ہوم > کالم > ٹاٹ کے شاگرد- عبدالقادر حسن

ٹاٹ کے شاگرد- عبدالقادر حسن

محترم قارئین میری غیرحاضری کا آپ کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کئی قارئین اس چھوٹی موٹی غیرحاضری کو بھی محسوس کرتے ہیں اور یہ ان کی بے حد مہربانی ہے کہ میرے اچھے برے خیالات کو پسند کرتے ہیں یا ان سے بچ جاتے ہیں اور اس دن کے اخبار کی قیمت ادا کرنے سے بھی بچ جاتے ہیں۔
ہم لوگ اچھا بھلا معاوضہ لے کر کالم لکھتے ہیں اور ہمارے قارئین بھی اخبار کی قیمت دے کر یہ کالم پڑھتے ہیں۔ اس طرح یہ کالم آپ کے پاس کئی ذریعوں سے اپنی ضروری قیمت وصول کر کے پہنچتا ہے۔کاغذ سے لے کر اس کی تحریر تک کے ہر مرحلے میں اس کی قیمت ادا کی جاتی ہے اور قارئین کو چار وناچار اپنے پلے سے بھی کچھ خرچ کر کے ہی آپ کو اخبار کا یہ ٹکڑا دستیاب ہوتا ہے جس پر یہ کالم چھپا ہوتا ہے جو ضروری نہیں کہ اس کے مندرجات آپ کو پسند بھی ہوں۔
یہ ایک ایسا سامان ہے جو آپ عادتاً خریدتے ہیں اور اکثر اوقات اس کی تحریر پسندیدہ بھی نہیں ہوتی کہ آپ کے خیالات کو ئی اپنی گرہ سے رقم ادا کر کے کیوں خریدے اور یہ تحریر پڑھنے پر اپنا دماغ اور رقم ضایع کرے لیکن یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو قدیم وقتوں سے چلتا آ رہا ہے اور پڑھنے والوں کا ایک ایسا حلقہ ہے جسے اخبار کے قارئین کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا وہ اپنی گرہ سے خرچ کر کے ہمارے ’’خیالات‘‘ کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ یہ سادہ لوح دوسروں تک پہنچاتے بھی ہیں اور ان پر بحث مباحثے بھی کرتے ہیں۔ کسی اخبار کا مالک ایک معقول رقم خرچ کر کے اخبار چھاپتا ہے جو ہم لوگوں کی تفریح بن جاتے ہیں اور پھر ان پر طویل بحثیں شروع ہو جاتی ہیں جو دوسرے دن کے اخبار کی آمد تک جاری رہتی ہیں۔
ایک بات جو میں شروع میں ہی کہنا بھول گیا، وہ میری طویل غیرحاضری تھی۔ اسکول میں یہ خاکسار ایک حاضرباش طالب علم تھا جس کا رجسٹر حاضری ’’حاضر جناب‘‘ سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ اگر کبھی استاد اپنی کسی اچانک مصروفیت کی وجہ سے غیرحاضر ہو جاتا تو وہ مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے یہ حاضری رجسٹر میرے حوالے کر دیتا اور میں اپنے ساتھی طالب علموں پر رعب ڈالتے ہوئے یہ رجسٹر مکمل کر لیتا۔ میری یہ خدمت اسکول کے رجسٹروں پر اب بھی درج ہے۔
کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ یہ رجسٹر مجھے مل جائے لیکن پھر ماسٹر صاحب اس پر راضی نہیں ہوتے اور ریکارڈ وہ اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں جو ان کی کارکردگی کا ایک واضح ثبوت ہے۔ ایک ہیڈماسٹر کے پاس یہی رجسٹر تو ہوتا ہے ویسے امتحان کا نتیجہ کسی اور کے پاس ہوتا ہے اور یہی نتیجہ کسی استاد کی کارکردگی کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
سنا ہے کسی زمانے میں استاد کی ترقی اسی رجسٹر پر ہوتی تھی اور اس کے مندرجات کسی استاد اور طالب علم کی بہتر پڑھائی کا ثبوت ہوتے تھے مگر یہ پرانے زمانے کی با تیں ہیں۔ جب استاد کی کارکردگی کسی سفارش پر نہیں خالصتاً طالب علم کی لیاقت پر ہوتی تھی مگر جیسا کہ عرض کیا ہے نہ صرف یہ پرانے زمانے گزر گئے ہیں بلکہ یہ استاد بھی ختم ہو گئے ہیں جو ایسے لائق طلبہ تیار کرتے تھے اور ان کی لیاقت پر ترقی پاتے تھے۔
ایسے خوبصورت زمانوں کا ذکر اب نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے کہ یہ ہمارے تعلیمی معیار کے وہ شاندار وقتوں کا ذکر ہے جو کوئی استاد اپنے شاگردوں کی قابلیت اور ان کی محنت پر اکڑتا تھا اور یہ اس میں حق بجانب بھی تھا کہ وہ ایک نئی نسل تیار کرنے کا جہاد کرتا تھا اور اس کے شاگرد آنے والے وقتوں میں اپنے ان اساتذہ پر فخر کرتے تھے اور اس میں غلط نہیں تھے۔ ان کی محنت ہر سال ان کے اسکول کی تاریخ میں درج ہوتی تھی۔
یہ تاریخ وہ رجسٹر تھا جو اسکول کے ساتھ عمر بھر زندہ رہتا تھا اور اپنے شاگردوں کی محنت اور قابلیت کا ریکارڈ ہوتا تھا۔کچھ پہلے مجھے اپنی تاریخ پیدائش معلوم کرنی تھی لیکن پٹواری وغیرہ اس کا ذریعہ نہیں تھے۔ مجھے ایک استاد نے کہا کہ کل مجھے اسکول میں مل لینا۔ میں اسکول گیا تو ان کے سامنے ان کے اسکول اور اس اسکول کے طلبہ کی تاریخ رکھی تھی۔ انھوں نے چند طلبہ کے ناموں کی طرف اشارہ کیا۔ ان میں میرا نام بھی درج تھا۔
اسکول داخلے کی مکمل تاریخ کے ساتھ بلکہ کسی پرانے استاد نے میری تعلیمی استعداد اور قابلیت کے بارے میں چند نکات بھی تحریر کر دیتے تھے جو سب کے سب پسندیدہ نہیں تھے بلکہ بعض ناپسندیدہ بھی جن میں ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میری تعلیم سے عدم دلچسپی بھی تھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں پرائمری میں بمشکل کامیاب ہوسکا یا سفارشی کامیابی ملی۔
تعلیم کے یہ وہ زمانے تھے کہ ان وقتوں میں زیرتعلیم طلبہ صرف اپنی قابلیت پر ہی زندہ رہتے تھے۔ بڑی بات ہوئی تو استاد محترم نے چند الفاظ شفقت میں بھی لکھ دیے جن کی وجہ سے امتحان میں کامیابی ذرا آسان ہوئی لیکن استاد اگر سخت مزاج ہوتے تو نئی جماعت تک پہنچنا بھی آسان نہ ہوتا۔ سچ یہ ہے کہ جو طلبہ اس دور میں اساتذہ کی مار کھا کر کامیاب ہوئے وہ پھر عمر بھر ناکام نہ ہو سکے۔
ایسے طلبہ پر حالات کی مہربانی تھی جو اچھے استادوں اور اچھے ہم جماعتوں کے ساتھ پڑھتے رہے۔ میں آج کے تعلیمی معیار کا ذکر نہیں کر سکتا کہ نہ وہ استاد رہا اور نہ وہ شاگرد، نہ ہی کسی مدرسے اور اسکول کا وہ تعلیمی ماحول جو کامیاب طلبہ کو ہی اپنے اسکول کے نام کرتا تھا کیونکہ اس زمانے میں یہ کہنا کہ فلاں لڑکا میرے اسکول کا طالب علم رہا ہے، استاد لائق لڑکوں کو ہی اپناتے تھے۔ یہ ایک فخر کی بات تھی۔
اب تو سنا ہے چھوٹی جماعتوں کے طلبہ بھی سفارش کے پیچھے دوڑتے ہیں اور کسی امتحان میں اپنی کامیابی یقینی بناتے ہیں۔ وہ زمانے چلے گئے جب ہر امتحان زندگی کی ایک آزمائش ہوتی تھی اور جو لوگ جتنی بڑی آزمائش میں پورے اترتے تھے وہ اسی قدر فخر کرتے تھے۔
ابھی تک یہ بات مشہور تھی کہ میں تو ٹاٹ کا پڑھا ہوا ہوں یعنی میری محنت کا کوئی جواب نہیں ہے اور یہ محنت جو ٹاٹ کی تعلیم کے نام سے یاد کی جاتی تھی، عمر بھر ساتھ رہتی تھی اور اپنے طالب علم کو تعلیم میں ایک درجہ دے جاتی تھی۔ اس درجے کا نام تھا ٹاٹ کی تعلیم جس پر بڑے بڑے افسر میں نے فخر کرتے دیکھے ہیں اور وہ اعلانیہ کہا کرتے ہیں کہ ہم ٹاٹ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ ہمیں کسی امتحان کا ڈر نہیں ہے۔
جب تک ٹاٹ کی تعلیم باقی رہی ہمارا زندگی اور علم کا معیار بلند رہا۔ خدا شاید وہ وقت پھر لے آئے جب دفتروں کے افسر بھی واقعی پڑھے لکھے اور لائق ہوں اور یہ کوئی ناممکن نہیں ہے

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *