Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > زندگی اتنی مشکل نہیں- عبدالقادر حسن

زندگی اتنی مشکل نہیں- عبدالقادر حسن

عمر بھر سیاسی موضوعات پر مسلسل لکھتے ہوئے اب یہ الجھن پیدا ہو رہی ہے کہ کیا ضروری ہے کہ یہ زندگی لکھتے لکھاتے ہی گزر جائے اور وہ بھی وقتی سیاسی موضوعات پر جن سے زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ اپنے جیسے انسانوں کے مسائل کو سامنے لایا جائے اور ان مسائل کو انسانی تہذیب کی بقاء کے لیے ضروری سمجھا جائے۔
ہماری روز مرہ کی زندگی اس قدر پریشان کن ہوتی جا رہی ہے کہ جب کہیں سے کسی انسان کی خود کشی کی خبر ملتی ہے تو میں اسے غیر معمولی نہیں سمجھتا، انسان کو خدا نے زندگی کسی مقصد کے لیے عطا کی ہے اور وضاحت کے ساتھ بیان بھی کر دیا ہے محض زندہ رہنے کے لیے نہیں کہ زندہ تو جانور بھی رہتے ہیں اور کیڑے مکوڑے بھی۔ زندگی کے معنی یہ ہیں یا ہونے چاہئیں کہ کوئی زندہ وجود دوسروں کو زندہ رکھنے اور ان کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرے اور دوسرے زندوں کو ان کی مشکلات سے بچا لے۔ بدقسمتی سے ہم خود غرضی میں اپنی زندگی نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشکل بنا لیتے ہیں، اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کو مشکل بنا لیتے ہیں جب کہ اس آسان زندگی کو آسان بھی رکھا جا سکتا ہے۔ وعظ و نصیحت جن لوگوں کا کام ہے وہ کرتے ہیں اور اس کا اجر بھی پا لیتے ہیں۔
بات بہت آسان سی ہے کہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اگر خواہ مخواہ کی الجھنوں سے بچ کر رہیں تو یہ ایک آسان زندگی بنتی ہے اسے آسان بھی رہنے دیں تو یہ آپ کو پریشان نہیں کرتی۔ ایک زندگی کو جب ہم خود ہی الجھنوں اور مشکلات میں پھنسا دیں گے تو ہمیں ان مشکلات سے کوئی نہیں نکالے گا اور پھر کس کو اتنی فرصت ہے کہ وہ پرائی مشکلات میں مداخلت کرتا پھرے اور اپنی سیدھی سادی زندگی کو پریشان کر دے۔
آج کے دور میں سیدھی سادی زندگی بسرکرنا بھی کون سا آسان سا کام ہے کہ اسے آزمائشوں میں ڈالا جائے اور پہلے سے ایک مشکل زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں مزید مشکل بنا دیا جائے۔ آپ اپنی روز مرہ کی زندگی پر غور کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ اسے آسان بنا سکتے ہیں۔کتنی الجھنیں ہیں جو آپ خود خواہ مخواہ پیدا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان میں پھنسا لیتے ہیں۔
کسی دوسرے انسان کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنی زندگی کو مشکل بناتا پھرے اور پھر اس کی مشکلات کا حل تلاش کرنے میں توانائیاں دے۔ صبح سے شام کرنا ہی کون سا آسان ہے کہ آپ اپنے آپ کو صبح شام کے اِدھر اُدھر کے مسائل میں اُلجھا دیں۔ قدرت نے زندگی آسان پیدا کی ہے اب ہم اس میں مشکلات اور آزمائشوں کے شوقیہ اضافے کرتے رہیں تو ہماری اپنی مرضی ورنہ ہماری روز مرہ کی ضروریات کچھ اتنی زیادہ نہیں ہوتیں کہ ہم ان میں پھنس کر رہ جائیں۔ قدرت نے ہماری زندگی میں سادگی اور آسودگی کے پہلُو بہت رکھے ہیں اگر ہم زندگی کے ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں مشکل پہلو تلاش کرتے رہیں تو ان کی کمی نہیں۔ انسان سادگی اور سلامتی کے پہلو تلاش کرے تو ان کی کوئی انتہا نہیں لیکن قد م قدم پر مشکلات کھڑی ہیں۔ زندگی کی سادگی کو اہمیت دی جائے تو مشکلات پیدا نہیں ہوتیں ان کو آسانی کے ساتھ ادھر اُدھر کیا جا سکتا ہے لیکن مشکل پسندی کوئی زندگی نہیں اس کو آسانی کے ساتھ دور رکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ آپ آسان زندگی کو ترجیح دیں اور اسے اپنانے کی کوشش کریں۔
میں جو گاؤں کا رہنے والا ہوں اور وادی سون کے سر سبز پہاڑوں کی بلندیوں میں گم رہتا ہوں جب لاہور کے مصنوعی سبزہ کو دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اس پر نہ جانے ہر سال کتنا خرچ ہوتا ہے مگر پھر بھی ان کا سبزہ برقرار رکھنے کے لیے مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے لیکن میرے گاؤں کے سبزہ زار کسی خرچ اور محنت کے بغیر ہی اپنا جوبن دکھاتے ہیں اور سال بھر سبز پوش رہتے ہیں۔
یہاں لاہور میں بارش ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میرے گاؤں میں ایسی کسی بارش سے سبزے کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس طرف نظر اُٹھتی ہے سر سبز منظر سامنے آتا ہے اور سبز بھی وہ جس کا سبز رنگ صرف دیکھا جا سکتا ہے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور جب میں سوچتا ہوں کہ الفاظ پر جتنی محنت کی ہے اتنی گاؤں میں کر لیتا تو یہ پہاڑیاں عمر بھر مہربان رہتیںاور میں ان کی سر سبز آغوش کے مزے لیتا رہتا۔ بہر کیف قدرت اب بھی کبھی مہربان ہو جاتی ہے تو اس دنیا کے رنگ ہی بدل دیتی ہے اور ہر سمت صرف سبزہ ہی دکھائی دیتا ہے ایک ایسا سبزہ جو دنیا کے سبزہ زاروں پہ ہنستا ہے۔ لاہور ہو یا کوئی اور شہر اس کا سبزہ قدرتی اور مقامی نہیں درآمدی نظر آتا ہے جس سے آنکھوں کو راحت کم ہی نصیب ہوتی ہے۔
اس وقت میرے گاؤں کے پہاڑ میرے تصور خیال میں ہیں اور جب میں لاہور کے مصنوعی سبزے کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے آپ پر ترس آتا ہے کہ قدرت نے کیا کچھ عطا کر رکھا ہے اور میں مصنوعی نظاروں میں حقیقت تلاش کرتا ہوں لیکن کہاں میرے گھر کے سامنے نگاہوں کو خیرہ کرنے والا سبزہ اور کہاں لاہور کے مصنوعی نظارے جو موسم کی ذرا سی نامہربانی سے مرجھا جاتے ہیں۔ بہر کیف میرا گاؤں گاؤں ہے اور لاہور لاہور دونوں کا کوئی موازنہ نہیں اور ہونا بھی نہیں دونوں مختلف دُنیاؤں کے باسی ہیں۔ دونوں سراسر مختلف دنیائیں، دو الگ الگ زندگیاں اور الگ الگ کا رہن سہن جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا صرف آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور ایسے نظارے قسمت والوں کو نصیب ہوتے ہیں۔
یہ زندگی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی صرف دیکھی جا سکتی ہے اور ہمارے وطن عزیز میں ایسے کئی مقام ہیں جہاں یہ نظارے بکھرے پڑے ہیں۔ وادی سون بھی انھی مقامات میں سے ایک ہے جسے قدرت نے بطور خاص پیدا کیا ہے اور اسے اس کی پیدائشی آب و تاب کے ساتھ زندہ سلامت رکھا ہوا ہے بس ہم وہ ہیں جن کے نصیب مختلف ہیں اور لاہور میں پہلے بارش کا انتظار کرتے ہیں اور پھر سبزے کا لیکن ان سبزہ زاروں میں جائیں تو زندگی کچھ زیادہ مشکل نہیں لگتی۔ انسانوں کے اپنے رہنے کے قابل اور نئے نظاروں سے بھری ہوئی زندگی۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *