33

خودپسندی

آج میں ایک ایسی برائی کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کرنے جارہا ہوں جو مجھے اس ملک کے ہر دوسرے شہری میں نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ میری کمزور نظر نہیں بلکہ میری صاف اور شفاف تربیت ہے۔ وہ لوگ جو میرے کالم روزانہ پڑھتے ہیں انہیں علم ہوگا کہ میری کچھ تربیت گاؤں کی خوشبودار فضاوں اور لہلہاتی فصلوں کے درمیان بھی ہوئی ہے۔ اس لیے مجھےشہر کی نسبت گاؤں زیادہ پسند ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کچھ ملے نہ ملے، خالص گوبر اور لسی ضرور مل جاتی ہے۔ خیر، میں بات کررہا تھا ‘خودپسندی’ جیسی معاشرتی بیماری کی۔ آج حال یہ ہے کہ اس بیماری کا شکار مریض ہر طبقہ میں موجود ہے۔ چاہے وہ طبقہ فکر ہو یا طبقہ شکر۔ چاہے کوئی سیاست دان ہو، مولوی دان، فوجی، افسر، نوکر ،یا قلم دان یعنی صحافی ہی کیوں نا ہو سب کے سب اپنی واہ واہ کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ گو کہ میں بھی ایک صحافی ہوں لیکن اس بیماری کے جراثیم بھی مجھ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس لیے میرے اندر نئے آنے والے اور پرانے جانے والے صحافیوں کے لیے ایک مثالی رول ماڈل موجود ہے۔

مزید تفصیل میں جانے سے پہلے میں ایک خط اپنے کروڑوں پڑھنے اور چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا۔ گو کہ خط میں سوائے میری تعریف کے اور کچھ خاص بات نہیں، لیکن کالم کے موضوع سے ہم آہنگی رکھتا ہے اس لیے ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اب میری شہرت صرف اخبارات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ ٹی وی پر بھی کافی ہوچکی ہے اس لیے مجھے روزانہ سینکڑوں ای میلز اور خطوط ملتے ہیں۔ انہیں پڑھنے کے لیے میرے پاس ٹائم تک نہیں ہوتا۔ پھر بھی میں غرور نہیں کرتا کیوں کہ جب میرے جیسا شخص اتنا مشہور معروف صحافی ہوگا تو اتنے خط اور ای میلز تو ملیں گی ہی۔ اس لیے میں نے ایک فی میل اسسٹنٹ رکھ لی ہے۔ وہ اپنے جیسے اچھے اچھے خط اور ای میلز میرے لیے الگ کرتی ہے اور برے اور گندے الفاظ والے خط خود پڑھتی ہے۔ نا صرف پڑھتی ہے بلکہ منہ توڑ اور ہم وزن جواب بھی دیتی ہے۔ اکثر میرے دوست کہتے ہیں “یار نذیرے! ایس عمر وچ فی میل اسسٹنٹ ؟” میں ان سے کہتا ہوں کہ میں نے اس جیسی نڈر اور فرض شناس اسسٹنٹ آج تک نہیں دیکھی۔

ہمارے معاشرے میں تو یہ رواج بن گیا ہے کہ ہر جملہ گالی سے شروع ہوتا ہے اور گالی پر ہی ختم ہوتا ہے۔ کچھ لوگ تو رشتہ داریوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ “ابے کھوتے دے پتر، منافق کہیں کے! اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اور یہ سب کرتے ہو۔ اگر واقعی مسلمان ہو تو یہ سب نہ لکھا کرو۔ اس سے زبان خراب ہوتی ہے اور اعمال بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔ مرد کے بچے ہو تو بعض آجاؤ ورنہ چنیوٹ پولیس سے تمہاری چھترول کرواکر اپنے چینل سے پورے ملک کو دکھادوں گا”۔

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ میں ایک سچا اور پکا مسلمان ہوں اس لیے سویرے سویرے دوپہر کواٹھتا ہوں۔ رات کی پارٹیوں کی زیادتی کی وجہ سے شب بیداری کی عادت ہوگئی ہے۔ میں اپنے پیشہ کو ہی عبادت کا درجہ بھی دیتا ہوں اس لیے میں رات بھر عبادت میں گزارتا ہوں۔ مجھے وہ قدامت پسند سخت برے لگتے ہیں جو ہزار سال پرانی عبادتوں کی ادائیگی پر زور دیتے ہیں۔ میرے جیسے جدت پسند اور روشن خیال مصنف کو کھوسٹ لوگوں سے زیادہ پتا ہوتا ہے کہ کیا عبادت ہے اور کیا جہاد۔ میں نے ان لوگوں کی طرح ہرے مدرسے اور پیلے اسکول سے نہیں پڑھا بلکہ ولایتی لوگوں کے ساتھ اے سی والے کمرہ میں بیٹھ کر پڑھا ہے۔ لہٰذا مجھ جیسے پڑھے لکھے،سوٹڈ بوٹڈ، تعلیم و تربیت یافتہ ، غرض کہ دنیا کی ہر اچھائی کے حامل شخص کے مقابلہ میں کسی کو رکھنا نا انصافی ہی تو ہے۔

میرے کچھ مخالف یعنی جاہل اور گنوار لوگ میرے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں کہ میں کرپٹ اور زبان دراز ہوں اس لیے میں اپنے اربوں پڑھنے والوں سے کہتا ہوں کہ میں جو چیز لائیو کہتا اور لکھتا ہوں اس پر یقین کریں اور یوٹیوب کی ریکارڈنگز سننے والوں پر تین حرف بھیجیں۔ اب میں آتا ہوں اپنے اصل موضوع یعنی ہمارے معاشرے کی بہت بڑی برائی ‘خود پسندی’ پر۔ لیکن چونکہ وقت بھی ختم ہوگیا ہے اور اخباری کالم کی جگہ بھی بھر گئی ہے، اس لیے اس پر کل روشنی ڈالوں گا۔ ان لوگوں کے پول بھی کھولوں گا کہ جو اپنے پیشہ کی آڑ میں شہرت اور پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آخر میں ایک گزارش ہے اپنے لاتعداد قارئین سے کہ آپ کو قسم ہے میری یعنی اپنے روحانی استاد اور کالمی مسیحا کی کہ اپنے آپ کو خودپسندی اور مغروریت سے جس حد تک ممکن ہو دور رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کریں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں