ہوم > کالم > وجود ِ زَن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔اسماءاسلم

وجود ِ زَن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔اسماءاسلم

پچھلے کئی سالوں سے مشہور اور خوبصورت اداکاراﺅں کی گھریلو زندگیاں ناکام ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، مثلاً مشہور و معروف مارننگ شوز کی میزبان نادیہ خان ،ریحام خان، شائستہ لودھی اور فرح حسین کو ہی لیں تو انکی ذہانت ، خوبصورتی اور تعلیم بے مثال ہے مگر ایک ایک مرتبہ ضرور انکا گھر ٹوٹ چکا ہے۔ اسی طرح سال ۷۱۰۲ کے شروع میں ہی چند مشہور اداکاراو¾ں وینا ملک، نور اور جاناں ملک کی طلاق کی خبروں نے میڈیا اور پاکستان میں کافی سنسنی پھیلائی ہے۔ مردوں میں ٹینس سٹار اعصام الحق اور میکال حسن کے گھر ٹوٹنے کی خبروں نے بھی کافی شہرت حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مثالیں اور بھی موجود ہیں، جہاں مال و دولت ، تعلیم اور خوبصورتی خاندانی نظام کو قائم رکھنے میں ناکام نظر آئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے مشہور لوگوں کی شادیوں اور علیحدگیوں سے متعلق عام پاکستانیوں کے بیانات یا تو ہمدردانہ ہوتے ہیں یا پھر انتہائی زہریلے اور اخلاق سے گرے ہوئے۔ شادی کی خبروں پہ قریباً ہر کوئی خوشی کا اظہار کرتا ہے، مگر طلاق جیسی خبروں پہ چند لوگ تو ہمدردی کا اظہار کرتے مگرکچھ لوگ ان خواتین کو ایسے ایسے الزامات دیتے ہیں ہیں کہ خدا کی پناہ۔ گھٹیا الزامات لگانے والے عموماً وہی ہوتے ہیںجو یا تو اداکاراوُں سے آٹوگراف لینے اور ان سے دوستی کے لئے مرتے ہیں یا پھر خود کو دنیا کے سب سے پاکباز انسان سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اخلاقی اور مذہبی تعلیم کی ضرورت ہے کہ جب کوئی عورت نکاح میں بندھن میں بندھ جاتی ہے تو وہ طوائف نہیں رہتی۔ دوسرا، صرف میڈیا میں کام کرنے والی خواتین ہی گناہ گار نہیں ہوتیں، بلکہ کسی بھی شعبے کی خواتین کے پاکباز ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ کیونکہ برقع جو اسلام میں صرف پردے کی علامت ہے، آجکل تو غریب گھروں کی لڑکیاں روز ،روز کے فیشن سے اخراجات سے بچنے کے لئے بھی پہن رہی ہیں اور موسیقی کے پروگراموں میں اپنا ٹیلنٹ دکھانے والی خواتین بھی۔ لہٰذا پردہ نہ کرنے والیوں کے بارے میں بہہودہ آرائیں قائم کرنا ، بہتان لگانے کے زمرے میں آتا ہے۔
دوسری طرف، وہ اداکارائیں جو عوام کے لئے اپنی عزتیں بیچ کر انکے لئے پروگرامز کرتی ہیں، ان کے لئے نصیحت کا مقام ہے کہ ان کے دکھوں کے وقت بھی عوام ان سے نفرت ہی کرتی ہے۔ لہٰذا ملک میں بے حیائی پھیلا کے ا وراپنے گھروں کی جھوٹی خوشیوں کی داستانیں سنا کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا نہ کریں۔
یہ درست ہے کہ حلال روزی ، مقدار میں کم مگر قلبی سکون اور گھر بھر کی خوشیوں کا باعث بنتی ہے۔ غریب لوگوں کے حالاتِ زندگی دیکھے جائیں تو انمیں نہ صرف طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ ان کے بچے بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں اور تحفوں سے خوش رہتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

ایک تبصرہ

  1. بہت خوب ۔۔۔ صحیح فرمایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *