ہوم > کالم > ناقص عقل کی سوچ۔۔۔تحریر/محمد صفدرسکھیرا

ناقص عقل کی سوچ۔۔۔تحریر/محمد صفدرسکھیرا

وی آئی پیز،دھرنوں مظاہروں نے صوبائی دارالحکومت کے باسیوں کو پاگل کر کے رکھ دیا،رہی سہی کسر بیوروکریسی اورکمیشن مافیا نے نکال دی ہے، حکمران بھی فارغ سرکاری ملازم بھی۔اور عوام تو سدا کے ہی ویلے ہیں،اس لیے ہر جگہ میکاولی کی سیاست کھیلی جا رہی ہے،صوبائی دارالحکومت کا دل مال روڈ “ہڑتال روڈ”بن چکا اور جب دل ڈسٹرب ہو تو پورے جسم کو کہاں سکون،مال روڈ بند ہونے سے پورا شہر بلاک ہو کر رہ جاتا ہے اور عوام سڑکوں پر حکمرانوں اور مظاہرے کرنے والوں کو کوسنے دیتے رہتے ہیں،وزیر اعلی شہباز شریف بھی بیوروکریسی کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئے ہیں،اب تو ہوتا وہی ہے جو بیورو کریسی چاہتی ہے۔بھاری تنخواہوں مراعات پر اتنے بڑے بڑے پلانر رکھے ہوئے ہیں مگر ترقیاتی منصوبے دیکھ کر لگتا ہے کہ سو سال پرانی ضروریات کے مطابق ہر کام کیا جا رہا ہے کیونکہ کمیشن مافیا کا بھلا ہی اسی میں ہے،اگر سو سال آگے کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر منصوبے تشکیل دیے جایئں گے تو کمیشن سے عیاشیاں کرنے والے چند سالوں میں بھوکے مرنے لگیں گے۔لاہور کے دل مال روڈ پہ ہائیکورٹ،پنجاب اسمبلی،گورنر ہاﺅس،وزیراعلی آفس،سٹیٹ بینک،لوئر مال پہ سول سیکرٹریٹ،ایوان عدل،کچہری ہیں اور باقی بھی اہم ترین دفاتر لنک روڈز پر واقع ہیں جسکی کی وجہ سے ٹریفک مسائل معمول بن چکے ہیں،ان دفاتر میں آتے چند سو سائلین ہیں مگر مشکلات لاکھوں عوام بھگتتے ہیں،پنجاب اسمبلی کی موجودہ عمارت ناکافی محسوس ہوئی تو نئی بھی اس کے ساتھ ہی بنائی جا رہی ہے،کیا ہی اچھا ہو کہ گورنر ہاﺅس ،وزیر اعلی آفس،عدالتیں،پنجاب اسمبلی، کچہری، سول سیکرٹریٹ سمیت تمام ادارے اور دفاتر لاہور سے باہر منتقل کر دیے جائیں، شہر سے چند کلو میٹر باہر ہزار دوہزار ایکڑ پرکمپلیکس بنایا جائے جس میں تمام ادارے اور دفاتر منتقل کر دیئے جائیں،ان اداروں اور دفاتر میں پورے لاہور کے شہریوں نے روز نہیں آنا ہوتا،اگر پورے پنجاب سے لوگ اپنے کام کے لیے سفر کر کے لاہور ان اداروں اور دفاتر میں پہنچتے ہیں تو شہر کے باسی بھی اپنے ذاتی کام ک لیے چند کلومیٹر باہر جا سکتے ہیں۔ نا رہے گا بانس نا بجے گی بانسری کے مصداق جب انتظامی ادارےاوردفاتر نہیں ہوں گے تو مظاہرے،دھرنے بھی رک جائیں گے کیونکہ مظاہرین اور دھرنے بازوں کی پسندیدہ ترین جگہ پنجاب اسمبلی ہی ہے۔ منڈیاں بھی شہر سے باہر نکالی جایئں اگر ایسا ممکن ہو جائے تو ٹریفک مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے، ورنہ سگنل فری روڈ بنائیں یا میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین،ٹریفک کا اڑدھا کسی صورت قابو میں آنے کا نہیں۔سگنل فری روڈ کی پلاننگ کرنے والوں کی عقل کو بھی سو توپوں کی سلامی دینے کو دل کرتا ہے،میری ناقص عقل کے مطابق یوٹرن بنانے کی بہترین جگہ 2لنک روڈز یا 2 ٹریفک سگنلز کا درمیان ہوتی ہے،مگر فیروز پور اور جیل روڈ پر ٹریفک سگنل اکھاڑ کر ادھر ہی یوٹرن بنا دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور حادثات بھی۔جس گاڑی یا موٹر سائیکل والے نے لنک روڈ سے مین روڈ کی دائیں سمت جانا ہو اس کو لمبا چکر کاٹنا پڑتا ہے کیونکہ جب اس نے میں روڈ پر چڑھنا ہے تو کٹ یا یوٹرن اس سے صرف چند قدم پہلے واقعہ ہوتا ہے اور اسےیوٹرن لینے کے لیے کئی سو گز آگے جانا پڑتا ہے لہذا پھر وہ ون وے کی خلاف ورزی کرتا ہے جس کا زیادہ تر نتیجہ حادثات کی صورت میں نکلتا ہے،اگر دو لنک روڈز کے درمیان میں یوٹرن ہو تو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی کم ہو جائے اور حادثات بھی۔مگر ارباب اختیار کو ان مسائل سے واسطہ ہی نہیں پڑتا وہ تو جب باہر نکلتے ہیں توسڑکوں پر چلنے والے عوام کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح ہٹا کر سڑکیں خالی کروا لی جاتی ہیں،جب تک بند کمروں میں بیٹھ کرپلاننگ اور فیصلے ہوتے رہیں گے مسائل بڑھتے رہیں گے کم نہیں ہوں گے۔ ٭

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *