Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > نام میں کیا رکھا ہے مگر۔۔۔!!!رائے صابرحسین

نام میں کیا رکھا ہے مگر۔۔۔!!!رائے صابرحسین

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں والدین ایک عجب روحانی بیماری کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ ٹی وی،کیبل،ریڈیو سے سنتے ہیں یا کسی کتاب یا انٹرنیٹ سے پڑھ کر بچوں کے نام رکھ لیتے ہیں۔ کچھ والدین تو انفرادیت کے چکر میں بچوں کی زندگیاں برباد کر ڈالتے ہیں۔ شوبز سے وابستہ افراد کے نام بچوں کو تفویض کرنے کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ کچھ والدین بچوں کے نام کنیت پر رکھ دیتے ہیں، مثلاً ام حبیبہ، ام ایمن، ابوبکر، ابوطالب وغیرہ۔ یہ درست نہیں۔ کئی ایک والدین کے پیش نظر شیکسپیئر کا یہ جملہ بھی ہوتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے؟ سچ تو مگر یہ ہے کہ نام صرف کسی شخصیت کا پہلا تعارف ہوتا ہے بلکہ اُس کے گہرے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ بعض ماہرین تو ناموں کے پہلے حروف سے ہی کسی کی شخصیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مثلاً جن کا نام ایم سے شروع ہو گا وہ ذہین، جرأت مند، محنتی،وفادار اور ناصح ہوں گے۔ محمد علی جناحؒ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ امریکہ میں حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ والدین بچوں کے جو نام رکھتے ہیں، وہ اُن کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جارجیا کے رہنے والے بچوں کے ناموں کے ساتھ جارجز اور سینٹ لوئس کے رہنے والے لوئس لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اِسے امپلیسٹ ایگوٹزم یعنی خود پسندی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق نام زندگی بھر ہماری مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔ امریکہ میں عام رواج ہے کہ بیشتر افراد شادی سے قبل اپنے جوڑے کی تلاش کیلئے اپنے ساتھی کے آخری نام اور اپنے آخری نام میں مماثلت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیا یہ توہم پرستی ہے؟ ماہر علم الاعداد علی محمد کا کہنا ہے کہ آواز کی ایک وائبریشن یا انرجی ہے،جب کوئی بھی آواز منہ سے نکلتی ہے تو اُس کا اثر ہوتا ہے اور اُس وائبریشن سے پوزیٹو یا نیگٹو فریکوئنسی انرجی نکلتی ہے جو اثر رکھتی ہے،اِس لیے نام انتہائی سوچ سمجھ کر رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایک نکتہ اور پیش کیا کہ ماں کے نام پکارنے کے اثرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر الفاظ کے اثرات نہیں ہوتے تو سوچیے کہ گالی سنتے ہی تن بدن میں آگ کیوں لگ جاتی ہے؟ تعریف کیے جانے پر ہمیں روحانی خوشی ہوتی ہے، کیوں؟اگر کسی کو برے لقب یا نام سے پکارا جائے تو اُس کا چہرہ کیوں مرجھا جاتا ہے؟ یاحیرت! پھر بھی کچھ لوگ قرآن و سنت سے دلائل مانگتے ہیں۔ شاعر مشرق نے فرمایا تھا عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے فرمایا گیا:لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت میں تخلیق کیا۔ اللہ نے انسان کو تمام علوم بھی سکھائے، ناموں کا علم بھی۔ یوں فرمایا وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (31) اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام ناموں کا مکمل علم دیکر فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اسماء سے مراد مسمیات (اشخاص و اشیاء) کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھلا دیا۔ اب آپ خود سوچیے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ قرار دیا ہو اور اُسے تمام اختیارات یا علوم نہ بخشے ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کی ثقافت پر ہر لحاظ سے گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپ نے عربوں کی جہاں دیگر بری عادتوں کی تصحیح فرمائی، وہیں سیکڑوں افراد کے نام بھی تبدیل کیے۔ صرف یہ نہیں کہ اُن کے نام بتوں یا جھوٹے خداؤں سے نسبت رکھتے تھے بلکہ اگر اُن کے معنی بھی برے تھے تو بدل دیے گئے۔ تاریخ کے جھروکوں سے چند دلچسپ واقعات گوش گزار کرنے قبل صرف دو مستند ترین احادیث پیش خدمت ہیں۔ رواہ احمد، ابوداوٴد، مشکوٰة میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔ اِسی طرح ابوداوٴد اور مشکوٰة میں ایک دوسری حدیث کچھ یوں ہے: حضرت ابوہب جشمی کہتے ہیں، رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: انبیاء کے ناموں پر اپنے نام رکھو، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور سب ناموں سے سچے نام حارث و ہمام ہیں اور سب سے برے نام حرب اور مُرہ ہیں۔ اب کچھ واقعات بھی گوش گزار کیے دیتا ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ صاحب اولاد ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں خوشخبری سنائی۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کا نام دریافت فرمایا۔ عرض کیا گیا:حرب یعنی جنگ۔ نبی مہربان نے نام بدل کر حسن یعنی صلح رکھ دیا۔ تاریخ نے دیکھا کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے دو دھڑوں کے درمیان صلح کرا دی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت میں تشریف فرما تھے، آپﷺ نے دریافت کیا:کون بکری کا دودھ دھوئے گا؟ ایک شخص اٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نام دریافت کیا۔ اُس کے نام کے مطلب تھا کڑوا۔ آپ نے اُسے بٹھا دیا۔ دوسرے کے نام کا مطلب تھا چنگاری۔ اُسے بھی اجازت نہ ملی۔ تیسرے کے نام کا مطلب تھا زندہ باد۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُسے اجازت مرحمت فرمائی۔ اِس قدر احتیاط کیوں؟ یہ کوئی بڑا کام تو نہ تھا؟ ایک شخص آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ اُس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ حضور ﷺنے بچے کا نام پوچھا۔ نام ایسا تھا جس کے معنی تھے، کھونٹے سے کھلا پاگلوں کی طرح پھرنے والا جانور۔ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا نام عبداللہ تجویز فرمایا۔ باپ نہ مانا۔ وہ بچہ بڑا ہو کر پاگل ہو گیا۔ سفر کے دوران ایک بار راستے میں دو پہاڑ آ گئے، راستہ دونوں کے بیچ میں سے گزرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامی افراد سے دریافت کیا کہ اِن پہاڑوں کے کوئی نام بھی ہیں؟ انہوں نے نام بتائے تو ایک کے نام کا مطلب بدنام کرنے والا، دوسرے کا ذلیل کرنے والا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم طویل چکر کاٹ کر آگے بڑھے اور اُن پہاڑوں کے درمیان سے گزرنا پسند نہ فرمایا۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے “یثرب” یعنی کھجوروں والی بستی میں قدم مبارک رکھتے ہی اُس کا نام تبدیل کر کے “مدینتہ النبی” کیوں رکھ دیا تھا؟

نوٹ: ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *