ہوم > کالم > خادم اعلیٰ کے تخت تلے غریبوں کی تذلیل۔۔۔محمد صفدر سکھیرا

خادم اعلیٰ کے تخت تلے غریبوں کی تذلیل۔۔۔محمد صفدر سکھیرا

کارڈ ہے؟ نہیں؟ اترو نیچے۔ سپیڈو بسوں میں صبح سے لیکر رات تک غریب مسافروں کی تذلیل معمول بن گئی ہے جس مسافر کے پاس میٹرو بس والا کارڈ نہیں وہ ان نئی بسوں میں سفر کا مزہ نہیں لے سکتا۔ نتیجتاً نئی بسیں سارا دن سڑکوں پر تقریباً خالی دوڑتی رہتی ہیں۔ حکومت کی طرف سے دی گئی سہولت شہریوں کے لئے زحمت بن گئی ہے۔ بار بار ایک ہی رونا روتے ہیں کہ بیوروکریسی کو عوام دوست بنایا جائے۔ فرعون صفت بیوروکریسی کی گردن میں اتنا سریا ہے کہ وہ نیچے جھک کر دیکھ ہی نہیں سکتی اس کے پاﺅں تلے غریب عوام کیسے کیسے کچلے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں کس نے اتنا قیمتی مشورہ دیا ہے کہ سپیڈو بسوں میں کارڈ کے بغیر انٹری بند کردی جائے۔ وزیراعلیٰ صاحب یہ صوبائی دارالحکومت ہے یہاں پورے صوبے بلکہ پورے ملک کے شہری آتے ہیں جن روٹس پر سپیڈو بسیں چلائی گئی ہیں وہاں صرف ان علاقوں کے لوگ سفر نہیں کرتے بلکہ کوئی مسافر پنڈی سے آیا ہے تو کوئی گوجرانوالہ سے، کوئی ملتان سے آیا ہے تو کوئی راجن پور سے۔ اپنے کاموں کے لئے یا عزیز رشتے داروں سے ملنے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا ،کشمیر سے آئے لوگ بھی یہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں جو شخص چند دنوں یا صرف ایک یوم کے لئے لاہور آیا ہے وہ کارڈ کیوں خریدے گا کیونکہ جب اس نے واپس چلے جانا ہے تو یہ کارڈ ضائع ہو جانا ہے لہٰذا اس کو کیا ضرورت ہے بلاوجہ پیسے ضائع کرنے کی۔ سپیڈو بس سروس شروع تو عام اور غریب عوام کے لئے کی گئی ہے مگر شرائط ایلیٹ کلاس والی رکھ دی گئیں۔ حکمران ذرا سوچیں جب ایک مسافر کو خالی بس میں سوار ہونے سے روک دیا جاتا ہے یا سوار ہونے کے بعد نیچے اتار دیا جاتا ہے تو کیا اس کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی۔ یہ بسیں حکمرانوں کے ذاتی پیسے سے نہیں چل رہیں، عوام کے پیسے سے سارا دن خالی دوڑائی جارہی ہیں۔ میٹرو بس میں سفر کے لئے مینو¿ل طریقے سے ٹوکن حاصل کیا جاسکتا ہے تو اس بس سروس میں کیوں نہیں اور اگر ارباب اختیار کی یہ سوچ ہے کہ جن روٹس پر سپیڈو بسیں چلائی گئی ہیں وہاں صرف ان علاقوں کے لوگ سفر کرتے ہیں تو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سسٹم جس طرح تباہ کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بغیر کسی پلاننگ کے بے شمار روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کو بند کردیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گھنٹوں بس سٹاپس پر ذلیل و خوار ہونے کی بجائے روز آنے جانے والے مسافروں نے اپنا پیٹ کاٹ کر موٹرسائیکلیں لے لیں جس سے وقت کی بھی بچت اور ذہنی اذیت سے بھی چھٹکارا ملا۔ شہریوں کی زیادہ تعداد ذاتی سواری پر دفاتر یا کام والی جگہوں پر جانے کو ترجیح دیتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر صرف وہی سفر کرتا ہے جس کے پاس متبادل سواری کا بندوبست نہیں یا دوسرے شہروں سے آئے لوگ سفر کرتے ہیں۔ حکمران ترقیاتی منصوبے شروع کرکے جو عوام پر احسان جتلاتے ہیں تو ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکیں یہ پیسہ کونسا اپنی جیبوں سے لگاتے ہیں۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرتے ہیں وہ بھی اپنا ”حصہ“ وصول کرکے۔ عوام سے ایک روپیہ حاصل کرکے فلاح و بہبود پر چونی بھی نہیں لگاتے صرف چند پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ سپیڈو بسوں کو ”سپیڈو سپیڈی“ ضرورچلائیں مگر ان میں سفر حکمرانوں، بیوروکریٹس ، ایلیٹ کلاس نے نہیں عام اور غریب شہریوں نے کرنا ہے لہٰذا غریب کے مسائل کو مدنظر رکھ کر شرائط تھوپیں۔ عوام کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو شعور حاصل ہے اس لیے ان کی ذہنی استعداد، حالات کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ اے سی دفاتر، لگژری گاڑیوں میں سفر کرنے والے پالیسیاں بھی اپنی ٹھاٹھ باٹھ کے مطابق ترتیب دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر پراجیکٹ چند سالوں بعد ہی اپنی افادیت کھودیتے ہیں۔۔

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *