Tuesday , December 11 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > تعلیم کے حصول کا مقصد صرف نوکری ہی کیوں۔۔۔؟

تعلیم کے حصول کا مقصد صرف نوکری ہی کیوں۔۔۔؟

بلاشبہ ہر مذہب اور معاشرت میں تعلیم کے حصول کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، کیوں کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

ترقی کی بلندیوںکو چھونے والی اقوام نے تعلیم کو ہی اپنا زینہ بنایا۔ جن اقوام نے تعلیم کو زیور سمجھا وہ سنورگئیں، جنہوں نے فرض سمجھا وہ حق تلفی جیسے گناہ سے بچ گئیں، جنہوں نے ہتھیار سمجھا وہ جیت گئیں اور جن اقوام نے اس کو ضرورت بنا لیا وہ کبھی ضرورت مند نہ ہوئیں۔ صدیوں قبل دنیا بھر کے تقریباً تمام ممالک، اقوام اور معاشرے تعلیم کی افادیت و اہمیت سے بخوبی واقف ہو چکے تھے، لیکن اس کے باوجود تعلیم کا حقیقی حصول تاحال ایک سوال ہے۔ تعلیم کے حصول کی آگاہی ابھی بھی ایک معمہ ہے۔ کہیں تو بیشتر ممالک اس فاش راز کو فاش کر کے اپنی اولین ترجیح میں شامل کر رہے ہیں اور کہیں اس حل شدہ سوال کو مزید حل کیا جارہا ہے۔

تعلیم کے حصول کا مقصد کیا ہے؟ وطن عزیز میں عام لوگوں کی ترجیحات، سوچ اور معاشرت کو مدنظر رکھا کر باآسانی اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا سب سے بڑا مقصد صرف ملازمت کا حصول ہے۔ آج اگر تعلیم کی بات کی جائے تو ساتھ میں یہ بھی اکثر پوچھا جاتا ہے کہ اس کے بعد کون سی نوکری ملے گی، جیسے علم تو صرف رہ ہی نوکری کے لئے گیا ہے۔ ملازمت کا حصول تعلیم کے مقصد کا ایک پہلو ضرور ہے، لیکن یہ ’’کُل‘‘ نہیں۔ تعلیم یا علم کا حصول صرف ملازمت کے لئے ہو گا تو کوئی بھی علم کی حقیقت کو جان سکے گا نہ اس سے وہ اصلاً استفادہ کر سکے گا۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا‘‘۔ تعلیم کا مقصد نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے مذہب کی اصلیت سے واقف ہوں۔ لیکن اس وقت نوجوان اس بات سے مکمل طور پر ناواقف اور غافل ہے، وہ صرف نوکری کا طلب گار ہے۔ آج کا نوجوان ظاہری عیاشی والی زندگی کو حسین منزل سمجھ بیٹھا ہے۔

 اْسے معلوم ہی نہیں کہ قدرت نے اس کے دل ودماغ کے اندر ایسے محرکات پوشیدہ کر دیے ہیں کہ وہ سمندر کی گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے‘ آسمان کی وسعتوں کو مسخر کرسکتا ہے۔ اگر نوجوان ٹھان لے کہ اس نے صرف محنت ہی کرنی ہے اور محنت کے بل پر ہی عزت ووقار اورشان و شوکت حاصل کرنی ہے‘ تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں بچوں سے لے کر نوجوانوں تک کو وہ خاص تعلیمی ماحول مہیا کیا جاتا ہے جس میں تحقیق و مشاہدے کے ساتھ ساتھ شعور کی بیداری کی تعلیم دی جائے؟ تو اس کا جواب نہی میں اس لئے ہے کہ آج تک ہم انگریز کے بنائے نظام تعلیم کو ہی کسی نہ کسی شکل میں گھسیٹ رہے ہیں۔ لارڈ میکالے نے برصغیر کے لئے جو نظام تعلیم بنایا دنیا میں شاید ہی کسی نے نظام تعلیم کا مقصد اتنا پست مقرر کررکھا ہو، کیوں کہ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کا مقصد یہاں سے صرف کلرک پیدا کرنا تھا، یعنی تعلیم برائے ملازمت۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کے نظام تعلیم نے تعلیم کے مقاصد کو محدود کر دیا ہے، جس کی تین بڑی وجوہات ہیں، مختلف و کمزور نظام تعلیم، نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم۔ متنوع، غیر ضروری، غیر متعلقہ اور بچوں و نوجوانوں کی ذہنی استعداد کے برعکس نصاب نے طلبہ اور نوجوانوں کی سوچ کو محدود کر رکھا ہے۔ آئے روز نت نئے تجربات کے باوجود ہم نصاب تعلیم کی کمزوریوں پر قابو نہیں پا سکے۔ مختلف نظام تعلیم کی وجہ سے قومیت کا نظریہ پروان نہیں چڑھ رہا۔ کہیں اردو اور کہیں انگریزی زبان نے پوری قوم کو کنفیوژ کر دیا ہے۔ ایک طالب علم کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور اس کی وجہ تعلیم کا موجودہ حالات سے لاتعلق ہونا اور فرسودہ پن ہے۔ اِسی طرح طالب علموں کو لگتا ہے کہ کتابیں صرف ’’یاد‘‘ کرنے کے لے ہی ہوتی ہیں۔ وہ اِن کتابوں کا صحیح استعمال سیکھ ہی نہیں پاتے اور اپنی عملی زندگی میں ناکام رہتے ہیں اور پھر بدعنوان اداروں یا شعبوں میں فِٹ ہوجاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے ہفتہ و عشرہ قبل اپنی ایک تازہ رپورٹ پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان میں بڑا مسئلہ تعلیمی معیار کا ہے، جس کی وجہ سے کئی بچے بالخصوص غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے و بچیاں سکول کی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔‘‘ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’’پاکستان میں نہ صرف سرکاری بلکہ نجی شعبے کے سکولوں کا تدرسی معیار بھی پست ہے۔‘‘ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ ’’اس مسئلے کا حل ایک قومی نصاب کے لاگو ہونے ہی سے ممکن ہے۔ ابھی تو کوئی معیار ہی نہیں پرائیویٹ اسکولز جو چاہے نصاب پڑھا دیں۔ آئندہ سالوں میں ہر صوبے کی اپنی سمت ہو جائے گی۔ اگر وہ اچھا کام بھی کریں مگر سمت تو الگ الگ ہوگی جو کہ نقصان دہ ہو گی۔ نصاب سے متعلق کم از کم نقاط پر متفق ہونا لازمی ہے۔‘‘ وزیر مملکت کے اس بیان کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس سے کم ازکم یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم کے مقاصد کے حصول اور نظام تعلیم میں بہتری کے لئے مضبوط اور متعلقہ نصاب کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیم کے حصول کا کوئی ایک مقصد نہیں، یہ مختلف حالات و معاشرت میں متنوع ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے پانچ بڑے مقاصد ہیں۔

٭ بچوں کو بہترین شہری بننے کی تربیت فراہم کرنا

٭ ایک ہنر مند افرادی قوت کا حصول

٭ بچوں کو اپنی ثقافت سے روشناس کروانا اور اس کا فروغ

٭ طالب علموں میں غور و فکر کی عادت کو پروان چڑھانا

٭ نوجوان نسل کے اندر بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا

بدقسمتی! سے ہمارے ملک میں تعلیم کے حقیقی مقاصد کے حوالے سے کی جانے والی کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور اس کے ذمہ دار حکمران، والدین اور اساتذہ ہیں۔ گزشتہ 66 سالوں سے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں سے تعلیم مہنگی اور غریب کی پہنچ سے دور رہی۔ کمزور معاشی پالیسیوں کی بدولت آج پاکستانیوں کی اکثریت بدحالی کا رونا رو رہی ہے اور ایسے میں وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے اصل مقاصد کی طرف لے جانے میں ناکام رہے۔ والدین نے بچے سے صرف یہ امید باندھی کے وہ کلاس میں اول آتا رہے، اچھا طالب علم بنے، لیکن افسوس! والدین کی اکثریت کی طرف سے بچے کو اچھا انسان بنانے کی وہ کوششیں نہیں کی گئیں جو متقاضی تھیں۔ اساتذہ (استثنیٰ کے ساتھ) نے تعلیم کو صرف ملازمت سمجھا، کلاس یا سکول کا صرف اچھا نتیجہ ہی ان کی ذمہ داری ٹھہری۔ حالاں کہ ان کا کام صرف کتاب رٹا دینا ہی نہیں بلکہ بچے کی عملی تربیت، ان میں غور و فکر کی سوچ پیدا کرنا اور شعور کی آبیاری بھی ان کا فرض ہے۔ لہٰذا تعلیم کے حصول کے حقیقی مقاصد کو پانے کے لئے حکومت، والدین اور اساتذہ کو اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ روشن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کے لئے حقیقی مقاصد کے ساتھ تعلیم کا حصول ناگزیر ہے۔

بشکریہ/رانانسیم/ایکسپریس

یہ بھی دیکھیں

بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا؟

لاہور(ویب ڈیسک)ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *