ہوم > کالم > جمعتہ الوداع کو جدا ہونے والا راہِ حق کا مسافر۔۔۔پروفیسر رشید احمد انگوی

جمعتہ الوداع کو جدا ہونے والا راہِ حق کا مسافر۔۔۔پروفیسر رشید احمد انگوی

  نامور ماہرِ تعلیم استادِ معاشیات اسلامیہ کالج سول لائنز کے سابق وائس پرنسپل پروفیسر عبدالحمید ڈار ستائیس رمضان المبارک جمعتہ الودا ع کو اس جہانِ فانی سے رحلت فرما کر آخرت کے سفر پر رواں دواں ہوگئے۔ظاہری لحاظ سے ہڈیوں اورگوشت کا ایک ہلکا پھلکا وجود مگر عظمتِ کردار  صفات عالیہ ایمانی وفکر ی سربلندی  یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم کا چلتا پھرتا نمونہ غرض ایک بھرپور اوروزنی شخصیت تھے  نام تھا جن کا عبدالحمید ڈار۔ہزاروں کالج طلبہ کی زندگیوں کو علم وعمل کی روشنیاں مہیا کرکے جب سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو منصورہ ڈگری کالج کی سربراہی کے منصب پر جلوہ افروز ہوگئے اورجی بھر کر ملک بھر سے آنے والے طلبا کی خدمت اورراہ نمائی کی۔ کالج ہاسٹل کا مطبخ قابل ذکر حد تک ”سرائے حمیدی “کا روپ دھار گیا تھا کہ مہربان پرنسپل کی پالیسی کے مطابق جیب ساتھ دے یا نہ دے لنگر سے ہر بورڈ ر برابر کا مستفید ہوسکتا تھا۔اللہ کریم نے ڈار صاحب کو اپنی ملت اوراہل وطن کی محبت سے سرشار دل عطا کیا تھاجسے بندہ نوازی اوربندہ پروری جیسے عمل سے سکون ملتا تھا۔ وہ سینکڑوں میل دوردراز سے آنے والے طالبانِ علم کے لیے انتہائی شفقت ومحبت کا رویہ رکھتے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے لیے سعادت کی بات ہے کہ طویل مسافتیں طے کرکے آنے والے طلبہ کی میزبانی کریں تاکہ وہ خوش رہیں اورلاہور کی علمی وفکری نیز علمی فضاﺅں سے بہر ہ مند ہوکر واپس اہل وطن کی بہتر انداز میں خدمت کرسکیں۔وہ پیدائشی طور پر ایک قائداورمرّبی کی صفات لے کر آئے تھے ۔ علامہ اقبال کے طے کردہ معیار ”نگہ بلند  سخن دل نواز  جاں پرسوز “کا بہترین مصداق تھے۔طلبہ کے ساتھ ساتھ وہ اساتذہ کے بھی بہترین گائیڈ تھے۔نرم کلام  نرم مزاج  نرم خو جناب عبدالحمید ڈار بطور ایک فعال وسرگرم نظریاتی معلم محبت کا تعلق رکھتے اوران کے اعلیٰ معیار پر ڈھلے ہوئے استاد تھے۔ انہوں نے عشروں تک نہایت دھیمی مگر شیریں آواز میں طلبہ کی تعمیر شخصیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ”اُن کی باتوں میں گلوں کی خوشبو “کا محاورہ ان پر بالکل فِٹ آتا تھا ۔ وہ مشکل ترین صورتِ حال کو ہنستے مسکراتے چٹکلوں میں حل کردینے والے مدبر کا مقام رکھتے تھے۔منصورہ کالج کے درودیوار کو نہایت اعلیٰ افکار واقوال سے مزین کرکے کالج کے دیواروں کو بھی تعلیمی سرگرمی میں لگا دیا تھا۔اللہ نے اُن کے دل کو دوسروں کے بارے میں کسی قسم کے منفی خیالات سے رکھا اوروہ مجسم خیر کا عملی نمونہ بن گئے تھے۔عملے کی تنخواہ ماہِ رواں کی آخری تاریخ کو دے کر ”مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو“کے حکم پر بحسن وخوبی عمل کرتے۔ دوسروں کی بھلائی میں وہ اپنی جیب سے خرچ کرنے میں کوتاہی نہ کرتے بلکہ اسی جذبے کو عمل میں لا کر کالج کی ترقی کے کئی منصوبے اپنے رفقائے کار کے تعاون سے مکمل کیے۔ انہوں نے سول لائنز کالج کے رفیق کار اورمعتمد ساتھی پروفیسر شیخ محمد رفیق کو اپنا وائس پرنسپل بنایا جو ڈار صاھب کے کالج سے جانے لکے بعد اُن کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے۔ منصورہ کالج سے فارغ ہوئے تو ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کے کالج کی کرسی ¿ پرنسپل اُن کی منتظر تھی۔چنانچہ اپنی مستقل پالیسی کے تحت وہاں بھی اساتذہ وطلبہ کی راہ نمائی جاری رکھی۔ تاہم چند سال بعد بیماری کے باعث بسترِ مرض پر استراحت کا دور شروع ہوگیا مگر اُن کے اندر کا داعی اوردانش ور شکست کیسے قبول کرتا۔ چنانچہ انہوں نے انتہائی خوب صورت اوردل نشین زبان میں طلبہ وطالبات اورعام مسلمانوں کے لیے قلمی سرگرمی شروع کی اورہر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی خوب صورت کتابچہ تربیت وراہ نمائی کا نادر نمونہ بن کر طلبہ و طالبات کے ہاتھوں میں پہنچتا رہا۔بلاشبہ یہ ایمانِ کامل اورپرعزم ہستی کی برکت تھی کہ انہوں نے بیماری کے عالم میں بھی ریموٹ گائیڈ نسی کا سلسلہ جاری رکھا اوریوں خیر سے مال مال اپنے نامہ اعمال میں مسلسل اضافہ کرتے رہے۔ راقم اُن کے طرزِ تحریر سے بے پناہ متاثر رہا۔ ان کا قلم بے مثال اورلازوال کلمات انتہائی خوبصورتی سے رقم رکتا رہا۔ صحابہ کرامؓ کی خوبصورت زندگیوں کے بیان سمیت تربیتی تحریر کا اللہ نے انہیں نہایت اعلیٰ ذوقِ سلیم عطافرمایا تھا۔وہ تنظیم اساتذہ کے بانی گروہ میں شمار ہوتے تھے۔لاہور کے نوجوانوں کی گزشتہ کم وبیش نصف صدی کے دوران اسلامی خطوط پر ذہنی وفکری اورایمانی وتہذیبی تربیت میں اُن کا بہت فعال کردار رہا۔اللہ کریم نے ماہِ رمضان کی اعلیٰ ترین ساعات میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلا کر یہ اشارہ دے دیا کہ اُن کی مخلصانہ جدوجہد رائیگاں نہیں گئی بلکہ وہ اپنے مالک کی نگاہ میں محبوبیت کا مقام پا گئے۔ ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ کریم اُن کے درجات بلند فرمائے  اُن کی بشری لغزشون سے درگزر فرمائے  اُن کے جملہ متعلقین کو صبرِ جمیل سے نوازے۔ انہوں نے نوجوان نسل میں افکارِ عالیہ کی جو تخم ریزی کی تو یہ نوجوان اپنے عظیم معلم ورہبر کی تمناﺅں کا مصداق بن کر وطن پاک اورامت مسلمہ کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرسکیں اوراللہ کریم ہمارے اساتذہ کو توفیق دے کہ عبدالحمید ڈار مرحوم کے طرزِ عمل کو اپنا کر اپنا دینی وملی فریضہ سرانجام دے سکیں۔ عظیم مسلمان استاد  مصلح ومفکر جناب عبدالحمید ڈار الوداع  اے راہ ِ حق کے مسافر الوداع۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *