Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > تھوڑی سی تو لفٹ کرا دو – معلمہ ریاضی

تھوڑی سی تو لفٹ کرا دو – معلمہ ریاضی

کیا ایسا کبھی ہوا ہے آپ کے ساتھ کہ آپ بازار جائیں. کسی دکان سے خریداری کر رہی ہوں یا کسی سواری کے انتظار میں لبِ سڑک کھڑی ہوں اور کوئی بچہ، ادھیڑ عمر یا بوڑھا آ کے آپ سے کچھ اس طرح ہم کلام ہو جائے.

السلام علیکم!
آپ چونک کر پلٹ کے دیکھیں اور بطور اخلاق جواب دے دیں،
وعلیکم السلام،
اور دوبارہ اپنے کام پہ توجہ مرکوز کر لیں.
لیکن آنے والا پہ درپہ سوالات کرنے لگے
کیسی ہیں آپ ؟
کہاں سے ہیں؟
کیا کرتی ہیں؟
یہاں کیا کر رہی ہیں؟
میں فیصل آباد سے ہوں؟
آپ کہاں سے ہیں؟ کراچی سے؟
آپ نقاب میں کیوں ہیں؟
میں اتنی دیر سے آپ سے بات کر رہا ہوں، مجھے تو اپنا چہرہ دیکھا دیں؟
آپ جواب کیوں نہیں دے رہی ہیں؟
یہ میرا موبائل ہے، اچھا ہے نا؟
یہ میری نوٹ بک ہے، اس پہ لکھ دیں کہ آپ کو میرا موبائل پسند آیا.
پلیز لکھ دیں پلیز .

کیا خیال ہے؟ مندرجہ بالا جاہلانہ سوالات پہ آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟
کیا آپ پاگل ہیں جو مجھ سے ایسے احمقانہ سوالات کر رہے ہیں؟
اور جواب میں وہ موصوف بجائے شرمندہ ہونے کے کہنے لگیں ”آپ بازار میں آئی کیوں ہیں؟“
ذرا سے سوالات کیا کر لیے نخرے دکھانے لگیں، جواب دو نخرے نہ دکھاؤ!

آپ کا دل کیا چاہے گا؟
ایسے ناہنجار کو گولی مار دینے کا نا، جس کے خیال میں اگر کوئی خاتون یا لڑکی یا بچی گھر سے نکلی ہے تو اس کو کوئی بھی مخاطب کر کے اوٹ پٹانگ سوالات کر سکتا ہے.

ارے کیا آپ کو ہنسی آرہی ہے کہ ’معلمہ جی ایسا کہاں ہوتا ہے!‘
چلیے مان لیا کہ ایسا بازاروں میں نہیں ہوتا.
لیکن سماجی روابط المعروف سوشل میڈیا پہ تو ہوتا ہے نا؟

کیا وجہ ہے کہ بازار میں کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا ہم سے بلاوجہ کے سوالات کرے تو ہم غصہ ہو جاتے ہیں مگر وہی سوالات سوشل میڈیا پہ کوئی اجنبی کرے تو ہم جواب دینے بیٹھ جاتے ہیں؟

نتیجہ یہ ہے کہ خواتین کی وہ اکثریت جو خالص علمی، ادبی، مذہبی و سیاسی سوچ کے تبادلے کے لیے سوشل میڈیا پہ آتی ہے، آئے دن ایسے جاہلانہ سوالات پہ قوم کے مردوں کی چھوٹی سوچ کا ماتم کرتی نظر آتی ہے.

سب سے بڑا جاہلانہ سوال یہ ہوتا ہے کہ ”جی! آپ کی کوئی بغیر نقاب کے پِک نہیں ہے؟ دکھا دیں نا، میں کوئی کھا تھوڑی نہ جائوں گا۔“
اس سوال پہ ہم نے چند اچھے خاصے بظاہر پڑھے لکھے اور مذہبی حلیے اور پوسٹ کرنے والے مردوں کو جواب دیا کہ آپ پہلے اپنی والدہ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگم کی تصاویر بھیج دیں، معلمہ کے شوہر اور بھائیوں کو بھی اپنی آنکھیں سینکنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کو.
یہ آئینہ دکھانے پہ وہ مغلظات سننے کو ملیں جس پہ شیطان بھی شرما جائے.

ہم جب سے فیس بک پہ ہیں، بلاشبہ سینکڑوں ان باکس میں جواب کی آس میں سر پٹخ پٹخ کے چلے گئے.
اور کچھ نئے پنچھی ابھی پھڑ پھڑا رہے ہیں.
یار زندہ صحبت باقی

بشکریہ/دلیل ڈاٹ پی کے

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *