Thursday , November 15 2018
ہوم > کالم > خوبصورت اورناقابل فراموش شخص سےملاقات۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

خوبصورت اورناقابل فراموش شخص سےملاقات۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

کچھ لوگ اپنے اندرجادوئی صلاحیتیں رکھتے ہیں جوایک جملے سے ہی کسی کواپنابنالینے کاگر جانتے ہیں اورملاقات اگرطویل ہوتوپھرمحبت کانہ ختم ہونے والاتعلق جڑجاتاہے، ایسابہت دفعہ ہوتاہے کہ کوئی انسان پہلی ملاقات میں ہی آپ کے دل میں اترجائے۔۔

ایک بڑی سیاسی پارٹی کےرہنماکیساتھ  گپ شپ جاری تھی کہ اس دوران برادرم میاں ادریس کے موبائل پرایک کال موصول ہوئی جس کے چندلمحوں بعدہی ہم لارنس روڈپرایک اخبارکے دفترمیں موجودتھے،استقبالیہ پرہمارے آنے کی خبرپہلے ہی دے دی گئی تھی،نام بتانے پرکہاگیاکہ آپ کاتیسری منزل پرانتظارہورہاہے،ہم پہنچے توہمارے میزبان نے گرمجوشی سے استقبال کیا،کسی اخبارکے دفترمیں معمول سے ہٹ کرپُرسکون ماحول دیکھ کرمجھے خوشگوارحیرت ہوئی،ادبی ماحول تھا،کمرے کی ایک طرف نامور مصنفین کی کتابیں  قرینے سے سجائی گئی تھیں اورکتابوں کے عین وسط میں نمک کاتراشاہواشاہکارجگمگارہاتھا،گرم موسم میں دفترکادرجہ حرارت کسی سردشام کااحساس دلارہاتھا،میری میزبان سے پہلی ملاقات تھی جب کہ میرے ساتھ دیگردونوں شخصیات کاموصوف سے گہراتعلق ہے،تعارفی گفتگو  کے بعدادبی دنیا کے مختلف نام زیربحث آئے اوراسی دوران شعروشاعری کادور شروع ہوگیا ،میزبان کے لبوں پرمسکراہٹوں کے سنگ خوبصورت اشعارہماری سماعتوں سے ٹکراکرہمیں مسحورکررہے تھے، میں نے خودتوکبھی ایک شعربھی نہیں لکھامگرشعراء کی محافل اورمشاعروں میں جانے کااتفاق شروع سے ہی رہاہے،مجھے اچھی طرح یادہے جب میں خبریں گروپ کے پنجابی اخبارمیں کالم لکھاکرتاتھاتوان دنوں الحمراءہال مال روڈپرایک بڑامشاعرہ ہواجس میں انڈیاسے بھی کافی مہمان شریک تھے،وہی پرمنیرنیازی سےمیری پہلی ملاقات ہوئی ، منیرنیازی کی زبانی ان کے اشعاراوران کی گفتگو سن کرارادہ کیا کہ کل ہی ان سے پھرملوں گامگرمصروفیات نے وقت نہ دیااوروہ ہم سے بچھڑگئے۔

خیریہ توضمنابات سے بات نکل آئی،ہم پھراپنی اسی شام کی طرف بڑھتے ہیں،وقت کافی ہوگیاتھا مگرگزرنے کااحساس تک نہ ہوا،ہماری فرمائش پرمیزبان نے اپنی ایک آزادنظم سنائی جس کے بعدمیرادل کررہاتھا کہ وہ سناتے جائیں اورہم سنتے جائیں۔۔میں چاہتاہوں آپ بھی وہ نظم پڑھیں،وہ نظم کچھ یوں تھی۔۔۔

سیاستدان ہوں میں،،تم میرے شیڈول میں لکھ لو

بہت مصروف ہوتاجارہاہوں

کئی اہداف کھوتاجارہاہوں

تمہیں اک بات کہنی ہے

ذراتم غورسے سن لو

فرداکے

میرے معمول میں لکھ لو

میرے شیڈول میں لکھ لو

میرے شیڈول میں لکھ لو

کہ کل میٹنگ سے

ذراپہلے

کالی شیروانی میں

کون سا کندھاپھنساناہے؟

کہاں پہ غسل کرناہے؟

کہاں نوروں نہاناہے؟

میرے شیڈول میں لکھ لو

کہاں قہقہہ لگاناہے؟

کہاں پہ مسکراناہے؟

کہاں ہنستی ہوئی

آنکھوں کودفعتا

نم ناک کرناہے،بہت غم ناک کرناہے

میرے شیڈول میں لکھ لو

کہاں پہ پھول رکھنے ہیں؟

کہاں چادرچڑھانی ہے؟

کہاں پہ بیج بوناہے؟کرپشن کا

کہاں پودالگاناہے؟

میرے شیڈول میں لکھ لو

کہاں تقریرکرنی ہے؟

کہاں خاموش رہناہے؟

کہاں تکبیر پڑھنی ہے؟

کہاں پہ گنگناناہے؟

میرے شیڈول میں لکھ لو

میرے شیڈول میں لکھ لو

کہاں پہ چیک دینے ہیں لاشوں کے؟

ورثاء کو

کہاں پہ کندھا دیناہے؟

میرے شیڈول میں لکھ لو

میرے شیڈول میں لکھ لو۔

 بہت سے اہل قلم توموصوف کانام جان چکے ہوں گے مگرعام قارئین ان کی آزادنظم پڑھ کریقیناجانناچاہیں گے،درحقیقت آنکھ میں خوبصورتی ہوتوخوبصورت لوگ تلاش کرنامشکل نہیں ہوتا،ہمارے اردگرد،ہمارے دفاتر،ہمارے گلی محلے،شہراوردوستوں کے دوستوں میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جوآپ کے لیے کسی جوہرنایاب سے کم نہیں ہوتے،انہیں جاننے  اورپہچناننے کی ضرورت  ہوتی ہے،اگرہم اپنے حلقہ احباب میں خوبصورت افرادکوشامل کرلیں توزندگی بہت ہی خوبصورت ہوجائے۔۔بلاشبہ مبشرالماس بھی انہیں خوبصورت شخصیات میں شامل ہیں جوخوشیاں بانٹنے میں اپنی خوشی سمجھتے ہیں،خوش کیسےرہاجاتاہے شایدمبشرالماس یہ گرجان چکے ہیں۔

میرے لیے یہ ملاقات ناقابل فراموش  تھی جس میں ایک خوبصورت شخص میرے حلقہ احباب میں شامل ہواہے جس کی گفتگو کاہرحصہ اُس کی شاعری اورعلمی دلائل کے موتیوں سے ایک دوسرے  کیساتھ جُڑاہوتاہے اوریوں ایک عام سی ملاقات بھی خاص ہوجاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *