Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > افغانستان کا منظر نامہ ۔۔۔۔تحریر/محمد حسان

افغانستان کا منظر نامہ ۔۔۔۔تحریر/محمد حسان

بنجر زمین اور سنگلاخ پہاڑوں کے دیس افغانستان میں کیا ہونے جا رہا ہے ۔۔۔؟ تیز رفتاری سے بڑے بڑے واقعات ہونے لگے ہیں ،گزشتہ بیس دنوں کی خبریں حیرت انگیز ہیں ۔
حالیہ چند دنوں میں پہلی بار افغانستان اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا جب (1) روس نے 14 اپریل کو ماسکو میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کانفرنس منعقد کروائی ۔12 ممالک کی اس کانفرنس کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اس میں جناب امریکہ بہادر کی شرکت نہیں تھی ۔ اس نے دعوت ملنے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس بلانے سے پہلے مشاورت کیوں نہیں کی گئی ۔
(2) کانفرنس سے اگلے ہی روز 15 اپریل کو امریکہ نے اپنی موجودگی کا احساس ایسا دلایا کہ ایٹم بم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا بم جسے بموں کی ماں کا نام دیا گیا ہے ۔۔افغان صوبہ نگرہار کے گاوں میں گرا دیا اور دعوی کیا کہ یہاں داعش کا بڑا ٹھکانہ تباہ کیا گیا ، اس حملے میں داعش کے 94 عسکریت پسند مارے گئے ۔
(3)ابھی بموں کی ماں کا دھواں چھٹا نہ تھا کہ طالبان نے اکیس اپریل کو شمالی صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف کے فوجی مرکز پر بڑا حملہ کر دیا ،”موسم بہار کی کارروائی” اس قدر بڑی اور اثر انگیز تھی کہ عالمی میڈیا نے دو سو فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف جبکہ طالبان نے 500 مارے جانے کادعویٰ کیا ۔۔گویا طالبان نے جواب دیاکہ ہم بموں کے باپ ہیں۔

ان تینوں بہت بڑے واقعات کا ماحاصل یہ تھا کہ روس نے دیگر بارہ ممالک کو ملا کر کانفرنس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اب خطے میں اسکا نفوذ بڑھ رہا ہے ۔ طالبان مذاکرات کریں۔۔۔ امریکہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور متوجہ کیا کہ تم سب لوگوں نے لاحاصل کانفرنس کی ہے ، افغانستان کیلئے اب اصل خطرہ داعش ہے جس پر موثر کارروائی میں نے کی ہے ۔امریکہ کی جانب سے اس بم کا انتخاب روس اور شمالی کوریا کو اپنی قہر آلود آنکھیں دکھانا بھی تھا ۔۔ جبکہ طالبان نے فوجی مرکز پر بڑا حملہ کرکے سب کو اپنی طاقت کا احساس دلادیا کہ دشمن کیلئے اصل خطرہ آج بھی ہم ہی ہیں ۔

اس سارے منظر نامے میں اب تک کا کلائمیکس انجینئر گلبدین حکمت یار کا نمودار ہونا ہے ۔ حکمت یار کی واپسی نے اُن سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا جو طالبان سے پہلے کے افغانستان کو جانتے ہیں ۔ ۔

حکمت یار دھوئیں کے بادلوں اور بارود کی بو سے بوجھل فضا میں نمودار ہوئے ہیں ۔ انکی آمد سے قبل 5 سال سے زائد عرصے تک مذاکراتی عمل چلتا رہا ۔ اور انکے سیاسی عمل میں حصہ لینے کیلئے پہلے تمام تر اقدامات مکمل کئے گئے ، حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان گزشتہ برس ستمبر میں کابل کے صدارتی محل میں باضابطہ معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ امریکہ سے عالمی دہشت گرد ڈکلئر کرنے کا اعلان واپس کروایا گیا ، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے عائد سفری پابندیوں کو ختم اور منجمند اثاثوں کو بحال کروایا گیا ، افغان حکومت نے جیلوں میں بند قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی مکمل کی ۔ اس کے بدلے حکمت یار نے سیاسی عمل کا ساتھ دینے اور جنگی کاروائیاں بند کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔۔ اور غیر ملکی افواج کی ملک سے واپسی کو سیاسی عمل سے ممکن بنانے کااعلان کیا ۔۔۔

یہ تمام تر انتظامات مکمل ہونے کے بعد سب سے پہلے ایک کمرے میں حکمت یار کی ملاقاتوں کی تصاویر منظر عام پر آئیں ۔۔۔ وہی سیاہ عمامہ مگر داڑھی اب مکمل سفید ہو چکی تھی ۔ 69 سالہ حکمت یار لوگوں سے گلے مل رہے تھے اور بہت سے بزرگ فرط جذبات سے آبدیدہ نظر آرہے تھے۔

حکمت یار نےافغانستان کے صوبے لغمان میں اپنے پہلے خطاب میں طالبان کو امن کاروان میں شمولیت کی دعوت دی انہوں نے طالبان سے ہتھیار پھینک کر لاحاصل جنگ چھوڑ کر مذاکرات کا آغاز کرنے کی اپیل کردی ۔ انہوں نے کہا کہ “میں ایک آزاد، خودمختار، بافخر اور اسلامی افغانستان چاہتا ہوں” ۔
اکیس سال کے بعد حکمت یارکے منظر عام پر آنے کو افغانستان کی تمام سیاسی قیادت نے تازہ ہوا کا جھونکا قراردیا ۔

حکمت یار کے کابل پہنچنے کیلئے خاصی تیاریاں کی گئی ، کابل کی سڑکوں میں خوش آمدیدی بورڈز اور استقبالیہ بینرز آویزاں تھے ۔ ان کو سینکٹروں گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں کابل لایا گیا ۔ سڑکوں کے دونوں جانب شہریوں کی طویل قطاریں ہاتھ ہلاتے استقبال کیلئے موجود تھیں۔ اکیس سال بعد کابل میں حکمت یار کی آمد پر یہ ایک شاندار اور پرتپاک استقبال تھا ۔ سرکاری سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی ۔۔۔ ایک متاثر کن استقبال ، انگریزی میں مختصرا جسے اوسم کہہ دیا جائے ۔ کابل کے صدارتی محل میں صدر اشرف غنی ،سابق صدر حامد کرزئی ،عبداللہ عبداللہ اور استاد سیاف کے درمیان سرخ قالین پر چلتے ہوئے حکمت یار کو گارڈ آف آنر دیا گیا ۔ اور پھر صدارتی محل میں ہونے والی تقریب میں ان سب نے خطاب کئے ان سارے مناظر کو افغان اور عالمی میڈیا نے براہ راست دکھایا ۔ اگلے روز حکمت یار عوامی استقبالیہ میں پہنچے ۔ کابل اسٹیڈیم میں عوام کا جم غفیر خاصا پرجوش تها ۔ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا تھا ۔ گویا غیر معروف ہوجانے والی حزب اسلامی کے سب چاہنے والے اپنے آپ کو اتنا عرصہ چھپائے بیٹھے تھے ،یا خاموشی سے اپنی قوت مجتمع رکھتے ہوئے گھاس میں پانی کی طرح تیرتے جارہے تھے اور اب وقت آیا تو سروں کی فصل لہلہا رہی تھی ۔

حکمت یار کی زندگی عجیب و غریب نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے ۔ عروج و زوال کی حیرت انگیز داستان ہے۔۔ ۔۔ انتھک جدوجہد سے عبارت حکمت یار کی زندگی کے بے شمار گوشے ہیں ۔ ایک ایک گوشہ اپنے اندر لاتعداد داستانوں اور گہرے رازوں کو سموئے ہوئے ہے۔
روس کے خلاف افغان جہاد کا آغاز کرنے اور پھر اسے بام عروج تک لے جانے کا دور ۔۔۔!
یہ دور ایک مجاہدہیرو کے طور پر حکمت یار کی پذیرائی کا دور تھا ۔۔ہر طرف سے محبتیں اور چاہتیں نچھاور ہوتی رہیں ۔۔ اتنی پذیرائی ملی کہ ایک دیو مالائی کردار کے طور پر جانے جانے لگے ۔ ۔دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے کارکنوں پر انکی مقناطیسی شخصیت نے سحر طاری کئے رکھا ۔۔

اسکے بعد روسی فوجوں کی واپسی کے بعد سے حکمت یار کے وزیر اعظم بننے تک کا دور ہے ۔۔۔!
یہ افغان گروپوں میں خانہ جنگی اندرونی وبیرونی سازشوں اور رگ وپے میں زہر گھول دینے والی تلخیوں کا زمانہ رہا ۔
اور پھر طالبان کے افغانستان میں رونما ہونے کے بعد حکمت یار کی گمنامی کا دور شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔!
زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا ۔۔۔ ایسی گمنامی کہ تذکرہ ہی ختم ہوگیا ۔۔۔۔ اور پھر افغانستان میں امریکی تسلط کے خلاف جدوجہد کادور ۔۔ ۔ اس دور میں حکمت یار کے بارے میں مہینوں بعد کوئی خبر تو آجاتی مگر روپوشی کا یہ عالم کہ کوئی گرد بھی چھو نہ سکا ۔۔۔
اور اب بیس سالہ جلا وطنی روپوشی اور گمنامی کے بعد منظر عام پر آنے کا دور شروع ہوا چاہتا ہے ۔ گزشتہ 20 سالوں کے سب راز حکمت یار کے سینے میں ہیں ۔۔ پاکستان ، ایران ، سعودی عرب سمیت امریکہ وروس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تہہ در تہہ کرداروں اور کہانیوں کی مورخین کو ہمیشہ سے ہی تلاش اور جستجو رہی ۔۔

حکمت یار کے دوبارہ منظر عام پر آنے کے حوالے سے جب بھی کوئی خبریں آئیں تو خاص طور پر پاکستانی تجزیہ کار وں نے انہیں زیادہ اہمیت نہ دی ۔ اور حکمت یار کو بس ماضی کے ایک کردار کے طور پر ہی دیکھا

مگر حکمت یار کی واپسی پر افغانستان میں ملنے والی “پذیرائی”۔ ۔۔ایک بار پھر سے ماضی کے اس ہیرو کی، مستقبل کے افغانستان میں “حکمت کاریوں” کا پتہ دے رہی ہے ۔

افغانستان کے اس سارے منظر نامے میں خاص طور پر حکمت یار کی حکومتی رضامندی سے سیاسی عمل میں شمولیت اور عوامی پذیرائی پر ، ستر فیصد علاقے پر قابض افغان طالبان فی الحال خاموش ہیں ۔ جبکہ داعش جمہوری قیادت اور طالبان دونوں سے لڑنے کیلئے پنپ رہی ہے ۔ بہرحال چاروں جانب سے بھارتی اثر میں گھری افغان سیاسی قیادت میں حکمت یار کا یوں ابھر کر آنا بھارت کیلئے پریشانی اور پاکستان کیلئے نیگ شگون اور حوصلے کی علامت ہے

دیکھنا ہے کہ سرزمین کابل کے کھنڈرات میں تیزی سے بننے والی بلند و بالا عمارتوں میں گہرے شیشوں کی چمک پیدا ہوگی یا ایک بار پھر کھنڈرات ان کا مقدر ہیں ؟

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

ایک تبصرہ

  1. بہت عمدہ تحریر ۔۔۔ لگتا ہے افغانستان پہ گہری نظر ہے اپ کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *