Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > منہ بولی بہن کی حقیقت – حافظ محمد زبیر

منہ بولی بہن کی حقیقت – حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ یونیورسٹی میں عموما طلبہ کسی نہ کسی لڑکی کو منہ بولی بہن بنا لیتے ہیں جبکہ بعض اوقات لڑکیاں کسی کو منہ بولا بھائی بنا لیتی ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ یہ کلچر اب بہت تیزی سے معاشرے میں پھیل رہا ہے، اب تو لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر بیٹھے ہوں گے یا ایک نے دوسرے کی گود میں سر رکھا ہوگا یا اس کی گردن میں بانہیں ڈالی ہوں گی اور کوئی ٹیچر پوچھ لے کہ یہ کیا حرکت ہے تو وہ بڑی معصومیت سے جواب دیتے ہیں کہ ہم بہن بھائی ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ کسی کو منہ سے بہن کہہ دینے سے نہ تو وہ بہن بن جاتی ہے اور نہ ہی منہ سے بھائی کہہ دینے سے وہ بھائی بن جاتا ہے۔ وہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہی ہیں اور ان کا ایک دوسرے کو ٹچ کرنا اور تنہا بیٹھنا حرام ہے۔ کچھ طلبہ کا کہنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو ٹچ نہیں کرتے، بس ایک دوسرے کے مسائل سنتے اور حل کرتے ہیں، اور اس طرح ایک لڑکی نے کئی کئی بھائی اور ایک لڑکے نے کئی کئی بہنیں بنائی ہوتی ہیں۔

بندہ کبھی ان سے پوچھے کہ وہ جو تمہارے ابا جان سے تمہاری بہن یا بھائی ہے، تم نے کبھی اس کے مسائل سنے اور حل کیے ہیں جو یہاں تمھیں اتنی خیر خواہی چڑھی ہوئی ہے۔ تو یہ کچھ بھی نہیں، صرف شیطان کا دھوکا ہے اور یہی چیز زندگی کے کسی موڑ پر کسی خرابی کا باعث بن جاتی ہے۔ شریعت میں بہن بھائی وہی ہیں کہ جن کے ماں باپ ایک ہوں اور سائنس کی زبان میں بہن بھائی وہ ہیں کہ جن کا جینیٹک کوڈ ملتا ہو۔ تو حقیقی بہن بھائی تو یہی ہیں، باقی تو ہم نے سوچ سے بنا رکھے ہیں۔ جس طرح صرف سوچنے سے میاں بیوی نہیں بن سکتے، تو بہن بھائی کیسے بن جاتے ہیں؟

پس جنہیں ہم نے اپنی سوچ میں بہن بھائی بنا رکھا ہے تو یہ دھکے کے بہن بھائی ہیں، ہم جانتے بوجھتے اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں اور معاشرے کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو منہ بولی بیٹی یا بیٹا بنا لینا، منہ بولی بھانجی یا بھتیجی بنا لینا یا منہ بولا ماموں یا چچا بنا لینا بھی درست نہیں ہے۔ لیکن یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ ایک ہے کہ کسی کو ضرورت پڑنے پر انکل، چچا، ماموں، بھتیجے، بچے کہہ دینا تو اس میں حرج نہیں ہے، ظاہری بات کہ آپ کسی بڑے کو مخاطب کرنا ہے تو اوئے کر کے تو مخاطب نہیں کریں گے۔

لیکن ایک یہ ہے کہ اگر کسی سے مستقل واسطہ پڑتا ہو تو پھر کسی کو منہ بولا رشتہ دار بنانے کی ضرورت نہیں ہے، بس یہ شعور اور احساس ہر دم زندہ رہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہیں۔ اب یہاں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ چونکہ زندگی میں بعض اوقات نا محرم رشتوں میں ایسا واسطہ یا ضرورت پڑ جاتی ہے تو ایسے میں کمیونیکیشن کے لیے بہتر ہے کہ اسے کچھ منہ بولا رشتہ دار بنا لیا جائے تاکہ ایک دوسرے کے ذہن میں ایک دوسرے کے بارے کچھ برا خیال یا وسوسہ نہ آئے۔

تو یہ صرف ایک سوچ ہے جو حقیقت حال کے خلاف ہے۔ اور حقیقت کے خلاف آپ اپنی سوچ کو زیادہ دیر چلا نہیں سکیں گے۔ پس جہاں کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے تو وہاں اصل حقیقت یہی ہے کہ آپ نا محرم ہیں، اور اسی حقیقت کا شعور آپ کو کسی خرابی سے بچا سکتا ہے نہ کہ اس کے برعکس سوچ۔ قرآن مجید نے رشتوں میں حقیقت کا اعتبار کیا ہے لہذا کہا ہے کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ تمھارا بیٹا نہیں بن جاتا اور بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *