محفوظ کرلی جائیگی ۔۔۔ فیصلہ محفوظ کا مطلب ہے مزید 60دن ۔۔۔ 20اگست یعنی عیدالاضحیٰ کے نزدیک متوقع فیصلہ یہی ہوگا کہ جوڈیشل/الیکشن کمیشن کےپاس بھجوادیاجائیگا ۔۔۔یعنی مزید 60 دن ۔۔20اکتوبر کو اس کمیشن کا فیصلہ محفوظ ہوگا جو یقینا20دسمبر کوسنائے جانے کاامکان ہوگا ۔۔۔ اور اگر یہاں انسانی ہمدردی کے تحت 30سے60روز شامل کرلیے جائیں تو حکومت کاوقت ویسےہی پورا ہوجائیگا جس کےبعد اصولی طورپہ وزیراعظم نااہل ہوہی نہیں پائیں گے کیوں کہ وہ اس وقت تک شائد وزیراعظم ہوں بھی نہ۔۔ یاپھر گونگلوں سے مٹی جھاڑنے جیسے محاورے کی عملی تفسیر بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ محض الیکشن سے چندروز قبل ان کو ڈی سیٹ کرنے کاحکم جاری کرکے عوام کو بے وقوف بنایاجائے۔۔(یہ محض قیاس آرائی ہے ) اب اس حساب کتاب کے بعد تو چودھری شجاعت کی بات یقینا سب کی سمجھ میں آرہی ہوگی کہ وزیراعظم کمیشن کے سامنے نہیں بلکہ کمیشن ان کے سامنے پیش ہوگا۔۔۔ جہاں عدلیہ بھی جھک جائے،وہاں ایک ادنی افسرکی ملک کےطاقتورترین سیاستدان کےسامنے کیا بساط ہوگی۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *