Tuesday , December 11 2018
ہوم > کالم > سابق صدرپھر”خون نچوڑنے”کاارادہ رکھتے ہیں۔۔محمد مناظرعلی

سابق صدرپھر”خون نچوڑنے”کاارادہ رکھتے ہیں۔۔محمد مناظرعلی

۔”ویسے توسابق صدر کی شخصیت سے سبھی واقف ہیں مگراُن کی بعض باتیں دماغ خراب کردیتی ہیں،ابھی تازہ مثال پشاورکی ہی لے لیں جب انہوں نے سیدظاہرعلی شاہ کی رہائش گاہ پرپارٹی کارکنوں سے خطاب کیا”۔۔۔۔

میں نے نہروپارک کے جوگنگ ٹریک پر خودسے دوقدم آگے نکل جانے والے شخص کاتعاقب کرتے ہوئے ان کے برابرہوکراستفسارکیاکہ انکل کیاکہناچاہ رہے ہیں؟؟

کہنے لگے کہ “بیٹاصبح سویرے اخبارپڑھ کر حالات حاضرہ کاتوپتہ چلتاہے مگرکچھ سیاستدانوں کی گفتگو سن کردماغ خراب ہوجاتاہے،بھلاآپ ہی بتاؤ کہ باریاں لگالگاکراپنے خزانے بھرنے والے آخرچاہتے کیاہیں؟”۔

انہیں شدیدغصہ آرہاتھااورقریب تھا کہ وہ سیاستدانوں کوگالیاں دینا شروع کردیتے ہیں،مگرمیں نے ان کی توجہ نہروپارک میں لگی نئی گھاس کی طرف دلائی کہ دیکھیں پہلے یہاں” گھٹا،مٹی “اڑتاتھا،اب سبزہ نظرآرہاہے،صبح کی سیرکرنے والوں کے لیے اچھی بات ہے۔۔۔

انہوں نے سبزے کی طرف دیکھتے ہوئے،ایک بارپھرگفتگوکواُسی طرف موڑ دیاجہاں پرپہلے تھے۔۔۔

۔”بھئی کیوں؟؟۔۔آخر ایک بارپھریہ کیوں تیاری کررہے ہیں کہ اقتدارانہیں کے ہاتھ میں ہو،ٹھیک ہے پیپلزپارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اورسیاسی جماعتیں ہی الیکشن میں حصہ لیتی ہیں،اگرعوام انہیں ووٹ دے تووہ کرسی اقتدارپربیٹھ جاتی ہیں مگریہ کیابات ہوئی کہ زرداری یہ کہہ رہے ہیں کہ اب اگلی باری اُن کی ہے اوروہ یاپھربلاول وزیراعظم ہوں گے اوراب کی باراُن کی بیٹیاں بھی میدان سیاست میں قدم رکھ دیں گی۔۔مجھے صرف اتنابتادیں کہ کیاپیپلزپارٹی میں اورکوئی رہنمااس قابل نہیں جووزیراعظم بن سکے؟؟؟بلاول ابھی کل کابچہ ہے،ابھی تو اسے قومی زبان ڈھنگ سے نہیں آتی،وہ بھلاقوم کے مسائل کیاحل کرے گا؟۔۔اگراتناہی شوق ہے کہ نانا،ماں اوروالد کے بعدوہ اقتدارکی کرسی پربیٹھے توبھئی تھوڑاصبرکرو،اسے ذراسمجھ بوجھ توآ لینے دو،کہیں نہیں جارہا،پاکستان ادھرہی،کھانے پینے کے لیے ہی ہے،آخرکیاہوجائے گاجوکچھ صبرکرلیاجائے”۔۔

یہ نہروپارک کاہماراپانچواں چکرتھا اورانکل پیسنے سے شرابورتھے،میں بھی کافی تھک چکاتھا اورپیسنہ توجوگنگ میں آتاہی ہے۔۔۔”کہنے لگے کہ تھک گئے ہو؟”۔۔۔ میں نے کہاہاں،کہنے لگے” کہ نہیں ابھی اوردوڑناہے،یارہم دوڑہی لگارہے ہیں،ہم کون ساملک کھارہے ہیں؟”

اگلے راؤنڈمیں  کہنے لگے”کہ لگتاہے آج تم نے  اخبارنہیں پڑھا۔۔۔زرداری صاحب کاکہناہے کہ عوام ابھی  تک روٹی،کپڑا اورمکان مانگ رہی ہے اوراُن کے پاس  ذوالفقاربھٹو اوربی بی کی سوچ کاخزانہ ہے۔۔۔۔واہ بھئی واہ۔۔۔ویسے حدنہیں ہوگئی،،کہ بھٹونے یہ نعرہ  لگایاجوصرف ایک نعرہ ہی تھاکیوں کہ اس کی عملی شکل توکسی نے آج تک نہیں دیکھی۔۔۔ان کی ہڈیاں بھی شایدسلامت نہ ہوں اب،اورابھی تک عوام وہی کی وہی کھڑی ہے،پھرنعرے لگائے جاتے ہیں کہ “زندہ ہے”۔۔۔واقعی زندہ ہے کیوں کہ عوام کی محرومی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔جب تک  عوام پرحکمرانی کی سوچ ختم نہیں ہوگی،جب تک عوام کوان کاحق دینے والے جلسوں میں زندہ رہیں گے تب تک شایدترقی بھی ممکن نہ ہو”۔

۔”اللہ حافظ،کل پھربروقت ٹریک پرپہنچ جانا،کل ذرا زیادہ چکرلگائیں گے”۔۔۔

انکل تویہ کہہ کرچلے گئے مگرمیں ٹریک کیساتھ رکھے بنچ پربیٹھ گیااورکافی دیرسوچتارہا۔۔۔۔

مگرہمارے محترم دوست رائے صابرحسین کہتے ہیں” کہ تبدیلی آنے والی ہے،قیادت بدل جائے گی،سب کچھ بدل جائے گا”۔۔۔

ان کاگہرامطالعہ ہے،وہ ایک نظریہ رکھتے ہیں،میں ان کی بات بھی جھٹلانہیں سکتا۔۔مجھے امیدہے جب ملک سے جھوٹے اوراقتدارکی حرس رکھنے والوں کاخاتمہ ہو،مجھے انتظارہے جب پاکستان کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے والے لوگ سامنے آئیں،شایدعوام کے مسائل حل ہوں،شاید عالمی دنیامیں ہم سراٹھاکراورمخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرسکیں،اس دن کاہرسچے پاکستانی کوانتظارہے۔۔۔۔

مگرپارک میں ملنے والے انکل کی گفتگو سن کردماغ میرابھی ایک بارخراب ہوگیاتھاکہ  سابق صدرآخرایک بارپھرعوام کاخون نچوڑنے کاارادہ رکھتے ہیں۔۔

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

ایک تبصرہ

  1. یہ جہالت کی وجہسے ہے سب کچھ
    وہ باریاں لیتے نہی ہم دیتے ہیں
    خود کو بدلیں سر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *