Monday , October 22 2018
ہوم > کالم > بلا عنوان۔۔۔۔۔تحریر/رائے صابر حسین

بلا عنوان۔۔۔۔۔تحریر/رائے صابر حسین

اطہر شاہ خاں نے اپنے معروف ڈرامہ “باادب با ملاحظہ ہوشیار” میں ایک ایسا کردار تخلیق کیا جو رنگیلے بادشاہ کی تمام خصوصیات کا حامل تھا۔ نااہل حکمران کی مردم شناسی کا یہ عالم تھا کہ اُس کا منتخب کردہ ہر فرد نہلے پہ دہلا نکلتا۔ ملکہ عالیہ بادشاہ سلامت کے قیلولہ کے دوران چاول چننے کے بجائے تھال میں اشرفیاں چنتی رہتیں۔ بادشاہ نے محل کے صدر دروازے سے انصاف کی زنجیر ہٹا کر پچھواڑے نصب کرا دی مگر پھر بھی فریادی آن دھکمتے۔ عالیجاہ کے برادر نسبتی جنہیں وزارت خزانہ کا قلمدان دیا گیا، دو تھیلے تنخواہوں کی مد میں اہلکاروں میں بانٹ دینے کے بعد وہ بادشاہ سلامت سے مزید رقم کا تقاضا کرتا ہے، جس پر عالیجاہ خفگی کا اظہار کرتے ہیں، بددیانت وزیر خزانہ، جس نے اضافی اشرفیاں اپنی دستار میں چھپا رکھی ہوتی ہیں، کہتا ہے:عالیجاہ! فکر نہ کریں جرمانوں کی صورت میں تمام رقم واپس لے لی جائے گی۔ بادشاہ سلامت دربار سجاتے ہیں، نالائق نامزد ولی عہد بھی ضد کر کے دربار میں بیٹھ جاتا ہے، پہلا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔ ایک مدرسہ کے مہتمم کے بارے میں انگوٹھا چھاپ وزیر تعلیم گوش گزار کرتا ہے کہ موصوف نے داروغہ شہر کے صاحبزادے کو نہ صرف اگلی جماعت میں بٹھانے سے انکار کر دیا بلکہ اُسے نکال باہر کرتے ہوئے ایک سبزی فروش کے لونڈے کو داخلہ دیدیا ہے۔ عالیجاہ مدارالمہام کو زندان میں ڈلوا دیتے ہیں کہ ہمارے امراء و اشرافیہ کے بچوں کو داخل نہ کرنے کی سزا ضرور ملے گی۔ بادشاہ سلامت میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کے بعد فرماتے ہیں”انصاف ہوگا، ضرور ہوگا”۔ دوسرے مقدمہ میں مالک مکان اور کرایہ دار کو پیش کیا جاتا ہے، دونوں میں تنازع کی وجہ صحن کی کھدائی کے دوران ملنے والا اشرفیوں سے بھرا دیگچا تھا۔ کرایہ دار کہتا ہے:وہ باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتا ہے، لہذا اِس پر اُس کا حق ہے۔ مالک مکان کہتا ہے: چوں کہ مکان اُس کا ہے، اس لیے یہ اُسی کی ملکیت کی ہے۔ آداب دربار سے نابلد شہزادے کہہ اٹھتے ہیں:انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دربار سے بھی ایسا ہی اشرفیوں سے بھرا دیگچا کرایہ دار کو بخش دیا جائے تاکہ وہ بھی خوش ہو جائے۔ بادشاہ سلامت جلال میں اُسے جھاڑ پلاتے ہیں اور انصاف کرتے ہوئے کہتے ہیں: چوں کہ مکان اُن کی سلطنت میں تھا، اِس لیے اشرفیوں سے بھرا تھیلہ بحق سرکار ضبط کر لیا جائے۔ تمام درباری واہ واہ کیا انصاف ہے، کہہ اٹھتے ہیں۔ بادشاہ سلامت شیطانی مسکان کے ساتھ کہتے ہیں: “انصاف ہوگا، ضرور ہوگا”۔ انصاف کی زنجیر فریادی کے اوپر گر جاتی ہے اور وہ مر جاتا ہے، کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ دربار میں قصیدہ گو شاعر بھی موجود تھا جو روز نیا قصیدہ لکھ لاتا۔ بادشاہ سلامت اپنی مرضی کا مورخ بھی مقرر فرما کر اُسے من چاہی تاریخ مرتب کراتے رہتے۔ بادشاہ سلامت کی سلطنت میں بھولے بھٹکے ملک نیک آباد کا بادشاہ اپنی صاحبزادی کے ہمراہ آ نکلتا ہے۔ عالیجاہ مہمان بادشاہ سے زبردستی نذرانے وصول کرتے ہیں۔ مال و متاع کم ملنے پر مہمان بادشاہ کو غربت کا طعنہ ملتا ہے جس پر وہ کہتا ہے:جس ملک کا بادشاہ غریب ہوتا ہے،وہاں کی رعایا امیر ہوتی ہے۔ مہمان بادشاہ کا شاہی لباس تک بک جاتا ہے اور اُس کا تاج بطور نذرانہ زبردستی وصول کر لیا جاتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم تھا کہ ولی عہد سلطنت اور وزیر خزانہ دونوں ہی مہمان شہزادی کے گرد بھنورے بن کر پھرتے رہتے، بادشاہ سلامت مہمان بادشاہ کو زندان میں ڈال کر اپنی صاحبزادی کی ہم عمر مہمان شہزادی سے زبردستی بیاہ رچا لیتے ہیں۔ دربار میں محافل سرود کا بھی برابر اہتمام کیا جاتا۔ تعلیم کو طبقات میں بانٹ دیا گیا اور ہرکاروں کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دیدی گئی۔ رعایا کے مسائل سے ناآشنا بزدل مگر تکبر و غرور کی معراج پر پہنچ جانیوالے بادشاہ کا ہر درباری لالچی،دھوکے باز، رشوت خور،اقرباء پرور اور اصول و ضوابط توڑنے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گویا ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا ڈرامے کے ایک منظر میں سمجھدار بھٹی مالکن کو اُس کا نکھٹو اور احمق خادم بختو نے مشورہ دیا کہ دربار سے شمشیر سازی کا ٹھیکہ حاصل کیا جائے۔ وہ کہتی ہے: رہنے دو، وہ محل ایک ایسا قفس ہے جس کی راہداریوں کا کوئی دروازہ باہر (عوام ) کی طرف نہیں کھلتا! مملکت اسلامیہ خداداد پاکستان اور یہاں کے حکمرانوں سے اِس کی مماثلت محض قدرتی ہو سکتی ہے!! اُس حکمران اور اُس کے امراء و اشرافیہ کا کیا نجام ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پورا ڈرامہ دیکھنے کی قطعاً ضرورت نہیں،ہر ذی شعور بخوبی جانتا ہی ہے!!!۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

ایک تبصرہ

  1. بہت عمدہ سر
    یہ کسی عالمی ادب سے کم ہے کیا جو اطہرشاہ نے تخلیق کیا ہے ،،اور ہر استحصال کاشکار معاشرے پہ پورا اترتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *