Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > عالمی پھپھوکٹن ان ایکشن(اور….اسلامیہ”موروثیہ“پاکستان)۔۔۔پروفیسر رشید احمد انگوی

عالمی پھپھوکٹن ان ایکشن(اور….اسلامیہ”موروثیہ“پاکستان)۔۔۔پروفیسر رشید احمد انگوی

    ”پاکستان عالمِ اسلام کا قلعہ ہے“۔یہ جملہ سن سن کر پاکستان کی اہمیت کے بارے میں ہمیشہ یہ سوچتے رہے مگرعالمِ اسلام کی حالت تو بہت دگرگوں ہے ۔ پون صدی سے اس کے وجود کے دشمن جو کچھ سکیمیں اس کے خلاف بناتے رہے ان پر عمل درآمد کے لیے ”یہودوہنودونصاریٰ “کا گٹھ جوڑ آنکھوں کے سامنے ہے۔ ازلی دشمن بھارت کی چالاکیاں ومکاریاں عروج پر ہیں۔سعودی عرب کا سب سے بڑا تمغہ اس نے سینے پر سجا رکھا ہے۔ کابل پر ناپاک قدم جمائے عالمی پھپھوکٹن کی آنکھ کا وہ تاراہے اورافغانستان جو سوفی صد غیور مسلمانوں کی ریاست ہے ۔ اس کے مشرقی بارڈر پر اس بت پرست نے بے شمار اوربے پناہ خباثت کے اڈے قائم کررکھے ہیں جہاں پاکستان کے دشمن پالے اورسدھائے جاتے اورہشکار کر پاکستان کی جانب چھوڑے جاتے ہیں ۔ نیٹوافواج نے اسامہ کے نام پر جو مسلح یلغاری لشکر تیار کیے وہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مشن پر مامور ہیں۔ تاریخ انسانی ایک عجیب مرحلے سے گزر رہی ہے کہ امریکی فوجیں ایک مسلمان ملک پر قابض ہوکر ہمہ پہلو انسان دشمن خصوصاً اسلام دشمن لائحہ عمل اپنائے ہوئے ہیں۔ منافقت کی انتہا دیکھیں کہ مجرم کو عدالت میں پھانسی کی سزا کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے مگر عراق ¾ شام ¾ لیبیا ¾ تیونس ¾ مصر ¾ افغانستان وغیرہ اسلامی ملکوں میں سینکڑوں ہزاروں نہیں ملینز کی تعداد میں معصوم انسانوں کو بموں کے ذریعے بوٹی بوٹی کرنے کے سوا گویا دنیا میں کوئی کام جانتے ہی نہیں۔اورپھر ان انسانیت کش طوفانوں میں اچانک ایک سواتی لڑکی کو اٹھا کر لے جاتے اورسر سے پاﺅں تک ہر جوڑ پر عالمی تمغے سجا کر اسے امن وعلم کی فرشتہ بنا کر اسلامی دنیا پر مسلط کردیتے ہیں کہ یہ آرہی ہے عظیم نوبل انعام یافتہ ملالہ۔ تو ان سرگرمیوں میں مگن مغربی جارح ¾ مسلح لشکر اصل میں عالم اسلام کے ہر ملک کو برباد کرنے ¾ ان کو باہم گتھم گتھا کرکے لڑانے بھڑانے میں اپنی توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں ۔ ٹرمپ کے ناپاک قدم پاک زمین پر پڑے تو دوباتیں سامنے آئےں ۔ایک یہ کہ عرب دنیا کی دولت اسلحہ کی خریداری کے عنوان سے لوٹ کر لے گیا اوردوسری فی الفور مسلم ورلڈ کو باہم تقسیم کرنے کا تماشہ دکھادیا۔ٹرمپ کا سخت تخریبی اورشیطانی جملہ ہے کہ ”یہودی عیسائی شیعہ اورسنی“اکٹھے ہوجائےں۔اصل جملہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ ”یہودی عیسائی مسلمان“اکٹھے ہوجائےں۔دنیا نے دیکھا کہ وہ امت مسلمہ جس کے فکری راہ نما نے یہ سبق دیا تھا ”ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر “۔تو تماشہ یہ بنا ہوا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت پر امریکی فوجوں نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اوراسلامی ریاستوں کو ایرانی ¾ قطری ¾ سعودی گروپوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔یہ ٹرمپ کے استقبال کا عملی جواب سامنے آیا ہے ۔اللہ تو فرمائے کہ یہودونصاریٰ کو دوست نہ بناﺅ مگر سرزمین حرم سے یہ فتنہ سراٹھائے کہ ایرانیودورہوجاﺅ ¾ قطریو دور ہوجاﺅ اورنہ جانے اب کس کو حکم ملتا ہے ¾ یمن تو پہلے دباﺅ میں ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ بالخصوص عرب ممالک کے پرعزم اورایمان کی دولت سے مالا مال شیوخ اپنا کردارادا کریں۔عالم اسلام کو پکے ہوئے پھل کی طرح یہودونصاریٰ کے گٹھ جوڑ کے سامنے قربان نہ کریں۔آج امریکہ اسرائیل وہندوستان کابل میں سرجوڑ کر بیٹھے سازشیں کررہے ہیں کہ پاکستان سے کیسے نبٹا جائے¾ اس کی ایٹمی طاقت کو کیسے اڑایا جائے۔ پاکستان جب عالمِ اسلام کا قلعہ ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اسلامی دنیا پر حملہ آور شیطانی اورطاغوتی طاقتیں پاکستان کے بارے میں لائحہ عمل نہ بنائے ہوئے ہوں ۔ اسامہ کو لانے والے اب داعش کو بنانے کے بعد ایکشن میں لائے ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے جب پالیسی سازیاں مغرب کے قدموں میں بیٹھ کر بنانی ہوتی ہیں تو وہ ہمیں مختلف قاتل لشکر بھی بناکر دیتے ہیں۔آج وطن پاکستان کی عظیم افواج جن فتنوں اورفسادات کا مقابلہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں تو یہ تمام فتنے اس عالمی پھپھوکٹن کی سازشی کھوپڑی کے اندر ہی تو وجود پذیر ہوئے۔کاش کہ کبھی کوئی اسیا بھی صلاح الدین ایوبی اٹھے جو کابل میں دھرنا دینے والوں کے جواب میں امریکی ریاستوں میں ڈیرے لگائے اورتاریخ کے قرض چکائے۔اگر کابل میں روس کی یلغار غلط تھی توامریکہ کے لیے کابل میں ٹھکانے جمانا جائز کیسے ہوگیا۔اگر امریکہ کا افغانستان میں قیام جائز ہے تو روس کا قیام ناجائز کیوں ہوجاتا ۔یہ کون سے سامراجی مفتیوں کے فتاویٰ ہیں ۔ مت بھولیے کہ یہودوہنود ونصاریٰ کے اس ناپاک گٹھ جوڑ کے اہداف خانہ کعبہ ¾ حرمِ مدینہ ¾ پاکستانی ایٹم بم اوروجودواستحکامِ پاکستان ہیں۔ کیا آپ اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں علامہ اقبال سالانہ چھٹی ختم کردی گئی ۔وہ اقبال جو حکیم الامت ¾ مفکرِ پاکستان اورعالم اسلام کا فکری راہ نما ہے مگر امریکی وبرطانوی سامراج اسے اپنا براہِ راست دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ وہ سچا عاشقِ رسول ہوتے ہوئے امت کے اتحاد کا علم بردار ہے۔ وہ کہتا ہے ” کہ خیر ہ نہ کرسکا مجھے جلوہ¿ دانش فرنگ۔ سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ ونجف“۔علامہ اقبال کی چھٹی ختم کرنے کا مطالبہ ملک کی کسی اسمبلی نے نہیں کیا تھا بلکہ یہ برطانوی قرضے برائے انگلش میڈیم دیتے ہوئے ان حکمرانوں کو حکم دیا گیا کہ اس اقبال کاذکر ختم کرو۔راقم نے اس موقعہ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ”موجودہ حکمران ملک کے لیے نظریاتی رسک بن چکے ہیں“۔یہ پنامہ وغیرہ قصے تو بعد میں آئے۔ الطاف ہو یا نواز ¾ جس کسی کے حال ومستقبل کے مفادات برطانیہ سے وابستہ ہوں تو انگریز ان سے ڈیل کرناخوب جانتے ہیں ۔(کیا قوم بھول گئی کہ بھٹو نے ہفتہ وار اتوار کی چھٹی ختم کردی تھی مگر نواز نے پھر جمعہ کی چھٹی ختم کرکے اتوار کی چھٹی بحال کرکے مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی)۔ایک اورپہلو جس نے تمام مسائل کو الجھا رکھا ہے وہ جمہوریت کا شورشرابا ہے ۔ کہنے کو انتخابی مہمات بھی چلتی ہیں ¾ نتائج بھی آتے ہیں مگر ہماری اصل پہچان ”جھرلُو“قائم رہتی ہے۔ دوسیاسی گھرانوں نے ملک کے مستقبل کو گویا اپنے نام لکھوا لیا ہے یا یوں کہئے کہ ملکی سیاست کا ٹھیکہ لے لیا ہے جب کہ ایک کو ضیاءالحق کے گورنر جیلانی کے ساتھ ڈیل کے ذریعے کیبنٹ میں جگہ ملی اورپھر کاروباری چالاکیوں کے سہارے آگے چلتے گئے۔ دوسری کا قصہ اوربھی عجیب ہے کہ بھٹو کی بیٹی کا شوہر ہونا گویا قوم پر احسان تھا۔ دونوں پارٹیوں کے بارے میں سچائی یہ ہے کہ یہ اپنے مالکوں کی ذاتی ملکیت کے سوا کچھ نہیں اورپھر میثاقِ جمہوریت نامی ایک مک مکاﺅ ان کے درمیان ہے جس کے نتیجے میں دونوں پارٹیوں کے مالکان اپنے بال بچوں اورپھر اُن کے بال بچوں کو ملک کی سیاست کا حقیقی مالک سمجھتے ہیں اوربس۔اس طرزِ سیاست نے پاکستان کو اسلامیہ ”موروثیہ “پاکستان بنا کر رکھ دیا ہے۔ زرداریت کا حال یہ ہے کہ نوٹ خوری ¾ زمین خوری میں قارون کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا اوردوسرے کا حال عدالتیں ہی بتائےں گی ۔ فی الحال تو نہال ہاشمی کی تقریر اوربقول اعتزاز احسن جی جی بی(گالم گلوچ بریگیڈ)کی کارکردگیوں پر ہی گزارہ کرسکتے ہیں۔کہاں اردگرد کے عالمی شاطروں کی مہلک اورتباہ کن منصوبہ سازیاں اورکہاں اپنے ملک کی حاکمانہ سیاست ۔ ۔ اللہ ہی ہمارے وطن پاک کے احوال پر رحم فرمائے۔جب خرادیئے ڈیل کے ذریعے ملکی قیادتوں پر بٹھا دیئے جائےں تو اقبالی شعور چیختا ہے کہ ”زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن “۔ برطانوی وزیر اعظم تین سال پہلے انتخابات کراسکتی ہے تاکہ فریش مینڈیٹ مل جائے مگر یہاں تو لسوڑھے سے بڑھ کر چپکتے رہنے کی بدنصیب روایت ملتی ہے۔ تیس سال ختم ہوگئے مگر اپنے بیٹوں بیٹیوں کے سوا کسی کو اقتدار پر دیکھنے کا حوصلہ نہیں ۔ اللہ کریم سے التجا ہے کہ یااحکم الحاکمین ¾ہمارے حال پر رحم فرما۔ ہمیں کوئی سچے ¾ دیانتدار اورمخلص راہنما عطا فرما۔آمین۔

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *