ہوم > کالم > آزادی صحافت، ایک شیر اور سو گیدڑ – فیاض راجہ

آزادی صحافت، ایک شیر اور سو گیدڑ – فیاض راجہ

وہ کل کہہ رہے تھے کہ گیدڑ کا شیر سے کیا مقابلہ۔ نہیں بلکہ شیر اور گیدڑ میں کوئی مقابلہ نہیں۔ نہیں نہیں بلکہ سو گیدڑ بھی آجائِیں تو شیر کھڑا رہتا ہے۔ بلکہ یہ بھی نہیں سو گیدڑ مل کر بھی ایک شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہیں نہیں آپ غلط سمجھے، میں ہرگز پاکستان نہیں بلکہ جنگل کے قانون کی بات کر رہا ہوں۔ مگر جنگل کا یہ قانون ہمیشہ سے تو ایسا نہیں تھا۔

بھلے وقتوں کی بات ہے جب اس جنگل میں ایک گیڈر سو شیروں پر بھاری ہوا کرتا تھا کیونکہ ان دنوں گیڈر کی ایک دن کی زندگی شیر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی تھی اور صرف ایک گیڈر، سالا صرف ایک گیڈر سو شیروں کو اپنی انگلی کی نوک پر نچایا کرتا تھا اور کیوں نہ نچاتا کہ اس نے جنگل کے قانون کو فقط کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے رکھا تھا اور کہا کرتا تھا کہ جب چاہوں یہ کاغذ کا ٹکڑا پھاڑ ڈالوں اور جنگل کے سب شیر دم ہلاتے میرے پیچھے چلے آئیں گے۔

انہی دنوں جب اس جنگل کے قریبی شہر کے مرکزی سینما میں پنجابی فلم ’’شیر میدان دا‘‘ ریلیز ہوئی تو جنگل کے حکمران کو ایک اچھوتا اور منفرد آئِیڈیا سوجھا۔ اس نے اندرون شہر سے ایک ’’شیرنما نوجوان‘‘ ڈھونڈ نکالا اور اسے بتایا کہ اگرچہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے مگر سو سال زندہ رہنے کے بھی اپنے ہی فائدے ہیں۔

یوں جنگل کے حکمران نے شیر نما نوجوان کی کچھ ایسی تربیت کی کہ آنے والی دو دہائیوں میں ’’شیر نما‘‘ کا انداز حکمرانی بڑا ہی وکھری ٹائپ کا تھا۔ اسے کمزوروں کے آگے شیر اور طاقتوروں کے سامنے بھیگی بلی بننا بھی آگیا۔ اس دوران شیر نے گیدڑ سے دو چیزیں مزید سیکھ لیں۔ یہ دو چیزیں تھیں گیدڑ سنگھی اور گیدڑ بھبکی۔ بڑے بڑے توپ اس کے مقابلے میں آئے۔ اس نے کسی کو گیدڑ سنگھی سے پچھاڑا تو کوئی گیدڑ بھبکی سے رام ہوگیا۔ مگر یہ سب ان دنوں کی باتیں ہیں جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔

شیر کی گزشتہ 36 سالہ تاریخ میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے جب اس کی حکومت نے صحافیوں کو چپ کروانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جو تجزیہ نگاروں کے بقول سیاسی سنسرشپ کے زمرے میں آتے ہیں۔

سنہ 1992ء میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی اخبار دی نیوز کی ایڈیٹر تھیں۔ ان کی ادارت میں مقامی اخبار میں احتساب سے متعلق ایک طنزیہ نظم شائع کی گئی جس میں ذو معنی انداز میں شیر حکمران کی ہنسی اڑائی گئی تھی۔ اخبار کی انتظامیہ کے خلاف نقص امن کا مقدمہ درج کیا گیا جو کہ صحافی برادری کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا۔
مئی 1999ء میں شیر کے ہی دوسرے دور حکومت میں فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کو گرفتار کر کے ان کے خلاف نقصِ امن کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایک ماہ تک حراست میں رہنے کے بعد پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف مقدمات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کر دیا تھا۔

سنہ 2014 میں جب ملک میں تیسری بار شیر ہی کی حکومت تھی، جیو نیوز کے صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو جیو ٹی وی چینل نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اس وقت بھی اس الزام لگانے کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہو ئے جیو نیوز پر مقدمہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے جیو کا لائسنس 15 روز کے لیے منسوخ کرتے ہو ئے چینل پر ایک کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

اکتوبر 2016ء میں شیر کی تیسری حکومت میں دوسری بار بھی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے۔ جب ڈان نیوز کی ایک اسٹوری کو قوم مفادات کے خلاف قرار دے کر خبر دینے والے صحافی سرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

اور پھر تازہ ترین کچھ یوں کہ عین آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر بول نیوز اور پاک ٹی وی کے لائسنس بھی معطل کردیے گئے، وجہ پھر سکیورٹی ہی قرار پائِی۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران اور منتظم ادارے پیمرا کی پریس ریلز میں بتایا گیا کہ یہ قدم وزارتِ داخلہ کی جانب سے ان چینلز کی مالک کمپنی لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کو سکیورٹی کلیئرنس نہ دیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

مندرجہ بالا مثالوں سے واضح ہوا کہ سیاسی الجبرے کے مسئلہ نمبر ایک کا جواب صرف یہ ہے کہ جنگل کے قانون اور شیر کی حکومت میں کہاں کی آزادی صحافت، مگر کہنے والوں نے پرانے محاوروں میں نئے رنگ ڈال دیے ہیں، اب وہ فرماتے ہیں کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ روز ایک نئے شہر کا رخ کرتا ہے۔ مگر اسے کوئی بتائے کہ بچتا تو وہ جنگل میں بھی نہیں۔

اک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ یہ ہر بار شیر ہی کو کیوں صحافیوں سے مسئلہ ہوتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ شیر جانتا ہے کہ صحافی اسے جانتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ بار جب شیر اور ہاتھی کی لڑائی میں شیر کی کھال اتری تو اندر سے گیدڑ برآمد ہوا تھا۔

پس ثابت ہوا کہ شہر کے قانون میں اہم شیر یا گیدڑ نہیں بلکہ صحافی ہے جو آزادی صحافت برقرار رکھنے کے لیے جب چاہے شیر کو گیدڑ قرار دے اور جب چاہے گیدڑ کو شیر بنا ڈالے۔ بقلم خود خلیل خان، فاختہ اڑانے کے بعد

یہ بھی دیکھیں

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا – بلال شوکت آزاد

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا لیکن کشمیریوں کی اول آخر ترجیح پاکستان ہی ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *