Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > چند روز وزیرستان میں- سلیم صافی

چند روز وزیرستان میں- سلیم صافی

تبدیلی آگئی ہے ۔ خیبر پختونخوا کی طرح جعلی اور مصنوعی نہیں ۔یہ حقیقی اور بنیادی تبدیلی ہے۔ وزیرستان میں آنے والی تبدیلی کو ہی جوہری تبدیلی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ تبدیلی کا ایک ثبوت تو یہ ملاحظہ کیجئے کہ جس وزیرستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران مجھے گھسنے کی اجازت نہیں تھی ، وہاں دونوں ڈویژنوں کی جی اوسیز کی طرف سے مجھے یہ کھلی آزادی دی گئی کہ میں بذریعہ سڑک یا بذریعہ ہیلی کاپٹر جہاں جانا چاہوں، اپنی ٹیم اور کیمرے کے ساتھ جاسکتا ہوں۔ جی او سی شمالی وزیرستان میجر جنرل حسن اظہر حیات نے تو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر مجھے یہ اختیار دیا کہ میں شمالی وزیرستان کے جس طرف چاہوں ہیلی کاپٹر موڑ دوں ۔ یہی رویہ جی او سی جنوبی وزیرستان میجر جنرل نعمان زکریا کا بھی رہا ۔ میں نےانگور اڈا سرحد کھولنے کی التجا کی تو کہنے لگے کہ ہم پہلے سے فیصلہ کرچکے ہیں ۔ میں نے وہاں جانے کی خواہش ظاہر کی تو نہ صرف وہاں جانے کی اجازت دی بلکہ یہ تک ارشاد فرمایا کہ میں جنوبی وزیرستان میں جہاں جانا چاہوں جاسکتا ہوں اور جس سے ملنا چاہوں مل سکتا ہوں۔ یہ تبدیلی اور خوشگوار تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان جو آج سے چند سال پہلے دنیا بھر کے دہشت گردوں کا گڑھ تھا اور جو بارود کا ڈھیر بنا ہواتھا، آج وہاں کسی غیرسرکاری بندے کو پستول تک رکھنے کی اجازت نہیں اور ہمارے قبائلی آپس میں لڑنے پر مجبور بھی ہوں تو ڈنڈوں اور پتھروں کا سہارا لیتے ہیں ۔ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے کو بھی اسلحہ سے پاک کردیا گیا ہے اور عنقریب وزیرعلاقے میں بھی یہ عمل شروع ہوجائے گا۔ کسی کو یقین آئے یا نہ آئے لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ شمالی وزیرستان جہاں آج سے چند سال قبل ازبک، عرب، پشتون اور پنجابی عسکریت پسندوں کے مراکز ہوا کرتے تھے ، آج اس شمالی وزیرستان میں نہ صرف پہلے سے موجود اسکولوں کو دوبارہ تعمیر اور فعال کردیا گیا ہے بلکہ اس ایک ایجنسی میں چار آرمی پبلک اسکول قائم کردئیے گئے ،جہاں پنجابی اوردیگر صوبوں سے آئے ہوئے ٹیچرز قبائلی بچوں کو پڑھا رہے ہیں ۔ ایک طرف شمالی وزیرستان کا کیڈٹ کالج رزمک پوری آب و تاب سے دوبارہ کھل گیا ہے تو دوسری طرف جنوبی وزیرستان کے وانا کیڈٹ کالج میں مقامی اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے سینکڑوں طلبہ زیورتعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔ میران شاہ اور وانا میں جدید ترین اسپتال بن گئے ہیں ۔ جہاں سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر زکی کمی ہے ،وہاں فوجی ڈاکٹر اس کمی کو دور کررہا ہے ۔ شمالی وزیرستان کے رزمک میں قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹر تو اپنی مثال آپ ہے جہاں فوج اپنی نگرانی میں قبائلی نوجوانوں کو فنی تربیت دے رہی ہے۔ میران شاہ جہاں کے کرکٹ گرائونڈمیں کسی زمانے میں عسکریت پسندوں کی تربیت کے سوا کوئی کام نہیں ہوسکتا تھا ، آج وہاں ایسا خوبصورت اسٹیڈیم بن گیا ہے کہ جس کا تصور پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی نہیں کیا جاسکتا اور جہاں شام کے وقت ایسی رونق لگ جاتی ہے کہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم یاد آتا ہے ۔ جنوبی وزیرستان کے علاقہ شکئی میں پہلی بار تب گیا جب پورا علاقہ ازبک اور مقامی عسکریت پسندوں کے نرغے میں تھا اور جب شکئی معاہدے کی رو سے طالبان کے امیر نیک محمد اور کورکمانڈر جنرل صفدر ایک دوسرے کو ہار پہنا رہے تھے لیکن اب جب میں شکئی کے حسین کرکٹ گرائونڈ پہنچا تو وہاں کرکٹ کا میچ جاری تھا اور سینکڑوں قبائلی تماش بین کی حیثیت سے اس سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔ حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود کے آبائی علاقوں میں ایسی سڑکیں بن گئی ہیں کہ ان پر یورپ کا گمان ہوتا ہے اور وہاں پر تعمیر ہونے والے گرلز اور بوائز ہائی اسکولز سے یوں لگا کہ جیسے یہ وزیرستان نہیں بلکہ ایبٹ آباد ہے لیکن جنوبی وزیرستان میں دور رس تبدیلی کا ذریعہ وہ صنعتی بستی بنے گی جسے فوج تعمیر کررہی ہے اور جس میں وزیرستان کی بڑی پیداوار یعنی چلغوزے کے لئے ایک بڑا پراسسنگ پلانٹ لگایا جارہا ہے اور جہاں پر سیب ، آلو اور ٹماٹر کی سٹوریج کے لئے بھی خاطر خواہ انتظام ہوگا۔ شمالی وزیرستان کا تو گویا نقشہ ہی بدل گیا ہے ۔ ہر چھوٹے بڑے قصبے میں فوج کی زیرنگرانی ایک ہی ڈیزائن کی مارکیٹیں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ میران شاہ بازار میں بارہ سو دکانوں پر مشتمل پلازے کی تعمیر آخری مراحل میں ہے، جن کے مالکانہ حقوق ان دکانداروں کو دئیے جائیں گے جن کی دکانیں آپریشن کے دوران تباہ ہوئی تھیں ۔ سب سے بڑی خوشی اس بات کی ہوئی کہ وہ آئی ڈی پیز جو پچھلے تین سالوں کے دوران دربدر ہوکرٹھوکرے کھارہے تھے ،ان کی واپسی کا عمل گزشتہ تین ماہ سے بہت تیز کردیا گیا ہے اور اب شمالی وزیرستان کے نوے فی صد سے زائد لوگ گھروں کو واپس لوٹ آئےہیں ۔
آپریشن ضرب عضب کے دوران میدان میں فوج جوانوں اور افسروں نے یا پھر مقامی لوگوں نے جو قربانیاں دیں ، وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ اس آپریشن میں جوانوں اور افسران کی شہادتوں کی شرح کسی بھی دوسرے آپریشن سے زیادہ رہی ۔ بہادری اور قربانی اپنی جگہ لیکن میں کبھی آپریشن ضرب عضب کا مدح خواں نہیں رہا۔ وجہ یہ تھی کہ حکومتی سطح پر اس آپریشن کی منصوبہ بندی بہت ناقص رہی ۔ کامیاب آپریشن وہ ہوتا ہے کہ جس میں دشمن کے لئے ایلیمنٹ آف سرپرائز (Element of surprise) ہو لیکن اس آپریشن کا دشمن کو تو پہلے سے پتہ تھا جبکہ الٹا مقامی لوگوں کے لئے یہ اچانک اور سرپرائز تھا۔ سوات آپریشن کے برعکس یہاں آئی ڈی پیز کے لئے پہلے سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا اور جس قدر یہاں کے آئی ڈی پیز خوار ہوئے ، کسی اور آپریشن کے نہیں ہوئے تھے ۔ اسی طرح شہداء اور غازیوں کی تحسین کے بجائے یہاں فوکس چند شخصیات کی تحسین پر تھا جبکہ میڈیا کی تقسیم اور وہاں میڈیا کے جانے پر پابندی کی وجہ سے اس آپریشن میں قوم کو اسی طرح اپنے ساتھ ہم نوا نہیں بنایا گیا جس طرح کہ سوات آپریشن میں بنایا گیا تھا۔ آپریشن کا دورانیہ بھی بہت طویل ہوگیا اور تعمیر نو کا کام بھی بہت سست رہا ۔ تاہم عسکری قیادت کی تبدیلی کے بعد جہاں ایک طرف کئی دیگر حوالوں سے اپروچ میں تبدیلی آئی ہے ، وہاں شمالی اورجنوبی وزیرستان میں یہ مثبت تبدیلی آئی ہے کہ آپریشن اور سیکورٹی کی ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد اب دونوں ایجنسیوں میں کمانڈروں نے پوری فوج کو آئی ڈی پیز کی واپسی اور تعمیر نو کے کاموں میں لگا دیا ہے ۔ یہی فوجی جوان کہیں سڑکیں بنارہے ہیں تو کہیں لوگوں کے لئے زمینیں ہموار کرکے قابل کاشت بنارہے ہیں ۔ کہیں اسکول میں پڑھارہے ہیں تو کہیں مارکیٹوں کی تعمیر میں لگے ہیں ۔ باقی ملک میں مردم شماری اب ہورہی ہے لیکن اپنے طریقے سے یہاں پر فوجی حکام پہلے سے مردم شماری کرچکے ہیں ۔ اب فوج خاصہ داروں اور لیویز کو بھی ٹریننگ دے رہی ہے تاکہ وہ فوج سے امن وامان کی ذمہ داری کو واپس لے سکیں لیکن ان آثار کے ساتھ ساتھ بعض حوالوں سے صور ت حال نہایت تشویشناک بھی ہے ۔ تشویش کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جہاں فوج نے اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا وہاں سول انتظامیہ نے ابھی تک اپنے حصے کا کام شروع بھی نہیں کیا۔یہاں کے پولیٹکل ایجنٹ فعال انسان ہیں لیکن انہیں پیسہ اور اختیار ملے گا تو ہی کچھ کرسکیں گے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گورنر پختونخوا جو قبائلی علاقوں کا چیف ایگزیکٹو ہے ، کی گورنر شپ چار بندوں کے مابین تقسیم ہے اور ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ متاثر ہونے والے گھروں کی دوبارہ تعمیر اور سب سے بڑھ کر تباہ حال معیشت کی بحالی اب حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن یہ معاملہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ دوسری طرف ایک ایسے گورنر سیاسی بنیادوں پر وہاں بٹھا دئیے گئے ہیں جو مشکل سے اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور ان سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ مرکز سے فاٹا کا حق طلب کرلیں گے ۔ فاٹا کو اگر پختونخوا میں ضم کرکے وسائل کا رخ ان قبائلی علاقوں کی طرف موڑ نہ دیا گیااور اختیارات سول انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کے سپرد نہ کئے گئے تو خاکم بدہن یہ ساری قربانیاں رائیگاں جاسکتی ہیں اور فاٹا کے انضمام کے معاملے پر وفاقی حکومت جو تاخیری حربے استعمال کررہی ہے ، اس سے بالکل واضح ہے کہ یہ معاملہ اگلی حکومت تک چلا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام اگلے پانچ سال میں نہیں ہوسکے گا۔ آئی ڈی پیز کے معاملے کو لے لیجئے ۔ وزیراعظم نے کسی مقامی شخص کو انچارج بنانے کی بجائے جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو انچارج بنا دیا لیکن ان ڈھائی سالوں میں انہوں نے صرف ایک یا دو مرتبہ بنوں جانے کی زحمت گوارا کی ۔ اور تو اور چوہدری نثار علی خان کی وزارت کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ غلام خان اور انگور اڈا کے پاک افغان کراسنگ روٹ پر ابھی تک نہ تو امیگریشن کا عملہ موجود ہے اور نہ کوئی دفترقائم کیا گیا ہے ۔ انگور اڈہ میں فوجی حکام نے اپنے وسائل سے اپنے دو کمپیوٹر لگا رکھے ہیں ۔ پاکستان آنے جانے والے افغانوں کی وہ اپنے حساب سے دستاویزات چیک کرتے ہیں ، ان کے فنگر فرنٹس لیتے اور تصویر بناتے ہیں لیکن وہ امیگریشن کے سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں بلکہ ان کا اپنا انتظام ہے ۔ اسی طرح یہاں کسٹم کا عملہ بھی نظر نہیں آتا ۔ یہ تماشہ دیکھ لیجئے کہ میران شاہ بازار تک افغان موبائل سم کام کرتی ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان میں بھی سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ افغان سم استعمال کرتے ہیں لیکن وفاقی حکومت مقامی موبائل سروس شروع کرنے سے گریزاں ہے ۔اگر اپنا موبائل سسٹم ہو تو فوج اور اس کے اداروں کے لئے ان کی مانیٹرنگ بھی آسان ہوگی اور خود یہاں پر ڈیوٹی دینے والوں کا اپنے گھروں کے ساتھ یا پھر آپس میں رابطہ بھی آسان ہوگا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا یہ عالم ہے کہ دونوں ایجنیسوں میں صرف چند گھنٹوں کے لئے بجلی آتی ہے ۔کئی سال تک عسکریت پسندوں کے ہاتھوں خوار ہونے اور پھر آپریشنوں کی وجہ سے دربدر ہونے والے یہ قبائلی ہر طرح کی عنایتوں کے مستحق ہیں تاکہ ان کے زخم بھر سکیں لیکن اگر وفاقی حکومت کا ان کے ساتھ یہ رویہ ہو تو ان کے زخم کیسے بھر سکیں گے۔ میری تجویز ہے کہ میڈیا کے ساتھ ساتھ اب فوج تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو بھی دونوں وزیرستان میں بلانا شروع کرے تاکہ وہ میری طرح اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ تبدیلی کیا آئی ہے اور کون کیا کررہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *