ہوم > کالم > شادی کس سے کریں؟ حافظ محمد زبیر

شادی کس سے کریں؟ حافظ محمد زبیر

اکثر دوست مشورہ لیتے ہیں کہ ان کا کہیں رشتہ چل رہا ہے اور یہ یہ مسائل ہیں تو کیا انھیں شادی کر لینی چاہیے یا نہیں؟ تو میں نے سوچا اس بارے بھی ایک عمومی پوسٹ لگا دوں۔ اکثر لڑکوں کا سوال ہوتا ہے کہ انھیں لڑکی پسند نہیں آئی تو کیا انھیں شادی کر لینی چاہیے، اسی طرح لڑکیوں کا بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے کہ انھیں لڑکا پسند نہ آیا ہو۔

دیکھیں، دنیا میں شادی کرتے وقت عموما چھ چیزوں کو دیکھا جاتا ہے؛ دین، خاندان، شکل و صورت، مال و دولت، ملازمت اور تعلیم۔ لوگوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سب چیزیں آپ کو ایک ساتھ نہیں ملتی، کہیں نہ کہیں آپ کو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکے کی ملازمت اچھی ہو اور لڑکی کی شکل و صورت۔ ملازمت اچھی ہو تو لڑکی والے خاندان بلکہ شکل و صورت پر بھی کمپرومائز کر لیتے ہیں۔ اور کسی حد تک بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ گھر کا خرچہ چلانا مرد کی ذمہ داری ہے، لہذا اگر وہ اسی کا اہل نہیں ہوگا تو گھر کیسے چلے گا؟

اور پسند دو قسم کی ہوتی ہے؛ ایک آئیڈیل، جو کبھی نہیں ملتی، صرف ذہن میں ہوتی ہے، اس کے چکر سے نکل جانا چاہیے۔ آپ کو زندگی میں آئیڈیل ضرور مل جائے گا لیکن آپ اس کے آئیڈیل نہیں ہوں گے۔ دوسری یہ کہ لڑکا یا لڑکی بس اچھی ہو، چاہے اتنی نہ ہو کہ جتنا آپ کے ذہن میں ہے، اسی پسند کی کوشش کرنی چاہیے۔ البتہ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی شکل وصورت ایسی ہے کہ جو انسان کو بری لگے، تو ایسی صورت میں شادی نہ کریں۔ اچھا نہ لگنا اور برا لگنا یہ دو علیحدہ باتیں ہیں، ذرہ سے لفظ کے اختلاف سے معنی بدل جاتا ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ نفسیات اور لسانیات کا بہت گہرا تعلق ہے۔

تو یہاں دو باتیں ہوئیں، اگر تو لڑکا یا لڑکی وہ بری لگی تو شادی نہ کریں اور اگر اچھا یا اچھی نہیں لگی تو ایسی صورت میں عموما یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو اچھے نہیں لگتے لیکن ساتھ رہنے سے مانوسیت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ دوستوں میں ایک ساتھ رہنے سے مانوسیت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اس صورت میں استخارہ کر لیں، ایک دن، دو دن، سات دن کر لیں، پھر دل کا میلان اور ذہن کا رجحان دیکھیں، جس طرف ہو وہ کام کر لیں۔ شادی میں مال کو اہمیت دینا تو بے کار سمجھتا ہوں لیکن خاندان کو ضرور اہمیت دینی چاہیے، خاندانی صفات ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

دوسری وجہ کہ جس کو سب سے زیادہ شادی میں بنیاد بنایا جاتا ہے، دینداری ہے۔ دینداری میں زیادہ اہم میرے خیال میں عبادات یعنی پردہ اور داڑھی وغیرہ کی نسبت اخلاق یعنی رویے ہیں۔ بس اگر اخلاق اچھے ہوں تو رشتہ طے کرنے میں بالکل دیر نہ لگائیں۔ گھر کا سسٹم اخلاق سے چلتا ہے نہ کہ عبادات سے۔ عبادات، اللہ سے تعلق کی بنیاد ہے اور اخلاق بندوں سے تعلق ہے۔ گھر کا نظام چلانے کے لیے میاں بیوی کا آپس کا تعلق اچھا ہونا زیادہ ضروری ہے. باقی اللہ سے بھی تعلق بھی بہت بہتر ہو تو یہ آئیڈیل ہے ورنہ کم از کم فرائض کی پابندی اور حرام سے اجتناب تو ہو۔ اور احادیث میں جہاں رشتوں میں دینداری کو ترجیح دینے کا حکم ہے، وہاں بعض طرق میں بھی اخلاق کا ذکر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *