Wednesday , November 14 2018
ہوم > کالم > زراعت کی زبوں حالی اورکسان کی محرومی ۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

زراعت کی زبوں حالی اورکسان کی محرومی ۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

معیشت کاانحصارکسی بھی ملک میں تین ہی شعبوں پرہوتاہے ،زراعت،تجارت اورصنعت میں سے کوئی ایک شعبہ متاثرہوتوسمجھیں ترقی کاپہیہ رُک گیا،چندروزقبل ایک عزیزکی دعوت ولیمہ میں شرکت کے لیے آبائی علاقہ حافظ آباد جانے کااتفاق ہواتوبہت سے کسانوں سے بھی ملاقات ہوئی جن میں سے زیادہ ترکوزراعت سے حاصل ہونے والی آمدن پرغیرمطمئن پایا،سوچاآئندہ انہیں کی آوازبلندکی جائےاس لیے آج کی سطوراپنے کسانوں بھائیوں کے نام ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری حکومت کی ترجیحات ہماری بنیادی ضروریات کومدنظررکھ کرنہیں متعین کی گئیں،حکومت سیدھی راہ چلنے کی بجائے چندافرادکے مفادات کے راستوں پرچلتی نظرآتی ہے،زراعت کاشعبہ بھی شایدعوام کی طرح زبوں حالی کاہی شکار ہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکمرانوں میں زیادہ ترلوگ ایسے ہیں جوروٹی توگندم کی کھاتے ہیں مگرشایدانہیں آج تک گندم کے پودے کی اہمیت کااندازہ نہیں اورشایدوہ ابھی تک یہ فرق بھی معلوم نہ کرپائے ہوں کہ گندم درختوں پرلگتی ہے یاپھراس کے کھیت ہوتے ہیں۔سب سے پہلے زرعی شعبے کی اہمیت کوسجھنے کی ضرورت ہے تبھی جاکراس کی حالت بہترکرنے کی طرف بھی توجہ دی جاسکتی ہے،اس شعبے کواس طرح سمجھاجاسکتاہے کہ یہ شعبہ خوراک کی فراہمی کیساتھ ساتھ صنعتوں کوخام مال بھی مہیاکرتاہے گویاکہ مجموعی طورپرشہری ودیہی آبادی کی زندگی کی بقااس شعبہ کی بقاکی مرہون منت ہے اورصنعتکارکی چمکدارگاڑیوں ،ٹھنڈے گھروں اوردفاترکے ییچھے بھی درحقیقت محنت کش کسان کاہی خون پسینہ ہے مگرجواپنے شب وروزکاآرام قربان کرکے خوراک فراہم کرتاہے وہ خودبنیادی ضروریات سے ہی محروم ہے،زیادہ تر کسان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں کیوں کہ اخراجات برداشت کرنااس کے ناتواں کندھوں کے بس کی بات نہیں،اگرکہیں کوئی کسان کابیٹاافسربناہے تووہ تین ہی صورتیں ہیں یاتووہ بڑے زمیندارکابیٹاہوگایاپھرقرضوں کے بوجھ تلے دبے کسان کابیٹاہوگا،تیسری صورت بہت کم ہے اوروہ ہے سکالرشپ،سکالرشپ ایک قسمت کی دیوی ہے جوہرکسی پرمہربان نہیں ہوتی کیوں کہ جس کسان کے بیٹے نے سکول سے واپس آکربھینسیں چراناہوں،جس کسان کے بیٹے نےاپنے بوڑھے باپ کوکھیتوں میں ہاتھ بٹاناہو،اسے پڑھائی کے لیے کتناوقت ملے گایہ دیہات میں رہنے والاشخص ہی سمجھ سکتاہے۔۔

اگردیگرمسائل کاذکرکریں تووہ بھی خوفناک صورتحال ہے،ایسالگتاہے جیسے کسان کاکوئی پرسان حال ہی نہیں،غلط پالیسیوں نے زراعت کاجیسے بیڑہ ہی غرق کرکے رکھ دیاہے،کبھی تویہاں پانی سےتباہی ہوتی ہے توکہیں  پانی نہ ہونے سے زمینیں بنجرپڑی ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہرسال ملک کاتقریبادواعشاریہ تین بلین کیوبک میٹرپانی ڈیم نہ ہونے سے ضائع ہوجاتاہے،دوسری جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل نئے ڈیموں کی تعمیرکےذریعے ہمارے حصے کے پانی پر بھی ڈاکہ ڈال رہاہے مگرہمارےہاں  ڈیموں کوسیاست کی نذرکیاجارہاہے اورہرسال ہم جہاں پانی سے پریشان ہوتے ہیں وہی اسے ذخیرہ نہ کرکے بڑانقصان بھی اٹھاتے ہیں۔کاش یہ ڈیم بھی میٹروبس ہوتے ہیں جومحدودوقت میں تعمیرہوجاتے ہیں۔

ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کسان سے گندم،چاول اورگنااونے پونے داموں خریدکرصنعتکاراپنی جیبیں بھرلیتے ہیں مگرکسان کواس کااصل حق نہیں مل پاتا،اوپرسےکسان کوفروخت کی جانے والی کھادیں،بیج اورزرعی ادویات اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ کسان آڑھتی کاسہارالیے بغیرفصل کوتیارنہیں کرپاتااورنتیجتا فصل اٹھاکرساری کی ساری آڑھتی کی جھولی میں ڈال دیتاہےجب کہ اپنی جھولی خالی لے کرواپس کھیتوں میں چلاجاتاہے جہاں پھرایک نئی امیدکیساتھ قسمت آزمائی شروع کردیتاہے۔۔

کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ اچھی بھلی فصل جس پرکسان صدقے واری جارہاہوتاہے،عین وقت پرسیلاب آکرسب کچھ ملیامیٹ کردیتاہے،اس کے بعدحکومتی خزانوں کے منہ بڑے جاگیرداروں کے لیے کھل جاتے ہیں اورچھوٹا کسان پھرمحروم ہی رہ جاتاہے۔۔یہ منظرمیں نے خوداپنی آنکھوں سے بھی دیکھاہے کہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کوایک پائی کی بھی مددنہیں ملی اورجن کاذرہ برابربھی نقصان نہ ہواانہوں نے حکومتی امدادسمیٹ لی جس کے پیچھے اقراء پروری کی سوچ کارفرماتھی،کس طرح امدادی پیکٹوں سے پانی اورخشک دودھ غائب کیاگیا،سب تماشا دیہات کے غریب کسانوں نے دیکھا۔۔خیربات پرانی ہے مگرضمناذکرکرناپڑگئی۔

شہروں کی سڑکیں بہت خوبصورت ہوچکی ہیں اب حکومت کودیہات کابھی رخ کرناہوگااورگندم کااچھا ریٹ دے کرغریب کسان کومحرومی سے نکالناہوگاتاکہ شعبہ زراعت ترقی کرے جس سے ملکی ترقی کی رفتاربھی بڑھے گی۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

ایک تبصرہ

  1. کسانوں کےلیے بہت کچھ لکھنے ،کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ اپ آواز بلند کرتے رہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *