Sunday , August 19 2018
ہوم > کاروبار > بحریہ نے پابندی کے باوجود 42 لگژری گاڑیاں درآمد کیں؛ پی اے سی میں انکشاف

بحریہ نے پابندی کے باوجود 42 لگژری گاڑیاں درآمد کیں؛ پی اے سی میں انکشاف

 اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاک بحریہ کی طرف سے کابینہ ڈویژن کی پابندی کے باوجود2011 میں کروڑوں روپے مالیت کی 42 لگژری گاڑیاں درآمدکی گئیں جبکہ درآمدکی منظوری وزیراعظم کے بجائے پاک بحریہ کے سربراہ سے لی گئی۔

چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر میں اربوں روپے کی بے قاعدگیاں ہیں، ٹھیکیدار اورکمپنیاں اربوں روپے کھا گئیں وہاںکوئی نہیں بولتا، ایئرپورٹ کے معاملے پر محکمہ آڈٹ بھی خاموش تماشائی ہے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں مالی سال 2013-14کی وزارت دفاعی پیداوارکی آڈٹ رپورٹ پر غورکیا گیا، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ پاک بحریہ نے2011میں پابندی کے باوجود14لاکھ 52ہزار ڈالر مالیت کی 40 گاڑیاں درآمد کیں۔

Advertisement

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاک بحریہ نے  نیول چیف کی منظوری سے 40 لینڈ کروزرز درآمد کیں، قواعد کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے کی منظوری وزیراعظم سے لینی چاہیے تھی، حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسی برس ایک لاکھ 25 ہزار 387 یورو مالیت کی 2 بی ایم ڈبلیو گاڑیاں بھی خلاف قواعد درآمد کی گئیں۔

اجلاس میں ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نیوی نے بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے بعد ازاں گاڑیوں کی درآمد کو جائز قرار دے دیا تھا کیونکہ گاڑیاں ٹربو نہیں تھیں، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا، اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی شپ یارڈ انتظامیہ کی جانب سے16کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا ٹھیکہ خلاف قواعد دیا گیا۔

رکن کمیٹی شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ٹینڈر یا بولی کے دوران کاغذات میں علیحدہ پرچی ڈالنا قوانین کی خلاف ورزی ہے، ہم نے ساری عمر گلیوں اور نالیوں کے ٹینڈر کھولے آج تک پرچی نہیں نکلی، دوسری جانب سردارعاشق گوپانگ نے کہا کہ نیت چاہے اچھی ہو لیکن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے پاکستان سٹیل ملز میں اربوں روپے کے نقصانات کی ذمے داری کا تعین کرنے کیلیے نیب کو ریفرنس بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈکی اہلیت کارکردگی اور حکومت کی جانب سے اسے ختم کرنے کے فیصلے کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سب کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی نے وزارت صنعت کے ذیلی ادارے فرنیچر پاکستان کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اسد عمر کی سربراہی میں ہواجس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ وزارت صنعت وپیداوار انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈپاکستان اسٹیل ملز نجکاری کمیشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی، چیئرمین کمیٹی اسد عمر نے کہا گزشتہ 3 سال سے اسٹیل ملز کا رونا رو رہے ہیں مگر ہماری سفارشات پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا، اسٹیل ملز کے ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی کی رقم کو خرچ کرنا مجرمانہ اقدام ہے جس پراسٹیل ملز کے افسران کیخلاف فوجداری مقدمہ درج ہوسکتاہے۔

یہ بھی دیکھیں

زرمبادلہ کتنا رہ گیا؟؟

کراچی: پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید 29 کروڑ ڈالرز کمی واقع ہوئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *