ہوم > کالم > ”کیڑے مکوڑوں کی موت“ – خالد مسعود خان

”کیڑے مکوڑوں کی موت“ – خالد مسعود خان

ہمارے ادارے مجموعی طور پر غیر فعال اور بےحس ہو چکے ہیں۔ سول سوسائٹی کو این جی اوز نے اغوا کر لیا ہے اور وہ عوامی نمائندگی کی نام نہاد دعوے دار بن چکی ہیں۔ان کا مطمع نظر سوسائٹی کو حادثات سے بچانا نہیں بلکہ حادثہ ہونے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر تصویریں بنوا کر، پھول چڑھاکر اور موم بتیاں جلا کر اس ساری کوریج کو اپنے ڈونرز کے پاس بھجوا کر مال پانی اکٹھا کرنا ہے اور بس۔

حادثہ ہوتا ہے، اخباری بیانات چھپتے ہیں۔ سرکار ہمارے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے محاصل سے سخاوت کرتی ہے اور پانچ دس لاکھ کے چیک دینے کا فوٹو سیشن کرواتی ہے۔ ہماری یاداشت کمزور ہے ہم اس سخاوت پر حاتم طائی کو یاد کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے بھی حکمرانوں اور اداروں نے کچھ کیا ہے یا صرف وقتی طور پر اپنی ہمدردی کا مظاہرہ کرکے ہمیں دلاسہ دے کر دوبارہ اپنی موج میں مست ہو گئے ہیں۔ عوام کی بے حسی اور چمچہ گیری کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ہی ٹیکس کی ادائیگی سے بننے والے منصوبوں اور ان کے افتتاح پر انہی کے ٹیکسوں سے ہوتے اللوں تللوں سے بھرپور افتتاحی اخراجات اور کروڑوں کے اشتہارات پر غم و غصہ کرنے کے بجائے ان منصوبوں کو حکمرانوں کی طرف سے عوام پر احسان سمجھتے ہوئے تالیاں پیٹ پیٹ کر بے حال ہو جاتے ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی احسان مند ہونے کی تلقین کرتے ہےں۔ لیکن عوام کا اور انسانی جان کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

اسلام آباد میں قومی کتاب میلے کے اختتام کے بعد پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر کے آڈیٹوریم میں سٹیج سے گر کر جاں بحق ہونے والی نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز ہمارے اداروں کی اسی بے حسی کا شکار ہوئی۔ اتفاق سے میں موقع پر موجود تھا۔ میں فرزانہ ناز کے گرنے کے لمحے کا تو عینی شاہد نہیں لیکن اس کے گرنے کے شاید دو سیکنڈ بعد کے سارے منظر نامے کو بچشم خود دیکھا۔ لیکن پہلے آپ کو اس آڈیٹوریم اور اس میں بنے ہوئے سٹیج کے بارے کچھ بتا دوں کہ اس کو سمجھے بغیر حادثے کو اور سی ڈی اے کی بے حسی کو سمجھنا شاید ممکن نہ ہو۔

یہ سنٹر ہمیں چین کی حکومت نے بنا کر دیا ہے اور اس کو انہوں نے ہی ڈیزائن کیا تھا۔ ایک شاندار آڈیٹوریم ہے اور ساتھ دو تین مزید ہال ہیں جو نسبتاً کافی چھوٹے ہیں۔ ڈائننگ ہال ہے۔ استقبالیہ کا ہال ہے اور پہلی منزل پر درمیانے اور بڑے سائز کے درجن بھر سے زیادہ کمرے ہیں جن میں بیک وقت درجن بھر گروپ ڈسکشنز، گفتگو ، میٹنگز اور مذاکرے ہو سکتے ہیں۔ اسی منزل پر ایک چھوٹا آڈیٹوریم ہے۔ غرض یہ ایک شاندار Mulli Parpose یعنی کثیر المقاصد ہال ہے۔ سارا کمپلیکس کیونکہ چائینز نے ڈیزائن اور تعمیر کیا ہے لہٰذا انہوں نے اسے اپنے حساب سے ہی بنایا ہے۔ آڈیٹوریم وسیع و عریض ہے اور سینکڑوں شائقین کے لئے ہے۔ یہ کرسیاں سیڑھیاں نما ہیں یعنی آگے کی طرف سے نیچے اور پھر بتدریج اوپر جاتی ہیں۔

ہال میں کرسیوں کی پہلی قطار کے سامنے تقریباً چار فٹ اونچی دیوار ہے۔ اس دیوار کو دیکھنے سے قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ اس دیوار اور سٹیج کے درمیان خالی جگہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دیوار اور اصل سٹیج کے درمیان تقریباً دس گیارہ فٹ گہری جگہ ہے اس کی چوڑائی کناروں پر کم اور درمیان میں زیادہ ہے۔ پہلے پہل تو مجھے بھی سمجھ نہ آئی کہ آخر درمیان میں یہ گہرائی رکھنے کا کیا مقصد ہے؟ مجھے ایک دو بار اس سٹیج پر جانے کا موقع ملا۔ سٹیج پر جانے کے لئے دونوں طرف سات آٹھ سیڑھیاں ہیں جو گھومتی ہوئی اوپر جاتی ہیں ان سیڑھیوں کے ساتھ ہی وہ ہولناک گہرائی شروع ہو جاتی ہے جو ان دونوں طرف بنی ہوئی سیڑھیوں کے درمیان سے لیکر، سٹیج اور سامنے والی دیوار کے درمیان ہے۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ چین میں اس طرح کے ہال کو ”اوپر اہاﺅس“ (Opera House) کہتے ہیں اور یہ تھیٹر پرفارمنس وغیرہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں سٹیج آرٹسٹ تو مین سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ سٹیج اور عوام کے درمیان واقع چار فٹ کی دیوار کے درمیان موجود اس گہرائی میں سازندے وغیرہ بیٹھتے ہیں تاکہ وہ فنکار اور عوام کے درمیان رکاوٹ نہ بنیں اور سٹیج پر ہونے والی پرفارمنس میں کوئی چیز سد نگاہ نہ بنے۔ سٹیج سے لیکر سیڑھیوں تک اس گہرائی کے کناروں پر کوئی جنگلا یا رکاوٹ بھی نہیں لگائی گئی اور وجہ وہی کہ شائقین اور سٹیج پر ہونے والی پرفارمنس کے درمیان کوئی شے حائل نہ ہو۔ اس گہری خندق نما جگہ تک پہنچنے کے لیے سٹیج کی اطراف سے نیچے سیڑھیاں جاتی ہیں۔ یہ جگہ ساز و آواز یعنی ”لائٹ اینڈ ساؤنڈ“ کے لئے مختص ہے۔ پاکستان میں بننے والے اس چائینز ڈیزائن کے ہال کی یہ جگہ شاید ایک بار بھی استعمال نہیں ہوئی ہو گی کہ ہماری لائیو پرفارمنس میں سازندے سٹیج پر بیٹھے ہیں۔ اس حادثے سے ایک روز قبل غلام عباس نے ”غزل نائٹ“ میں لائیوو پرفارمنس دی۔ سارے سازندے سٹیج پر تھے۔

یہ حادثہ یقینا افسوسناک ہے لیکن اس سے بڑا افسوس یہ ہے کہ یہ پہلا حادثہ نہیں جو یہاں ہوا ہے۔ دو سال قبل بھی نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہونے والے قومی کتاب میلے کے دوران نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے ہی ریسرچ آفیسر سلیم اختر بھٹی اسی خندق میں گر گئے تھے جس سے ان کی ایک ٹانگ اور پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اس جگہ پر گرنے کے کم از کم پانچ چھ واقعات ہو چکے ہیں مگر سی ڈی اے کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ وہ شاید کسی جان کے جانے کے انتظار میں تھے۔ گزشتہ سے پیوستہ روز ان کا یہ ارمان بھی پورا ہو گیا۔

جونہی تقریب کے خاتمے کا اعلان ہوا لوگ احسن اقبال، عرفان صدیقی اور عطاءالحق قاسمی کے ساتھ تصویریں کھینچوانے سٹیج پر آگئے۔ تھوڑی دیر بعد یہ سب لوگ رخصت ہو گئے اور لوگوں نے سٹیج سے نیچے آنا شروع کر دیا۔ میں سٹیج سے اترتے ہوئے آخری سیڑھی پر تھا جب کسی کے گرنے کی زور دار آواز آئی اور ساتھ ہی کسی بچے نے زور زور سے چیخنا شروع کیا۔ میں سمجھا شاید کوئی بچہ نیچے گر گیا ہے۔ پلٹ کر جھانکا تو ایک خاتون نیچے بے حس و حرکت پڑی تھیں۔ ساتھ ہی ایک موبائل فون پڑا تھا۔ خاتون میں زندگی کے آثار صرف یہ تھے کہ اس کا شاید سانس چل رہا تھا۔ میں نے دو تین نوجوانوں کی ہمت بندھائی تو وہ لٹک کر نیچے کود گئے۔ بمشکل اس خاتون کو انہوں نے چاروں ہاتھوں پاؤں سے پکڑ کر اٹھایا نیچے خون کا تالاب تھا۔ سیڑھیوں سے ابھی وہ اوپر نہیں پہنچے تھے کہ میں نے 1122 پر فون کر دیا۔ اسی دوران مجھے کسی نے بتایا کہ گرنے والی خاتون فرزانہ ناز ہے جو صاحب کتاب شاعرہ ہے۔ اس کے دو بچے بری طرح رو رہے تھے جبکہ اس کا شوہر بری طرح پریشان اور بوکھلایا ہوا تھا۔ ابھی 1122 کی ایمبولینس پہنچنے میں کچھ وقت درکار تھا جبکہ خاتون کی حالت خراب تھی۔ اسے فوری طور پر وہاں موجود ٹریفک پولیس کی کار میں لٹایا گیا۔ ایک لیڈی کانسٹیبل اور ایک اور خاتون لے کر فوری طور پر الشفاءہسپتال روانہ ہو گئیں جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔ اس سے جلد ہسپتال منتقلی ممکن ہی نہیں تھی۔

رات گئے پتہ چلا کہ فرزانہ ناز کے دماغ پر چوٹ آئی ہے اور اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی ہے اور وہ کومے میں ہے، اسے وینٹی لیٹر لگا دیا گیا ہے۔ صبح میں عرفان صدیقی کو ملنے گیا اور اس حادثے کا بتایا۔ عرفان صدیقی خود از حد پریشان تھے اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس بات کی ہے۔ علاج معالجے کے تمام تراخراجات ہم کریں گے اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس دوران اس خاتون کو کسی سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ اس حالت میں وہ صرف اخراجات کے ڈر سے فرزانہ ناز کو کسی دوسری جگہ شفٹ کرنے کا رسک لینے پر قطعاً تیار نہیں۔

میں نے الشفاءمیں موجود ایک دوست ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ خاتون کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ چوٹ شدید ہے، اندرونی طور پر خون دماغ میں جمع ہو چکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ محض وینٹی لیٹرکے سہارے سانس لے رہی ہے، اگر وہ اتار دیا جائے تو ساری بات ختم ہو جائے گی۔ ہم اسے میڈیکل کی زبان میں ”Clinical Death“ کہتے ہیں جو وقوع پذیر ہو چکی ہے اس کے بعد صرف معجزہ رہ جاتا ہے۔ ہم معجزے کے منتظر رہے اور اگلے روز اس معجزے کا انتظار بھی ختم ہوگیا۔

کاش فرزانہ ناز اور اس سے قبل گرنے والوں سے پہلے کوئی حکمران، کوئی وزیر یا کوئی بڑا آدمی اس گڑھے میں گرتا تو یہ اب تک بند ہو چکا ہوتا۔ ہم لوگ کیڑے مکوڑے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کا کیا ہے؟۔ انہوں نے تو مرنا ہی ہوتا ہے ایسے مر گئے یا ویسے مر گئے۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *