Wednesday , October 24 2018
ہوم > کالم > جہنم کا ٹھیکے دار میڈیا۔۔۔محمد صفدر سکھیرا

جہنم کا ٹھیکے دار میڈیا۔۔۔محمد صفدر سکھیرا

”ہلاک ہلاک ہلاک “ٹی وی چینلزپرسن سن کر اور الیکٹرانک میڈیا پر پڑھ پڑھ کر دل و دماغ میں زلزلہ برپا ہے کہ ایک کلمہ گو مسلمان کیسے ہلاک ہو سکتا ہے،ناقص علم کے مطابق ہلاک کا مطلب تباہی ،بربادی ،ناکامی ہے،خالق کائنات کو نہ ماننے والے اور شیطان کے راستے پر چلتے ہوئے مرنے والے کافروں کے لیے ہلاک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔کلمہ نہ پڑنے والوں اور نبی آخرالزماں حضرت محمد پر ایمان نہ لانے والوں کے لیے ہلاکت کی وعید ہے،جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرنے کے بعد جہنم کی آگ میں جلیں گے۔مگر ہمارا شتر بے مہار میڈیا دین اسلام ،مادروطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں ،حادثات ،بیماریوں سے لڑتے لڑتے دار فانی سے کوچ کرجانے والے مسلمانوں پر بھی ہلاکت کا ٹھپہ لگا دیتا ہے،ہلاکت کا مطلب ہے دنیا سے جانے والابندہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گیااور جہنم مقدر بن گئی۔ہمارا میڈیا تو دنیا میں ہی فیصلہ سنا دیتا ہے کہ یہ بندہ تو گیاسیدھا جہنم میں۔
صحافتی اصولوں کے مطابق اور بطور مسلمان ملک کے میڈیا کے جب کوئی مسلمان مرتا ہے تو اس کے لیے جابحق کا لفظ استعمال کیا جانا چاہیے نا کہ ہلاک کا۔مگر دین اسلام سے ناآشنا،اخلاقی اقدار سے نا بلد،سیکولر ،لبرل مافیا کے زیر اثر خود کو عقل کل سمجھنے والے جب قلم چلاتے ہیںتو انسانیت بھی شرما جاتی ہے،چند دن پہلے ایک بڑے اخبار کی شہ سرخی میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں اور ہلاک ہونے والے دہشتگردوں دونوں کو ہی ہلاک لکھا ہوا تھا اور یہ کوئی کبھی کبھار کا واقعہ نہیں روز کا معمول ہے۔پتہ نہیںہم صحافت کرتے وقت اپنا ایمان، عقیدہ کہاں رکھ دیتے ہیں،پاکستان میں بسنے والو ں کی اکثریت مسلمان ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ ہم نے اپنے ایک ایک عمل کا روز آخرت حساب دینا ہے،مگر ہمار میڈیا اتنا بے لگام ہو چکا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔اوپر سے آجکل کے صحافی خود کو علم و عقل کا منبہ اور معلومات کاخزانہ سمجھتے ہیں،اس لیے جس کی چاہے پگڑی اچھال دیتے ہیں،اگر کوئی سینئر تصحیح کی غلطی کر بیٹھے تو اس کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میںایسا ٹرینڈ چل پڑا ہے مسلمان کو ہلاک ہی کیا جا رہا ہے،بم دھماکو ں سے شہادتیں ہوں یا بارڈر پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے۔میڈیا پرہلاکتیں ہی بتائی جاتی ہیں۔جاں بحق اور ہلاک بہت چھوٹے سے الفاظ ہیں مگر بطور مسلمان خدارا ان کے معانی اور اہمیت کوجانیے،عوام کی اکثریت کی خواہش ہے کہ میڈیا اسلامی حدود و قیود کو مد نظر رکھے مگر ہمارے ہاں تو ٹوٹل الٹ ہے،میڈیا پر ہر کام اسلامی تعلیمات کے الٹ کیا جا رہا ہے۔قلیل سرمایہ دار،لبر اور سیکولرطبقہ اپنے نظریات ،سوچ،لائف سٹال طاقت اور پیسے کے بل بوتے پراکثریت پر تھوپ رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً ہر پاکستانی کی نظر میں میڈیا تعمیری کی بجائے تخریبی کردار ادا کر رہا ہے،تیزی سے پھیلتی بے حیائی،خرافات،بد امنی،مادیت پرستی،ٹوٹتے خاندان،طلاقوں میںاضافہ،دین سے دوری کاسب سے زیادہ ذمہ دار اسی میڈیا کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے۔صحافیوں کو پڑے لکھے،سمجھدار،ذہین افراد مانا جاتا ہے،سمجھدار افراد شہد کی مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو پھولوں کے پاس جاتی ہے تو کانٹوں کا گلہ نہیں کرتی،مگر ہمارے میڈیا کی اکثریت گندی مکھی کو فالو کر رہی ہے جو ہمیشہ گندگی پر بیٹھے گی،زخم خراب کرے گی،میڈیا ہر وقت لوگوں کے عیب تلاش کرکے اچھالنے اور مر چ مسالہ لگانے میں لگا ہوا ہے،میڈیا کے ذریعے ایک مخصوص لابی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان سے دین اسلام کو دیس نکالا دے دیا جائے،ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسل کس قدر اخلاقی تباہی و بربادی کا شکار ہوگی اس کا تصور کر کے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *