Monday , September 24 2018
ہوم > کالم > یکم مئی پرنام نہادتنظیموں کی سیاست۔۔مزدوربھوکا،مزدورپیاسا۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

یکم مئی پرنام نہادتنظیموں کی سیاست۔۔مزدوربھوکا،مزدورپیاسا۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طورپرمنایاجاتاہے،ہرسال مزدورتنظیموں کے رہنماجوخودتومزدورنہیں ہوتے البتہ مزدوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اورانہیں ہرسال بلندوبانگ دعوے کرتے دیکھاجاتاہے،حقیقت میں مزدوری کرنے والوں کوخودبھی اپنے عالمی دن کی خبرتک نہیں ہوتی ،کیوں کہ انہیں فکرہوتی ہے تواپنی دال روٹی کی،انہیں فکرہوتی ہے تواپنے بیوی بچوں کی،انہیں فکرہوتی ہے اپنے بھوکے اہل وعیال کی اورانہیں اپنے مستقبل کی فکرہوتی ہے،یہ صرف میں نہیں کہہ رہا،آپ خود اندازہ لگالیں کہ اصلی مزدورآج کیاکررہے ہیں؟؟۔۔وہ آج بھی مزدوری کررہے ہیں،یاکسی چوک چوراہے پرکسی مالدارکاانتظارکررہے ہیں کہ وہ اسے گاڑی پربٹھاکرلے جائے اوراپنی کوٹھی پر،اپنے پلازے میں اورکسی سڑک پرکام کرائے جس کے بدلے میں مزدورکاکچن چل سکے۔

میرے سامنے ٹی وی سکرین پرمختلف تقریبات دکھائی جارہی ہیں،جن میں وہ چہرے نظرآرہے ہیں جوعام طورپرمیڈیاتشہیرکے بھوکے نظرآتے ہیں،ان میں مزدورکوئی نہیں،ان میں غریب کوئی نہیں،ان میں پیدل سفرکرنے والاکوئی نہیں،ان میں بھوکاکوئی نہیں،ان میں ان پڑھ کوئی نہیں،یہ سب بڑی بڑی گاڑیوں پرسفرکرنے والے لوگ ہیں،یہ جہازپربھی سفرکرتے ہیں،یہ فائیوسٹارہوٹلوں میں بھی کھانے کھاتے ہیں،ان کاطرززندگی امیرانہ ہے،یہ بھلامزدورکے جذبات کیسے  محسوس کرسکتے ہیں؟؟مزدورکیاہوتاہے یہ توصرف مزدورہی جان سکتاہے،یہ مزدوروں کے حقوق کی بات نہیں،میرے نزدیک یہ مزدوروں سے مذاق ہے،کیوں کہ یہ تقریبات میری سمجھ سے بالاترہیں جن میں مزدوروں کی شرکت ہی نہیں،مزدورتنظیمیں کچھ اورلوگوں کے زیرانتظام چلتی ہیں جب کہ مزدورایک اورطبقہ ہے،مزدورتنظمیں اپنی سیاست چمکاتی ہیں اورمزدوروں کے نام پرفنڈزبٹورنے کامکروہ دھندہ کرتی ہیں مگرمزدورطبقہ سارا دن کام کرتاہے اورپھر شام کو تھک ہارکرسوجاتاہے جسے کھانے کی ہوش ہوتی ہے نہ پینے کی،جسے بستراورچارپائی کے بغیرہی فرش پر نیندآجاتی ہے۔

حالانکہ چاہیے تویہ تھا کہ کم ازکم آج کے دن ایسی جگہوں پران مزدوروں کوایک دن کاراشن اورمزدوری دی جاتی ہے جومزدوری کے انتظارمیں ہیں،مزدورتنظیموں نے لاکھوں روپے تقریبات پرتولگائے ہوں گے مگرکسی ایک مزدورکی مددنہیں کی ہوگی،عجیب سوچ ہے،عجیب منطق ہے،مزدوروں کادن آتاہے اورحکومت بھی ایک پرانی پریس ریلیز جاری کرتی ہے جس میں صدر،وزیراعظم اوروزراء اعلیٰ کے پیغامات میڈیاکوبھیج دیئے جاتے ہیں جن میں وہی پرانے  گھسے پٹے جملے استعمال کرکے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔۔بے حسی کی انتہاہے،بے خبری کی حدہے۔۔مزدوروں کے عالمی دن پربھی ہمارے گلی محلوں میں مزدوربھوکے ہیں،مزدورمزدوری کے منتظرہیں۔۔کاش ہم سمجھ سکیں،کاش ہم محسوس کرسکیں۔۔یکم مئی سمجھنے کادن ہے،یکم مئی احساس کادن ہے۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *