Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > پاک بھارت، سرحد پار کی شادیاں

پاک بھارت، سرحد پار کی شادیاں

پاکستانی نوجوان اور بھارتی خواتین میں محبت کی شادی اور اِس کا افسوسناک انجام کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ ہمسایہ ملکوں کی 70 سالہ تاریخ میں ایسی سینکڑوں شادیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے مارچ 2014ء میں کسی دوست نے بتایا تھا کہ ایک پاکستانی لڑکی کی ایک بھارتی لڑکے سے شادی ہوئی ہے۔ لڑکی کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ دوستی بس کے ذریعے نئی دہلی جارہی ہے۔ میرے لئے یہ ایک اچھی اور دلچسپ خبر تھی، ویسے بھی دوستی بس کا ٹرمینل گلبرگ میں ہمارے آفس سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا، میں نے کیمرہ مین کو ساتھ لیا اور دس منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔

بس کے دیگر مسافروں کے ساتھ ساتھ 21، 20 سال کی ایک لڑکی دلہن بنی بیٹھی تھی۔ اِس کے ساتھ اُس کے والد اور والدہ سمیت خاندان کے کچھ دیگر افراد بھی اُسے الوداع کرنے آئے تھے۔ لڑکی خاندان کے دیگر دو افراد کے ہمراہ نئی دہلی جارہی تھی۔ نادیہ مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور اُس نے انٹرنیٹ پر دوستی کے بعد نئی دہلی میں مقیم ایک ہندو لڑکے سے شادی کرنا تھی۔ گھروالوں نے بیٹی کو دلہن کے روپ میں رخصت کیا اورنادیہ انڈیا چلی گئی۔

بھارتی خاتون ڈاکٹرعظمیٰ کی پاکستانی نوجوان طاہر سے دوستی، پھر شادی اورچند دن بعد ہی علیحدگی کی خبریں سن کر مجھے یہ واقعہ یاد آگیا تھا۔ ڈاکٹرعظمیٰ کے ویزا فارم میں اُس نے خود کو گھریلو خاتون ظاہرکیا ہے۔ نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی بھارتی خاتون ڈاکٹرعظمیٰ اور بونیر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری طاہر علی ملائیشیا میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے تھے اور ڈاکٹر عظمیٰ یکم مئی کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچی، جبکہ 3 مئی کو دونوں نکاح کرکے شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے، تاہم پانچ مئی کو ڈاکٹرعظمیٰ اور طاہرعلی بھارتی سفارتخانے گئے جہاں ڈاکٹرعظمیٰ نے سفارتخانے میں پناہ لے لی اور طاہرعلی کو واپس بھیج دیا گیا۔

8 مئی کو ڈاکٹر عظمیٰ کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اُس نے بیان ریکارڈ کروایا کہ وہ شادی کرنے پاکستان نہیں آئی تھی، اِس کی زبردستی شادی کی گئی اور اب وہ واپس بھارت جانا چاہتی ہے۔ ڈاکٹرعظمیٰ اِس وقت بھارتی سفارتخانے کی مہمان ہے۔

پاکستانی اور بھارتی شہریوں کے درمیان شادیوں کا رواج کچھ عام نہیں، تاہم جن جوڑوں نے ایسا کیا، انہیں بے شمار مسائل کا سامنا رہا ہے۔ کہیں دھوکہ دہی کے واقعات نے نئے سفر کی منزل کو دور کردیا تو کہیں دونوں ملکوں کے مابین روایتی نفرت نے شادی کے بندھن تڑوا دیئے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں تنازعات میں گھرے ملکوں کے جوڑوں نے آپس میں شادیاں کیں اور پھر کئی مشکلات اور تکالیف کا سامنا کیا، تاہم شاید پاکستان اور بھارت وہ واحد ممالک ہیں جہاں یہ مسئلہ سب سے زیادہ ہے۔

جنوبی ایشیا کے اِن دو حریف ممالک کے درمیان بد اعتمادی، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور جنگ کے لاحق خطرات کے واضح اثرات اُن شہریوں کی عمومی زندگی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفری دستاویزات کے حصول میں آسانیاں ہوتی ہیں تو یہ بِچھڑے جوڑے آپس میں ملنے کا سوچتے ہیں اور اگر یہ کسی ایک ملک میں ہوں تو اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اہل خانہ کے دیگر افراد سے مل سکیں۔درجنوں جوڑے ایسے بھی ہیں جن کی شادیاں ہوچکیں، اُن میں کوئی اختلافات نہیں ہیں لیکن دونوں ملکوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے وہ آپس میں مل نہیں پاتے ہیں۔

دشمن ملکوں سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کو شادی کے بعد کئی طرح کے طعنوں اور الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور ایسے افراد کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی میڈیا ایک دوسرے کو جس انداز سے پیش کرتے ہیں، ایسے حالات میں اِن جوڑوں کی زندگیوں کو مزید کئی طرح کی تلخیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ایسے واقعات کے باوجود کئی جوڑے ایسے بھی ہیں جنہوں نے پسند کی شادی کی اور اب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔ مئی 2014ء میں بھارتی خاتون ڈاکٹر پراتیما نے پنجاب کے علاقے لیہ میں رہائش پذیر محمد منشاء سے پسند کی شادی کی، لڑکی نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا اور اِس کا نام مریم رکھا گیا۔

رواں سال کے دوسرے مہینے یعنی فروری میں دبئی میں مقیم پاکستانی اور بھارتی جوڑے عدنان اور شازیہ نے والدین کی رضامندی سے شادی کی تھی۔ دونوں کی ملاقات 12 سال قبل دبئی کی یونیورسٹی میں ہوئی تھی جس کے بعد دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی اور پھر دونوں رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ دونوں کی شادی پاکستانی روایات کے مطابق کی گئی جس میں تیل، مہندی اور ولیمہ جیسی تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ شادی میں بھارت اور پاکستان کے علاوہ دولہا اور دلہن کے دوستوں نے امریکا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے بھی شرکت کی تھی۔ یہ دونوں آج بھی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کی شادی کا سفر بھی کامیابی سے جاری ہے۔ دونوں کی شادی اپریل 2010ء میں ہوئی تھی۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی کرکٹر محسن حسن خان نے بھارتی اداکارہ رینا رائے سے شادی کی۔ 2015ء میں بھارتی ریاست جے پور میں پاکستانی نوجوان کی بھارتی لڑکی سے دھوم دھام سے شادی ہوئی، بھارت میں اِس شادی کے خوب چرچے ہوئے۔

پاکستانی نوجوان کرنی سنگھ سوڈھا کی بھارتی لڑکی پدمنی راٹھور سے شادی ہوئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پور کے کنوٹا قلعے میں بچھائے گئے ریڈ کارپٹ پر بھارتیوں نے پاکستانی باراتیوں کا استقبال بینڈ باجوں کے ساتھ کیا تھا، جبکہ ڈھول کی تھاپ پر راجستھانی رقص بھی پیش کیا گیا تھا۔ پاکستانی دولہا کرنی سنگھ ہاتھی پر بیٹھ کر دلہن بیاہنے گئے تھے۔ دولہا اور دلہن کے خاندان 1947ء میں آزادی کے بعد جدا ہوگئے تھے۔ دولہا کرنی سنگھ کا تعلق پاکستان کے ضلع عمر کوٹ سے ہے۔

نومبر2016ء میں  بھارتی ریاست جودھ پور کے رہائشی نریش تیوانی کی کراچی کی رہائشی پریا بچانی سے شادی ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس شادی کے لئے بھارتی سفارتخانے نے پاکستانی دلہن اور اِس کے خاندان کو ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کی ذاتی دلچسپی سے یہ شادی ممکن ہوسکی تھی کیونکہ دلہا کے والد کنہیا لال تیوانی نے شکایت کی تھی کہ بروقت ویزہ ملنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، جس کی وجہ سے شادی کی رسومات التواء کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔

ششما سوراج تک جب یہ معاملہ پہنچا تو انہوں نے دلہن کے تمام خاندان کو ویزہ دینے کا وعدہ کیا جس کے بعد اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے 35 افراد کو ویزے جاری کردئیے۔ دلہن پریا بچانی نے جودھ پور پہنچنے کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنی شادی کے بارے میں مایوس ہوچکی تھیں لیکن بھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کے باوجود اُن کے لئے بھارت پہنچنے کے انتظامات کئے اور اِس شادی کو ممکن بنادیا جس سے پورا خاندان خوش ہے۔

گزشتہ برس ایک پاکستانی خاتون سلویا نورین کی بھارتی شہری ڈینئل ہینری سے شادی ہوئی، شادی کے بعد ہینری بھارت چلا گیا لیکن اِس کی بیوی کو ویزا نہ مل سکا۔ دونوں نے کوششیں جاری رکھیں جس کے بعد رواں سال مارچ میں سلویا نورین کو بھارتی سفارتخانے نے ویزا جاری کیا اور وہ 19 اپریل کو بھارت چلی گئی اور اب اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔

2002ء میں بھارتی شخص گلزار عرف سہیل تانترے نے پاکستانی خاتون روحینہ کیانی سے شادی کی اور یہاں مقیم ہوگیا۔ اِس دوران اُن کا ایک بیٹا پیدا ہوا، مارچ 2016ء میں گلزار اپنے بیٹے کو لے کر گھرسے نکلا اور اسے بھارت لے گیا جہاں اُسے گرفتارکرلیا گیا کیونکہ گلزارعرف سہیل تانترے 1999ء میں غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کرکے مظفرآباد آیا تھا اور یہاں اُس نے روحینہ سے شادی کی تھی۔ واپس بھارت جانے پر گلزار کو گرفتار کرلیا گیا تاہم پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے بچہ واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

فیصل آباد کے نواحی علاقے چک جھرہ کے رہائشی اسکول ٹیچر قیصر نے زہرہ مریم سے شادی کی جو شادی سے قبل ہندو تھی اور اِس کا نام بینرچی جبکہ والد کا نام وجے کرشنا تھا۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی اِس خاتون نے مقامی عدالت میں قیصر سے خلع کی درخواست کی تھی، زہرہ مریم نے موقف اختیار کیا تھا کہ اُس کے سسرال والے لالچی نکلے ہیں، اِس کا شوہر اُس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرتا ہے، لہذا وہ اب مزید اپنے شوہرکے ساتھ نہیں رہ سکتی، اُسے خلع دلائی جائے۔

دونوں ممالک کے ایسے جوڑوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن کا رابطہ انٹرنیٹ پر ہوا، کسی انٹرنیٹ میسنجر کے ذریعے وعدے بھی ہوئے، ٹیلی فون پر ہمیشہ ساتھ رہنے کی قسمیں بھی کھائیں گئیں مگر وہ اب تک ایک دوسرے سے ملاقات تک کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے، کیونکہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دونوں ممالک میں پائی جانے والی روایتی نفرت اور کشیدگی کے مقابلے میں محبت آج بھی کمزور اور ناتواں ہے۔

بشکریہ/آصف محمود،ایکسپریس

نوٹ: ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *