19

انتظامیہ یا مافیا۔۔۔۔۔۔تحریر/محمد صفدر سکھیرا

سر جی صرف سو روپے ہیں اور پیسے نہیں ہیں پلیز جانیں دیں،موٹر سائیکل بند کردی تو ابو سے بہت مار پڑے گی ،جیب خرچ بھی بند ہو جائے گا،یہ جملے آپ کو رات کے وقت اکثر پولیس ناکوں پرسننے کو ملیں گے ،صاحب جی آپ کے لیے بہترین پھل پیٹیاں کھولتے ہی رکھ دیا ہے الگ کر کے۔ گھر پہنچا دوں یا گاڑی میں رکھوا دوںیہ سرگوشیاںر مضان بازار،اتوار بازار،ریڑھی پر پھل فروخت کرنے والوں اور ٹاﺅن اہلکاروں کے درمیان سننے کو ملتی ہیں،رات کے وقت پولیس والے جیسے ہی موٹر سائیکل پر دو لڑکوں کو دیکھتے ہیں تو دیہاڑی پکی ہو جاتی ہے ،کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے یہ گھر والوں کو چکر دے کر موٹر سائیکل لے کر آئے ہیں،لائسنس پاس ہے نہ ہی کاغذات۔ایسے لڑکوں کو ناکوں پر روک کر پہلے ذہنی طو ر پر ٹارچر کیا جاتا ہے پھر دیہاڑی لگائی جاتی ہے،جن اہلکاروں کا مطمع نظر ہی دیہاڑی لگانا ہو وہ جرائم خاک روکیںگے،کیا ہی اچھا ہو کہ رات کے وقت یا دن کے وقت بائیک چلانے والے کم عمر لڑکوں کو روکتے ہی فوری طور پر والدین کو اطلاع دی جائے اور بلا کر تحریر ی یقین دہانی حاصل کی جائے کہ بچوں کو موٹرسائیکل اور گاڑیاں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ یہی کم عمربچے ہی ون ویلنگ کرتے ہیں اپنی جان سے بھی جاتے ہیں اور کئی دوسری جانوں کے ضیاع کا بھی باعث بنتے ہیں۔معصوم بچوں کے گلے کاٹنے والی قاتل ڈور کا خونی کھیل پھر عروج پر ہے اورپولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے اس کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظرآتے ہیں،سیاسی اثر ورسوخ بھی اس خونی کھیل کے جاری رہنے میںاہم کردار ادا کر رہا ہے ، شہر میں دن دیہاڑے پتنگ بازی کی جارہی ہے اور یہ زیادہ تر سیاسی رہنماﺅں کے گھروں کی چھتوں پر ہوتی ہے،کیونکہ سیاسی رہنماﺅں کی رہائشگاہوں کے قریب جاتے ہی پولیس کے پر جلتے ہیں،چند دن قبل بھی اس قاتل ڈور نے ایک شخص کاکان کاٹ دیا ،گردن کوزخمی کردیا ، کیا یہ ممکن ہے کہ انتظامیہ کی سرپرستی کے بغیر پتنگیں تیار ہوں ،مارکیٹ میں فروخت ہوں اور شہر بھر میں اڑائی بھی جائیں ۔رمضان بازاروں میں ناقص اشیاءکی فروخت کے ذمہ دار بھی حکومتی اہلکار ہی ہیں کیوں کہ مفت میں فروٹ وغیرہ کے شاپر بھر کے جو لے جانے ہوتے ہیں،یہ انتظامیہ کے اہلکار اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے غریب عوام کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں،صحیح کہا جاتا ہے سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں جبکہ کام کرنے کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ایک اور مزے کا معاملہ ہے لاہور کے ٹاونز کے عملے سمیت سول انتظامیہ کو رمضان بازاروں میں لگا دیا ہے جبکہ باقی شہر بھر میں اشیاء ضروریہ کو ذخیرہ اندوزوں کے حوالے کردیا ،شہریوں کی بڑی قلیل تعداد ہی رمضان بازاروں کارخ کرتی ہے اکثریت عام دکانوں ،مارکیٹوں سے ہی اشیاءضروریہ خریدتی ہے، اس اکثریت کو منافع خوردونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں،صوبائی دارالحکومت میں گیارہ لاکھ گندے انڈوں کا برآمد ہونا لمحہ فکریہ اور انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ان گندے انڈوں کی خریدار شہر کی مشہور بیکریاں اوربیکری آئٹم بنانے والی کمپنیاں ہیں،ہم بڑے ناموں والی بیکریوں ،ہوٹلوں،کمپنیوں ،سپر سٹورزسے فوڈ آئیٹمز بڑے اعتماد کے ساتھ خریدتے ہیں مگر یہ حقائق سامنے آنے کے بعد اعتماد ڈگمگا گیا ہے کہ آخراعتماد کریں توکس پر کریں۔پولیس اور سیاسی رسہ گیروں کی سرپرستی کے بغیر جرائم نہیںہوسکتے،واپڈا ملازمین کی مرضی کے بغیربجلی چوری نہیں ہو سکتی ،محکمہ انہار اہلکاروں کی سرپرستی کے بغیر پانی چوری نہیں ہو سکتا،غرض کسی بھی محکمے میں کرپشن ہو یااس کے دائرہ اختیار میں،ملی بھگت یقینی ہے،جب ایک بچے سے رشوت وصول کی جائے گی تو بڑے ہو کر اس کایقین پختہ ہوجائے گا رشوت دیے بغیر کوئی کام ممکن ہی نہیںہے،سرکاری اداروں کورشوت ،کرپشن ،دونمبری سکھانے کی نرسریاں کہا جائے توبے جا نہ ہوگا،کیونکہ سرکاری ملازمین ایماندار ہو جائیںتوکس کی جرات ہے رشوت کانام بھی لے سکے،بازاروں میں منافع خورو ں کاراج ہو،یہ سب کچھ حکومتی مشینری کی سرپرستی میں ہی ہو رہا ہے۔جب سے پنجاب فوڈ اتھارٹی بنی ہے نت نئے ہولناک انکشافات ہو رہے ہیں،چند روز قبل ہی صوبائی دارلحکومت میں ایک بڑی ہربل کمپنی سے اٹھائیس ٹن جعلی شہد پکڑا گیا جو سارے کاسارا ہی کیمیکلز سے تیار کیاجارہا تھا اصلی شہد کااس میںقطرہ تک نہیں تھا،اوریہ شہد تجزیہ کرنے پراتنا خطرناک نکلا کہ ہوش ہی اڑا دیے،یہ جعلی شہد کینسرکاباعث بن رہا تھا،صوبائی دارالحکومت میں قائم تمام بڑے ہوٹلز ،بیکریاں اتنی لش پش ہیں کہ اند ر داخل ہوتے ہی گمان ہوتا ہے ہم کسی اور ہی ملک میں آ گئے ہیںہوٹلز اور بیکریوں پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کر کے انتہائی زیادہ چمک دمک والے بنائے جاتے ہیںاور ان بیکریوں میںسروس فراہم کرنے والے ملازم ہاتھوں پر شاپر چڑھائے بغیر اشیاءکو ہاتھ تک نہیںلگاتے ،ہوٹلوں کے بیرے بے داغ لباس پہنے قانون کی عملداری کا مکمل نمونہ بنے نظر آتے ہیں مگر ان ہی ہوٹلز کے کچن اور بیکریوں کا سامان تیار کرنے والی جگہوں پر گندگی کے ڈھیر ،چوہوں ،کاکروچوں ،بلیوں سمیت تمام حشرات وافرمقدار میں پائے جاتے ہیں،باسی اشیاءدھڑلے سے استعمال کی جاتی ہیں۔مسلمان ہو کرہم کہاں جاپہنچے ہیں،حضرت شعیبؑ کی قوم پرصرف ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے عذاب آیاتھا اور ہم تو آج ہر حد ہی پھلانگ گئے ہیں ،پیسے کمانے کے لالچ میں حرام حلال کی تمیز بھی بھول گئے، اپنے ہی مسلمان بھائیوں کوزہر کھلا اور پلا رہے ہیں،اس سب کی ذمہ دار بھی حکومت وقت ہی ہے کیونکہ جب حکومت کی رٹ قائم نہیں ہو گی تو ایسا ہی ہونا ہے ۔جعلی اشیاءخورونوش تیارکرنے والی فیکٹریوں کو فوڈ اتھارٹی سیل کرتی ہے اور وہ اسی وقت ہی دوبارہ کھول کرزہر کی تیاری پھر شروع کردیتے ہیں،مجرموں،ون ویلروں ، پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں،جعلسازوں،فراڈیوں،لٹیروںکے خلاف کمزور مقدمات بنتے ہیں، فوری ضمانت ہو جاتی ہے،ان مافیاز کو لگام ڈالنے کے لیے قانون ہی مکڑی کے جالے جیسا ہے تو خاتمہ کیسے ممکن ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں