Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں حجاب پر پابندی – تنویر احمد

اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں حجاب پر پابندی – تنویر احمد

پاکستان نرسنگ کونسل نے حفاظتی وسیکیورٹی وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے ملک بھر کے نرسنگ اسکولوں اور کالجوں میں طالبات پر دورانِ ڈیوٹی حجاب پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور شنید یہی ہے کہ یہ قدم عطیہ دینے والے غیر ملکی اداروں کی جانب سے فنڈز وصول کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔”اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں حجاب پر پابندی کی خبر ہی ایسی ہے کہ ہرمحبِ وطن پاکستانی مسلمان کے دل کو ٹھیس پہنچنا لازمی امر ہے۔ کیونکہ وطنِ عزیز کو علیحدہ ریاست بنانے کی تحریک کے پیچھے یہی جذبہ کار فرما تھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی ریاست ہونی چاہیے جہاں وہ اسلامی تعلیمات پرمکمل آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہوسکیں۔ آج حجاب پر پابندی کا فیصلہ نا صرف تحریکِ پاکستان کی جدوجہد میں ان اجڑے اور بچھڑے ہوئے خاندانوں، لٹی عصمتوں اورلاکھوں بے گناہوں کے خون اور ان کی لازوال قربانیوں کے ساتھ مذاق اور پاکستان سے وابستہ ان کی آرزؤں کا خون ہے بلکہ عالمی طور پر’’ بنیادی حقوق کی آزادی ‘ ‘کے سپر ہٹ نعرہ کی بھی دھجیاں اڑادی گئیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ ہی عرصہ قبل جب حجاب پہننے پر اضافی پانچ نمبر دینے کی سفارش کی گئی تھی تو “خود ساختہ انسانی حقوق” کے علمبرداروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے تھے۔ اس کے خلاف درجنوں بیسیوں صفحات کالے کئے گئے، میڈیاٹاک شوز میں اس ’’ہاٹ اشو ” کو بڑے اہتمام کے ساتھ اچھالا گیا اور آصفہ بھٹو صاحبہ کاطنزسے بھرپورٹویٹ بھی نیوز چینلوں پرگردش کرتا نظرآیا۔ تب توحجاب پہننے کی محض ترغیب تھی جس پر اتنا طوفان کھڑا کردیا گیاتھاجبکہ یہاں ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی حرمت وتقدس کے ضامن “حجاب” کو اتار نے کا اعلان کیا گیا ہے۔ زبردستی مسلط کیا گئے اس فیصلے پر “آزادی ” کے علمبرداروں کے ایوانوں میں سناٹا چھایا ہواہے۔ نیوز چینلوں کو “پانامہ کے پاجامے” کی سلائی سے فرصت ملے گی تو اس مسئلہ پر کوئی ٹاک شو کریں گے۔

واقعہ یہ ہے کہ جس طرح کچھ دہشت گرد وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں پر حملہ آورہورہے ہیں تو دوسری طرف بعض “دہشت گرد” عناصر ملک کی نظریاتی سرحدوں کومنہدم کرنے میں مصروف ہیں۔ چنانچہ دہشت گردی کو مذہب سے جوڑکر اسلام کو بدنام کرنا، توہینِ رسالت کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کے لیے راستے ہموار کرنا اور سوشل میڈیا پر محسنِ انسانیت ﷺکی شانِ ارفع کو نیچا دکھانے کی ناکام کوششیں اسی سلسلے کی مربوط کڑیاں ہیں۔ مسرت اس بات پر ضرور ہے کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی رکھوالی کے لیے پاک فوج ہمہ تن گوش مصروف عمل ہے اور کامیابیاں سمیٹ رہی ہے لیکن افسوس اورحیرت اس پرہے مملکتِ خداداد کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع کمزور دکیسے پڑ گیا؟ یہ محاذدہشت گردوں کی آمد ورفت کے لیے خالی کیوں چھوڑا گیا؟نظریاتی سرحدوں کی رکھوالی آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کی گئیں؟سوال یہ ہے کہ کیا وطنِ عزیز کی نظریاتی سرحدوں کی اہمیت اس کی جغرافیائی سرحدوں سے کم ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دھرتی یا زمین اپنی ذات میں کوئی فضلیت یا مقام نہیں رکھتی۔ عربی کا مقولہ ہے “شرفُ المکان بِالمَکینِ” جسے غالب نے کہا کہ “ہر اک مکاں کو ہے مکیں سے شرف” وگرنہ زمین تو ساری دنیا کی ایک ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ زمین کے ہر خطے کے مکینوں نے اپنی لسانی، ماحولیاتی یامذہبی شناخت کے پیشِ نظر اس کے مختلف حصوں کے مخصوص نام رکھ دئیے۔ چنانچہ افغانی بولنے والوں نے افغانستان، چینی زبان والوں نے چائنہ،ہندومت کے پیروکاروں نے ہندوستان کا نام تجویز کیا (علی ہذا القیاس)تو زمین کے یہ حصے انہیں ناموں سے پہچانے اور پکارے جانے لگے۔ جب مملکتِ خداد کے قیام کی تحریک شروع ہوئی تو بانیانِ تحریک نے اپنی لسانی ودیگر شناختوں سے قطعِ نظر کرتے ہوئے،جس نظریہ کے تحت الگ ریاست کا مطالبہ کیا تھا، اسی نظریے کو سامنے رکھا۔ اورزمین کے اس حصے کے لیے “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کا نام تجویز کیا گیا۔ جو اس بات پر دال ہے کہ اس کا خمیر اسلامی بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے، اس کے آئین میں اسلامی روح ڈال دی گئی اور آئین پاکستان میں واضح طور پر بتایا گیا کہ “ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جاسکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جاسکے گا، جو کتاب و سنت کے خلاف ہو”۔ اب اگر پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں سے اس کی نظریاتی شناخت چھین لی جائے تو پھر محض جغرافیہ کے لحاظ سے اس سرزمین کا نام توضرور رہے گا لیکن روح کے بغیر مردہ جسم کی طرح اور یہ قیامِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہی اس دشمن کی خواہش ہے جو وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کو کھل کر نشانہ بنارہاہے اور وہ نظریاتی سرحدوں کو بھی کھوکھلا دیکھنا چاہتاہے۔

آئین پاکستان کے تناظر میں اب حکومت کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ محبِ وطن ہونے کے ناطے آئینی تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے اس فیصلے کو نافذ کرنے سے پہلے ملک کے آئینی ادارہ “اسلامی نظریاتی کونسل ” یا مستند دارالافتاؤں سے مسئلے کی شرعی حیثیت معلوم کی جائے کہ سیکورٹی اور حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر حجاب پر پابندی عائد کرنا شرعاً کس حد تک درست ہے؟اورجن بنیادوں پر یہ مفروضہ قائم کیا گیاہے اس کی دستاویزات بھی منسلک کی جائیں کہ واقعتاً حجاب سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات متاثر ہورہے ہیں یا دیگر مفادات ۔ شرعی حیثیت معلوم ہوجانے کے بعد اس کی آئینی اور قانونی حیثیت بھی معلوم ہوجائے گی۔ جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرناآسان ہوجائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *