Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > ردُّالفساد بذریعہ کتاب- حا مد میر

ردُّالفساد بذریعہ کتاب- حا مد میر

اسلام آباد کےمارگلہ روڈ سے گزرتے ہوئے ایک کھمبے کے ساتھ لٹکے ہوئے بینر پر ایک تصویر دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ یہ تصویر زاہدہ حنا صاحبہ کی تھی۔ پہلی نظر میں سمجھ نہ آئی کہ اُردوکی ایک معروف لکھاری کی تصویر مارگلہ روڈ پر کیا کر رہی ہے؟ پھر یکے بعد دیگرے عکسی مفتی، کشور ناہید، ڈاکٹر صغریٰ صدف، ناصر علی سیّد، ہارون الرشید تبسم، ڈاکٹر شاہ محمد مری، جبار مرزا، عزیر احمد، احسان اکبر، مسعود مفتی، فرخ سہیل گوئندی اور فریدہ حفیظ سمیت بہت سے اہل قلم کی رنگین تصاویر نظر آنے لگیں۔ غور کیا تو یہ قومی کتاب میلے کے سفیران کتاب کی تصاویر تھیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے 22تا24 اپریل پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں آٹھویں سالانہ کتاب میلے کا اہتمام کچھ نئے انداز میں نظر آ رہا تھا۔ 2010ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہر برس 22اپریل کو کتاب کے قومی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا اور پھر ہر سال اس دن کتاب میلے کا اہتمام ہونے لگا۔ میں اسلام آباد کلب کی طرف جانے کے لئے مارگلہ روڈ سے آغا شاہی ایونیو پر آیا تو برادرم جاوید چوہدری اور سہیل وڑائچ کی مسکراتی ہوئی تصاویر بھی نظر آگئیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر یاد آیا کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کئی دن پہلے خط کے ذریعہ قومی کتاب میلے میں شرکت کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان تصاویر کو دارالحکومت کی سڑکوں اور چوراہوں پر لٹکا کر دراصل قومی کتاب میلے کو ایک نئی شناخت دی گئی تھی۔ میں اپنی گاڑی کی کھڑکی میں سے سر گھما گھما کر امر جلیل صاحب کی تصویر تلاش کر رہا تھا۔ امر جلیل کی تصویر نظر نہ آئی۔ میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ کتاب میلے میں ضرور جانا ہے اور بہت سے ایسے مصنّفین کو ملنا ہے جن کو میں صرف نام سے جانتا ہوں۔ 22اپریل کو میں نے کچھ اہم مصروفیات سے جان چھڑائی اور قومی کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں پہنچ گیا جس کا افتتاح صدر مملکت ممنون حسین کر رہے تھے۔ صدر صاحب نے وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی اور نیشنل بک فائونڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے ہمراہ ’’کتاب پرچم‘‘ لہرایا اور اسکول کے بچوں نے ایک خوبصورت کتاب ترانہ بھی پیش کیا۔
افتتاحی تقریب میں افتخار عارف اور محبوب ظفر کی زبانی معلوم ہوا کہ اس مرتبہ قومی کتاب میلے کے نئے رنگ و آہنگ کے پیچھے عرفان صدیقی صاحب کا تخلیقی ذہن کارفرما ہے۔ وہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے نگران ہیں اور اکادمی ادبیات، مقتدرہ قومی زبان، نیشنل بک فائونڈیشن، اردو سائنس بورڈ، ایوان اقبال لاہور، علامہ اقبالؒ اکیڈمی، قائد اعظمؒ اکیڈمی، نیشنل لائبریری، اردو ڈکشنری بورڈ اور مزار قائد اعظمؒمینجمنٹ بورڈ کے معاملات کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں مزار قائد پر لٹکے ہوئے ایک زنگ آلود فانوس کی جگہ نیا فانوس بنوانے کے لئے بھی عرفان صدیقی صاحب نے پاکستان میں چین کے سفیر سے درخواست کی تھی۔ عرفان صدیقی صاحب جب سے وزیراعظم کے مشیر بنے ہیں اُنہوں نے کالم لکھنا چھوڑ دیا ہے تاکہ اُن کی صحافت پر سیاست کا گمان نہ گزرے۔ ناقدین اُن کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں کیونکہ سننے میں آیا ہے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر بھی لکھتے ہیں لیکن قومی کتاب میلے کی رونق دیکھ کر نواز شریف کی تقاریر کو ناپسند کرنے والے کچھ صاحبان بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لئے یہ کام بہت اچھا ہوا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کلاشنکوف کلچر کو شکست دینے کے لئے کتاب کلچر کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ ردُّ الفساد بھی صرف کتاب کے ذریعہ ممکن ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں کتابیں بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ قومی کتاب میلے میں ملک بھر سے آنے والے پبلشرز نے 200سے زیادہ اسٹال لگائے اور رعایتی قیمتوں پر کتابیں فروخت کیں۔ کتاب میلے کی افتتاحی تقریب سے فارغ ہو کر میں نے بھی اپنے مطلب کی کتابیں تلاش کیں۔ مقتدرہ قومی زبان کے اسٹال پر مجھے امر جلیل مل گئے۔ انہوں نے اپنے کرشماتی اندازِ گفتگو میں مجھے یہ بتانا شروع کیا کہ ؎
یہ وہ اُردو ہے جو اہلِ عرب سے سندھ میں آئی
بڑھی ملتان میں اور پرورش لاہور میں پائی
اسے تقدیر دلّی سے اُٹھا کر لکھنؤ لائی
غرض مشرق سے مغرب تک ہوئے سب اس کے شیدائی
انہوں نے مجھے بہت سی دعائیں دیں اور آگے بڑھ گئے۔ پھر یاد آیا کہ اُن سے فون نمبر تو لیا ہی نہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے پوچھا کہ امر جلیل کدھر گئے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہ تو آئے ہی نہیں کیونکہ بیمار ہیں۔ یہ سُن کر میں بڑا حیران ہوا کہ ابھی تو امر جلیل یہیں تھے پھر میں زیر لب مسکرانے لگا۔ یہ امر جلیل کا کرشمہ تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح میرے احساسات میں داخل ہوئے اور اُردو زبان کے بارے میں رشید احمد لاشاری کے اشعار سنا کر غائب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں صحت و سلامتی دے۔
قومی کتاب میلے میں سفیران کتاب کی کانفرنس میں پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے عرفان صدیقی سے کہا کہ اسلام آباد میں ایک پربت روڈ ہے ایک ہل روڈ ہے۔ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ آپ دونوں میں سے کسی ایک سڑک کا نام احمد ندیم قاسمی روڈ رکھ دیں۔ یہاں موجود اسلام آباد کے میئر شیخ انصر عزیز نے فوراً ہاں کر دی۔ انجمن ترقی اردو کی روح رواں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے فرمائش کی کہ اسلام آباد کی ایک سڑک کا نام منیر نیازی کے نام پر بھی ہونا چاہئے۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور کہا کہ اسلام آباد میں فیض، فراز اور پروین شاکر کے نام پر سڑکیں تو ہیں اگر ایک سڑک حبیب جالب کے نام پر رکھ دیں تو جمہوریت کے لئے خطرات کافی کم ہو جائیں گے۔ عرفان صدیقی صاحب نے سب باتیں مان لیں۔ کتاب میلہ بہت کامیاب رہا۔ آخری دن ایک شاعرہ فرزانہ ناز اسٹیج سے گریں اور گہری چوٹ کے باعث دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ سی ڈی اے کو چاہئے کہ پاک چائنا سینٹر کے اسٹیج پر موجود خطرات کو ختم کرے۔ بہرحال قومی کتاب میلے کی کامیابی پر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس قسم کے کتاب میلے پشاور، لاہور، کراچی، کوئٹہ، مظفر آباد اور گلگت میں بھی منعقد کرائے جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *