Monday , September 24 2018
ہوم > کالم > ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور مریم نواز۔۔۔۔محمدصفدرسکھیرا

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور مریم نواز۔۔۔۔محمدصفدرسکھیرا

شریف خاندان کی پیشیاں، مجرموں جیسا سلوک، چوروں کی طرح تفتیش یہ مکافات عمل ہے۔ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ایک وقت تھا پرویزمشرف ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا اور لگتا تھا کہ مرتے دم تک اس کی فرعونیت ایسے ہی قائم رہے گی مگرجب اللہ کی بے آواز لاٹھی برسی تو وہی پرویزمشرف آج پاکستان میں قدم رکھنے سے بھی گھبراتا ہے، جب لال مسجد پر فاسفورس بم برسائے گئے(ان آنکھوں نے ایک قومی اخبار میں جلی لاشوںکی تصاویر دیکھی ہیں) معصوم طالبات اورطالب علموں کو زندہ جلایا گیا تو ایک سینئر صحافی نے لکھا تھا کہ لال مسجد کی روحیں پرویزمشرف کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی اور پھر سب نے دیکھا کہ کتنا لاچار اور بے بس ہوکر پرویزمشرف کو ایوان اقتدار سے نکلنا پڑا۔ مریم نواز کو جے آئی ٹی کی طرف سے پیشی کے سمن جاری ہونے پر مسلم لیگ ن کی پوری قیادت چیخیں مارہی ہے، قوم کی ہر بیٹی کی حرمت برابر ہے۔ ہمارے آقا نے تو ہم کو یہ تعلیم دی کہ غیرمسلم کی بیٹی کا احترام بھی اپنی بیٹی کی طرح کرنا ہے، نوازشریف جب وزیراعظم نہیں بنے تھے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ کے پاس گئے اور وعدہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو میں واپس لاﺅں گا عافیہ پوری قوم کی بیٹی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں نشہ ہی ایسا ہے سب اپنی ذات اور مفادات کے حصار میں بند ہوکر رہ جاتے ہیں آج نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کا پانچواں سال چل رہا ہے مگر قوم کی بے گناہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے کبھی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے ہلچل مچائی تو پرانے زخم پھر تازہ ہوگئے اور نئے گھاﺅ بھی لگ گئے کہ اس مفاد پرست ٹولے کی وجہ سے امریکی جاسوس اللہ تعالیٰ کے بنائے آفاقی قوانین کا مذاق اڑا رہا ہے اور توہین آمیز لہجے میں کہتا ہے کہ دیت و قصاص کے قانون کو میری رہائی کے لئے مذاق بنادیا گیا۔ حکمران اس وقت ریمنڈ ڈیوس کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی مانگتے تو رہائی یقینی تھی۔ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی امریکہ کے لئے زندگی موت کا مسئلہ بنا ہوا تھا اگر پاکستانی ادارے صحیح طرح سے امریکی جاسوس سے تفتیش کرتے تو سی آئی اے بری طرح بے نقاب ہو جاتی مگر غلام حکمرانوں نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ثابت کیا وہ صرف ذہنی ہی نہیں روحانی طورپر بھی غلام ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے امریکی صدر اوباما کی رخصتی کے وقت بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا سنہری موقع گنوا دیا۔ شریف خاندان نے آف شور کمپنیاں بنائیں، لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹ خریدے، ان جائیدادوں کے حوالے سے شریف خاندان کے تمام افراد کے موقف میں تضاد ہے۔ مطلب دال میں کچھ کالا ضرور ہے ورنہ یہ معاملہ بالکل سیدھا اور سادہ ہے کہ اگر قانونی طریقے سے کاروبار کرکے پیسہ کما کے جائیداد خریدی ہے تو منی ٹریل پیش کردیں زیادہ الجھاﺅ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغواءکیا گیا اور ایسا بھونڈا الزام لگایا گیا کہ جس کو کوئی بچہ بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر اتنی بڑی اور وزنی گن اٹھاکر امریکی فوجیوں پر حملے کی کوشش کا الزام ہے جو گن ایک تربیت یافتہ فوجی بھی اٹھاکر نہیں بلکہ بیلٹ کے ساتھ اپنی کمرے سے باندھ کر چلاتا ہے۔ یہ کیس امریکی عدلیہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اور اس سے بھی بڑا بدنما داغ پاکستان کے ارباب اختیار اور سیاستدانوں کے ماتھے پر ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کی بے گناہ بیٹی ہے اور چودہ سال سے امریکی قید میں پڑی ہے۔ محمد بن قاسم نے بھی قوم کی بے بس بیٹی کی پکار پر لبیک کہا تھا مگر آج کے حکمرانوں کوکس سے تشبیہ دوں۔ مریم نواز کو سمن جاری ہونے پر پورے ملک میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ن لیگی رہنما گلے پھاڑ رہے ہیں کہ بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ جے آئی ٹی کی طرف سے مریم نواز کو طلب نہیں کرناچاہئے تھا۔ کاش یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداریہی الفاظ بے گناہ اور بے بس ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میںبھی ادار کرتے۔ آج عدلیہ، جے آئی ٹی اور سیاسی حریفوں پر برسنے والے اپنے وزیراعظم سے مطالبہ کرتے کہ غیرت مند حکمران قوم کی بیٹی غیروں کی قید میں رہنے تک چین سے نہیں سو سکتے تو آج پوری قوم مریم نواز کی طلبی پر مسلم لیگ ن کے ساتھ ہوتی اور پوری قوم کا یہی مطالبہ ہوتا کہ اقتدار اور مفادپرستی کی لڑائی میں بیٹیوں کو نہیں گھسیٹا جانا چاہئے۔ پاناما کیس کا اور کوئی رزلٹ نکلے نہ نکلے سیاسی اشرافیہ تیزی سے بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔ کون کتنے پانی میں ہے سب سامنے آچکا۔ آج کوئی ایک سیاستدان بھی ایسا دکھا دیں جو اخلاقیات کا درس دے، سب ایک دوسرے پر گِدھوں کی طرح جھپٹ رہے ہیں۔ الزام اور بہتان تراشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے، پارلیمینٹ کو سپریم کہا جاتا ہے اور اسی پارلیمینٹ کے اراکین کبھی ڈائس کے معاملے پر جھگڑے رہے ہیں تو کبھی ایک دوسرے پر انتہائی غلیظ الزامات لگارہے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھریلو معاملات اچھال کر عزتوں کی چادریں تارتار کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *