Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > سراج الحق اور جماعت اسلامی کا مستقبل۔۔۔تحریر/محمدنورالہدیٰ

سراج الحق اور جماعت اسلامی کا مستقبل۔۔۔تحریر/محمدنورالہدیٰ

مجھے سراج الحق کی یہ خوبی بہت بھاتی ہے کہ ان میں تکبر نہیں ہے ۔ راہ چلتے کوئی سیلفی لینے یا ملنے کیلئے جتنی بار بھی روکے ، وہ ہنسی خوشی وقت دیتے ہیں ۔ غصہ کرتے ہیں نہ ہی منع …. ہر فرد کو اس گرمجوشی سے ملتے ہیں جیسے پہلے سے ہی اسے جانتے ہوں ۔ ایک سیاسی لیڈر کا یوں عوام میں گھلنا ملنا اور اس کے نتیجے میں عوامی پذیرائی حاصل ہونا بلاشبہ اس لیڈر کی پسندیدگی کی دلیل ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت سیاستدان سراج الحق ایک تجربہ کار ، وسیع النظر اور معاملہ فہم عوامی لیڈر ہےں ، جو حالات کی نزاکت کا ادراک رکھتے اور وقت کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حالات کی بدلتی ہوئی جہتوں میں نہ صرف خود کو ڈھالا ہے بلکہ اپنی پارٹی کو بھی حالات کے دھارے میں لانے کی ہر ممکن کوشش اور بھرپور محنت کررہے ہیں ۔
جماعت اسلامی اپنی حالیہ مہمات ”خوشحال پاکستان فنڈ مہم“ اور ”رابطہ عوام مہم“ برائے راست عوام سے رابطے کا ذریعہ گردان رہی ہے …. تاہم جب یہ کہا جاتا ہے کہ ”مایوس قوم“ کی نظریں جماعت اسلامی کی طرف ہیں ، تو مجھے ہنسی آتی ہے کہ یہ کس قوم کی بات کی جارہی ہے ؟ جس میں احساس کا قحط ہے؟ ۔ جو خود سانپوں کو دودھ پلاتی ہے اور اس کے ڈسنے پر بعد میں خود ہی روتی ہے ؟ ۔ جو وقت گزرنے کے بعد اپنی قسمت پر آنسو بہاتی ہے ، لیکن پھر بھی اپنا استحصال کرنے والوں کے حق میں نعرے لگاتی ہے ؟ جو سہولیات اور وسائل کی دستیابی اور مسائل کے حل کے نام پر ہر مرتبہ لالی پاپ چوستی ہے ، مگر جب منتخب کرنے کی باری آتی ہے تو معیشت دشمنوں کا انتخاب کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی ؟ …. جماعت اسلامی کے سربراہ کا بڑا پن ہے کہ حالیہ مہم میں انہوں نے اسی عوام سے ”اعتماد“ مانگا ہے ۔ ”سراج الحق کو اعتماد دیں“ کا سلوگن لئے جماعت اسلامی کے کارکنان گھر گھر جا کر عوام میں ”©شعور بیدار“ کررہے ہیں …. یہ الگ بات ہے کہ اعتماد مانگنے ابھی تک میرے پاس جماعت اسلامی کا کوئی فرد نہیں آیا ۔
بہرحال سراج الحق نے ایک کڑے وقت میں اپنی ”محنت“ کا آغاز کیا ہے جب جماعت اسلامی سیاسی طور پر بری طرح مسترد ہوتے چلی آرہی ہے ۔ جماعت اسلامی اب ماضی جیسا پریشر گروپ نہیں رہی ۔ ایسے میں سراج الحق نے اپنی پارٹی کا مقام بحال کرنے اور اسے مایوسی سے نکالنے کی ٹھانی ہے ، تو یہ نہ صرف حالات کا تقاضہ تھا ، بلکہ ان کے کارکنوں کی بھی آواز تھی ۔
 اس امر کو جھٹلایا ممکن ہی نہیں کہ رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے جماعت اسلامی کی کوششیں تاریخی ہیں ۔ اس فکری آبیاری کا سہرا کبھی قاضی حسین احمد مرحوم کے سر ہوا کرتا تھا …. بعد ازاں منور حسن آئے مگر اعتماد نہ بناسکے ، بلکہ پارٹی کا مورال ڈاﺅن ہوا …. سراج الحق اپنی سیاسی بصیرت اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے جماعت اسلامی کا کھویا وقار بحال کرنے اور گذشتہ سالوں کی کوتاہیاں دور کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں اور ماضی کی نسبت ایک تبدیل شدہ جماعت اسلامی متعارف کروا رہے ہیں ۔ اب ان کی قیادت میں جماعت اسلامی جہاں ایک جارحانہ سیاسی حکمت عملی اپناتی جارہی ہے وہیں میڈیا میں بھی دوبارہ زندہ ہوئی ہے ۔ یوں بھی کہہ لیں تو بے جا نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی آہستہ آہستہ میچور اور مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہوتی جارہی ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے ، کہ اس سے سیاسی منظرنامے میں مقابلے کی فضا پیدا ہوگی ۔
تاہم یہ امر ضرور قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی کی یہ کوئی پہلی رابطہ عوام مہم نہیں ہے ۔ اس سے قبل بھی ایسی کئی مہمات ”لانچ“ ہوئیں ۔ کارکنوں کو ٹارگٹ دئیے گئے ، پیپر ورک ہوا ، محنت ہوئی ، دعوے ہوئے ، مگر جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ نہ ملا ۔ کیا اس پر جماعت اسلامی میں کبھی غور و حوض ہوا؟ فرق نہ پڑنے کا واضح مطلب یہی ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکن نچلی سطح پر ویسے منظم نہیں ہیں جیسا انہیں ہونا چاہئے ۔ ہر مرتبہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ممبر سازی مہم کے ذریعے جماعت اسلامی اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اتنے ڈھیر سارے ممبرز اس کا ووٹ بینک بڑھانے میں معاون ثابت ہونگے …. مگر یہ مہم ہر مرتبہ بیکار محنت ثابت ہوتی اور بوقت ضرورت جماعت اسلامی کو منہ کی کھانا پڑتی ہے ۔
جماعت اسلامی کے لوگوں کو سراج الحق جیسی محنت کرنے کی ضرورت ہے ، مگر وہ ایسا نہیں کررہے ۔ سراج الحق کو چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کو نچلی سطح پر رابطے یقینی بنانے کی واضح ہدایات دیں ۔ امرائے اضلاع اور امرائے صوبہ جات سے استفسار کریں کہ وہ عوام میں اب تک کیوں اپنا آپ متعارف نہیں کروا پائے ۔ ؟ مثلاً ، لاہور جماعت کے امیر ہی کی مثال لے لیں ، انہیں عام عوام جانتی ہے اور نہ ہی بیٹ رپورٹر سے ہٹ کر کوئی اور صحافی ان کے نام سے آگاہ ہوگا …. یہی حال پنجاب کے امیر کا بھی ہے اور دیگر شہروں اور صوبوں کے ذمہ داران کا بھی ، (ماسوائے سندھ اور کراچی کے امیر کے )…. جب ایک عام فرد ان سے واقف نہیں ہے تو مہمات کیسے کامیاب ہوسکتی ہیں اور ووٹ کیسے ملے گا؟۔ حد تو یہ بھی ہے کہ یہ لوگ جب پبلک میں نکلتے ہیں تو عوام انہیں پہچاننے سے قاصر ہوتی ہے …. جماعت اسلامی کے نچلی سطح کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ تھانوں ، کچہریوں اور سرکاری محکموں میں اپنی شناخت بنائیں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ان کے ساتھ مطلوبہ مقامات پر جائیں ۔ ہر یوسی میں جماعت اسلامی کے دفتر کو ”پبلک پلیس“ ڈکلیئر کیا جائے ، جہاں لوگ داد رسی کیلئے آئےں ۔ یوسی کے یہ ذمہ داران لوگوں کے ساتھ ان کے مسئلے کے حل کیلئے تھانے ، کچہری میں جائیں ۔ پریشانیوں کو تقسیم کریں ، ان کےلئے آسانی کا ذریعہ بنیں ، تبھی جماعت کا سیاسی مستقبل بہتری کی جانب گامزن ہوگا ۔ یوسی کا یہی ذمہ دار اگر کسی وقت الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنی عوام دوستی کی وجہ سے وہ کیسے اسمبلی میں نہیں پہنچے گا؟ یا پھر اگر وہ اپنے کسی امیدوار کی سفارش کرے گا تو اس کے اہل علاقہ کیسے اس کی بات کو رد کریں گے؟ عوام کو کام چاہئے ، اگر کوئی فرد بغیر منتخب ہوئے ان کے مسائل حل کررہا ہے تو بوقت ضرورت اسے باقاعدہ منتخب کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کریں گے ۔
جس طرح کراچی کے امیر نے اپنے آپ کو عوام اور میڈیا میں متعارف کروا رکھا ہے اور کراچی میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کے تناظر میں ذرائع ابلاغ خود ان سے رابطہ کرکے موقف لیتے ہیں ، ایسے ہی لاہور یا پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر ان کے امرائے اضلاع یا امرائے صوبہ سے میڈیا کا مضبوط تعلق ہونا چاہئے ، عوام میں ان کی جان پہچان ہونی چاہئے ، لیکن ایسا نہیں ہوتا …. ذرائع ابلاغ میں عدم تعارف یا کم از کم عوام میں نہ گھلنے ملنے کی وجہ سے ہمیں ٹاک شوز یا بیپر وغیرہ پر ہمیشہ گنے چنے جماعتی قائدین ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ جس طرح ہر فرد سراج الحق اور لیاقت بلوچ کو پہچانتا ہے ، اسی طرح دیگر عہدیداروں سے کم از کم ان کا شہر اور محلہ ضرور واقف ہونا چاہئے …. جماعت اسلامی اگر اس خامی پر قابو پالے تو کامیابی کے سفر کا آغاز کرپائے گی ، وگرنہ صرف سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، فرید پراچہ ، حافظ نعیم ، معراج الہدیٰ وغیرہ کا نام ہی جماعت اسلامی ہوا کرے گا ۔
یہ امر حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس ایک سے ایک اچھی پراڈکٹ ہے ، مگر اس کی مارکیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے ناکامی کا سامنا رہتا ہے ۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے میڈیا سیل نے اسے ذرائع ابلاغ میں جگہ دلانے کیلئلے بہت محنت کی ہے ، نتیجتاً آج اس کے مرکزی امیر کا بیان اخبارات کے فرنٹ اور بیک پیج پر شائع ہوتا ہے ، جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا ۔ ماضی میں تو ٹی وی چینلز بھی جماعت اسلامی کے ساتھ ”زیادتی“ کے مرتکب ہوتے تھے ، لیکن آج الیکٹرانک میڈیا میں بھی اسے مناسب وقت دیا جاتا ہے …. مگر محض اخلاقی بالادستی ، اخباری بیانات اور پریس ریلیزیں انتخاب یا مہمات کا نعم البدل نہیں ہوسکتیں ، نہ ہی ووٹ دلاتی ہیں ۔ جماعت اسلامی کے لوگ اگر خود کو موبلائز کریں اور اپنا انتخابی رویہ تبدیل کرتے ہوئے عوام میں دلچسپی لےں ، تو اس پارٹی کے حالات بدل سکتے ہیں …. وگرنہ جتنی مرضی مہمات چلا لیں ، جتنے مرضی جلسے کرلیں ، سراج الحق کی پارٹی کو عوام کا اعتماد نہیں ملے گا ۔
جماعت اسلامی کے کارکنوں اور ذمہ داران کو یہ امر ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا کہ سراج الحق سورج کی صرف ایک کرن ہے ، بقیہ کرنیں ان کے کارکنوں کو بننا ہے تاکہ ان سے ہر تاریک کونہ روشن ہوسکے ۔ اگر ہر کارکن سورج کی طرح کرنیں بکھیرنا ،چاند اور تاروں کی طرح جگمگانا سیکھ لے ، گلاب کا پھول بن کر کردار کی خوشبو تقسیم کرنے لگ جائے تو جماعت اسلامی کا سیاسی مستقبل روشن ہوسکتا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *