54

اراضی مالکان کی تعدادکتنی؟۔۔کرپشن کی وجوہات کیا؟۔۔کیپٹن ظفراقبال کاانٹرویو

آذادڈاٹ پی کے کیلئے ہمارے خصوصی نمائندے”سید رضوان شمسی” نے کیپٹن ریٹائرڈ ظفراقبال( ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی)کاخصوصی انٹرویوکیاہے جس میں انہوں نے لینڈریکارڈاتھارٹی کے قیام سے لے کر اب تک کی کارکردگی اوراس کے اغراض ومقاصد پرگفتگو کی ہے۔۔۔۔۔

لینڈ ریکارڈزا تھارٹی اتھارٹی کا قیام
 وزیر اعلیٰ پنجاب کے عوام دوست وژن کے تحت مالکان کو اراضی ریکارڈکی با سہولت اور شفاف خدمات کی فراہمی کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کیلیے نومبر 2016میں پنجاب لینڈ ریکارڈ آرڈیننس اور بعد ازاں فروری 2017 میں ایکٹ کی منظوری کے نتیجہ میں 1 جنوری کو پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کا قیام عمل میں لایا گیئا جس کا مقصد لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت رائج کمپیوٹرائزڈ نظام کا تسلسل، سنٹرز کے انتظامی امورکی مرکزی دیکھ بھال و نگرانی اور اراضی ریکارڈ کو بین الاقوامی سطح پر رائج لینڈ ایڈمنسٹریشن سسٹم کے خطوط پر ابھارنے کے لیے دیگر منصوبہ جات کی تیاری اور عملدرآمد شامل ہیں۔کیپٹن ظفر اقبال کو اتھارٹی کا پہلا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔PLRAکے پس منظر ، مقاصد اور مستقبل کے منصوبہ جات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ
منصوبے کا پس منظر
پنجاب بنیادی طور پر ایک زرعی صوبہ ہے۔ اسکی آباد ی کی کثیر تعدادزراعت کے شعبہ سے وابستہ ہے۔ ۔ ماضی قریب تک پنجاب میں زمین کے ریکارڈ اور ملکیت کی منتقلی کے لیے ایک طویل مدت سے مینﺅل نظام رائج تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں بھی اضافہ ہو تا جاتا ہے۔ آبادی میں اضافے کا ساتھ ہی زمین کی نسل در نسل تقسیم کے نتیجہ میں مالکان اراضی کی تعدادمیں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پنجاب بھر میں اراضی مالکان کی تعداد 5.5کروڑ سے زائد ہے۔پرانے نظام کے تحت اراضی ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور دیکھ بھال کا کام کافی پیچیدہ ہو چکا تھا اور اس میں کافی زیادہ خامیاں بھی تھیں۔مینﺅل ریکارڈ میں تبدیلی، اس کے علاوہ کاغذات کی صورت میں موجود ریکارڈ بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ساتھ ساتھ حادثاتی طور پر کھنے، سیلاب ےا آگ کی صورت میںتلف ہونے کے خطرے سے دوچار رہتا تھاجس سے اراضی مالکان کے حقوق متاثر ہوتے تھے۔اس کے علاوہزمینوں پر ناجائز قبضوں اور جائداد کی تقسیم کے جھگڑوں میں کرپشن عروج پر پہنچ رہی ہے اور پٹواری کلچر عوام دشمنی کا ذریعہ بن چکا تھا۔
LRMIS کا تعارف
حکومت پنجاب نے 12 ارب روپے کی خطیر رقم سے کمپیوٹر ائزیشن آف لینڈ ریکارڈ کے منصوبہ © ©(لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز) کا آغاز کیا ۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں محکمہ مال کے عملہ (پٹواری صاحبان)کی تحویل میںموجود 5.5 کروڑ سے زائدمالکان اراضی کے کاغذی شکل میں موجود کوائف کو بذریعہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں متعلقہ خدمات یعنی فرد کے اجراءاور انتقال اراضی کے لیے پنجاب بھر کی 143 تحصیلوں میں اراضی ریکارڈ سنٹرز مکمل طور پر ااپریشنل ہیں۔جہاں پر پنجاب بھر کے 23ہزار سے زائد دیہی مواضعات کے مالکان اراضی کو ریکارڈ سے متعلق شفاف اور بروقت خدمات کی فراہمی جاری ہے۔ جو کہ کمپیوٹرائزڈ فرد کے اجراءاور انتقال اراضی کے عمل کو موثر اور آسان طریقے سے سر انجام دینے کے علاوہ محکمہ مال کے بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ نظام کی کامیاب تکمیل اور شفافیت کا اعتراف ورلڈ بینک نے بھی کیا ہے۔ اس سال اپریل میں ورلڈ بینک کے تحت منعقدہ تقریب میں126 ممالک کے 1300 شرکاءمیں بہترین ایوارڈ دیا ا ور تعریفی اسناد بھی عطا کیں۔
اراضی ریکارڈ سنٹرز کے قیام سے اراضی مالکان کے بہت سے مسائل ازخود حل ہو چکے ہیںاور اراضی سے متعلق تمام خدمات ایک ہی جگہ پر میسر ہیں۔ ماضی کی طرح پٹواری کو تلاش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔ اراضی سنٹرز کا عملہ دفتری اوقات میں عوام کی سہولت اور رہنمائی کے لیے ہر وقت موجود ہوتاہے۔ہر اراضی ریکارڈ سنٹر پر عوام کی سہولت کے لیے ویٹنگ رومز قائم کیے گئے ہیں۔اورخواتین اور بزرگ افراد کے لیے خصوصی کاﺅنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ مالکان اراضی کی سہولت کے پیش نظر اراضی کا ریکارڈ اتھارٹی ویب سائٹwww.pujab-zameen.gov.pk پر دستیاب ہے
خدمات کی فراہمی
فرد ملکیت کے اجراءکے لیے سائل کو محض 30منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔ سائل سب سے پہلے ٹوکن کاﺅنٹر پر جا کر اپنے نام اور شناختی کارڈ کی تصدیق کرواتا ہے اور اس کے بعد فیس جمع کروا کر اپنی ملکیت کی فرد جاری کروا سکتا ہے
انتقال اراضی کا عمل 50 منٹ میںمکمل ہو جاتا ہے۔ انتقال کے لیے بھی مالک اراضی سب سے پہلے ٹوکن حاصل کر نے کے بعد فرد برائے بیع حاصل کرتا ہے اور اس کے بعد انتقال کا اندراج کرواتا ہے۔ انتقال کے اندراج کے بعد ریونیو آفیسر کے روبرو بائعہ، مشتری اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاتے ہیں اور ان کی تصاویر اور نشان انگوٹھا سے تصدیق کی جاتی ہے۔ سب سے آخر میں ریونیو آفیسر اپنا فیصلہ درج کرتا ہے اور اپنے دیجیٹل دستخط /نشان انگوٹھا کے ذریعے انتقال کو پاس کرتا ہے۔جس رقبہ کی رجسٹری ہوتی ہے اس رقبہ کا انتقال رجسٹڑڈ ڈیڈ کے مطابق کیا جاتا ہے۔
اس منصوبے سے عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل رہا ہے اور اراضی کے معاملات میں فراڈ اور دھوکہ دہی کا عملی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب کوئی بھی شخص دھوکہ دہی سے کسی کی زمین کو نہ تو اپنے نام کروا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو بیچ سکتا ہے۔سارا نظام عام آدمی کی پہنچ میں ہے اور تمام مالکان کو مساوی طور پر ڈیل کیا جاتا ہے۔
مانیٹرنگ کا نظام
منصوبے کی شفافیت اور معیار کو قائم رکھنے کے لیے مانیٹرنگ کا ایک مربوط اور جامع نظام متعارف کروایا گیا ہے۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں ایک مرکزی مانیٹرنگ روم قائم کیا جا چکا ہے۔مانیٹرنگ روم کا عملہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے صوبہ بھر میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹرز پہ نظر رکھتا ہے اور اراضی ریکارڈ سنٹرز پر ہونے والی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔اگر کوئی مشکوک سرگرمی مشاہدے میں آئے تو اس کے خلاف فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔تمام اراضی سنٹرز پر شکایات سیل کے رابطہ نمبرز آویزاں کیے گئے ہیں تا کہ بوقت ضرورت سائل شکایات سیل سے رابطہ قائم کر کے اپنی شکایات کا ازالہ کروا سکیں۔شکایت کنندگان کی شکایت کا ازالہ کرنے کے بعد ان کو دوبارہ کال کر کے تصدیق کی جاتی ہے کہ ان کا مسئلہ حل ہوا ہے ےا نہیں۔اس کے علاوہ خدمات کی فراہمی کے معیارکو برقرار رکھنے اورعوام کی سہولت کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بھی باقاعدگی کے ساتھ اراضی ریکارڈ سنٹرز کے دورے کرتے ہیں۔
مانیٹرنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹرز کو اراضی ریکارڈ سنٹرز کے باقاعدہ دورے کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ افسران کی ٹیمیں سنٹرز کے اچانک دورے کرتی ہیں اورخدمات کی فراہمی سے متعلق لوگوں کی رائے لی جاتی ہے۔ ان افسران کی نشاندہی پرمتعدد ملازمین کو معطل کر کے نااہل ور کرپٹ عملہ کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
مزید یہ کہ مستقبل قریب میں شکایات کے ازالہ کے لیے ضلع کی سطح پر ریٹائر جج صاحبان پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی جایں گی۔
درپیش مسائل
پنجاب میں اراضی ریکارڈ کے مینﺅل نظام کو تبدیل کرنے کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں حائل تھیں جن کو عبور کرنا کسی چیلنج سے کم نہیںتھا۔ کمپیوٹرائزیشن کے لیے مینﺅل ریکارڈ کی دستیابی ایک اہم مرحلہ تھا کیونکہ کم وبیش 2,000,000جمعبندیاں ریکارڈ سے غائب تھیں جبکہ 1,865,000 انتقالات کی پرت سرکار موجود نہ تھیں جبکہ ریکارڈ میں بے تحاشا اغلاط ایک بہت بڑی رکاوٹ رہی۔تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی مسلسل نگرانی کے باعث محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تقریبا17لاکھافراد کا ریکارڈ کو دوبارہ مرتب کیا گیاتقریبا 1,760,000انتقالات اوراغلاط کی تصدیق و تصحیح کی گئی ہے۔ اس طرح کم وبیش 70سالہ ریکارڈ کی کلینزنگ کر کے اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔
مالکان اراضی کو نئے نظام سے متعارف کروانے اور اسکی کامیابی کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے ایک آگاہی مہم چلائی گئی جس میں PLRA کی ٹیم نے راولپنڈی سے روجھان تک قانونگوئی کی سطح پر دورے کیے اور پنجاب بھر کے مالکان اراضی کے ساتھ 600سے زائد میٹنگز کا انعقاد کیا گیاجس میں مالکان اور نمبرداران کو نئے نظام کے متعلق بریفنگ دی گئی اور نئے نظام کے فوائد سے آگاہ کیا گیا۔
اس نظام کو رائج کرنے کے سلسلہ میں عملہ مال کی جانب سے ممکنہ مزاحمت(Resistance)کو ختم کرنے کے لیے 40ورکشاپس کے ذریعے 7000 سے زائد ریونیو افسران اور سٹاف کو لینڈ ریکارڈ مینیجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے حوالے سے ٹریننگ دی گئی۔
اہم پیش رفت
30جون 2014 سے پنجاب بھر میں اراضی سے متعلقہ خدمات کی فراہمی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔
مینﺅل ریکارڈ کے ایک کروڑ سے زائدصفحات کی Scanning کا کام مکمل
صوبہ بھر کے 25,208 مواضعات کی ڈیٹا انٹری مکمل ہو چکی ہے
5.5 کروڑ مالکان اراضی کا ریکاڑد کمپیوٹرائزڈ شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا چکا ہے
 (92%)23,119 مواضعات کی کمپیوٹرائزیشن کا نوٹیفیکیشن ہو چکا ہے
ماہانہ 180,000 سے زائد فردات کا اجراءہو رہا ہے۔
ماہانہ 60,000سے زائد انتقالات کی تصدیق کی جا رہی ہے
ماہانہ تین لاکھ سئے زائد افراد کواراضی سے متعلق خدمات فراہم کی جا رہی ہین
سرکاری خزانے کو ماہانہ 70 کروڑ سے زائد آمدن ہو رہی ہے۔
پبلک سیکٹر کے سب سے بڑے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس سٹیٹ آف دی آرٹ (TIER-3)ڈیٹا سنٹر کا قیام عمل میں آ چکا ہے
شکایات کے اندراج کے لیے تین ٹیلی فون لائنوں پر مشتمل کال سنٹرقائم کر دیا گیا ہے۔
95% سے زائد مطمئن سارفین کا اعتماد نئے نظام کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دیگر سہولیات / فوائد
وزیر اعلیٰ پنجاب کسان پیکج کے تحت زرعی قرضوں کے اجراءکے لیے اراضی مالکان کی رجسٹریشن کی جاتی ہے ۔رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ 6لاکھ مالکان بلا سود زرعی قرضوں کی سکیم سے استفادہ کر رہے ہیں۔ مالکان کی سہولت کے پیش نظر کمپیوٹرائزڈ پاس بک کے نظام کو یقینی بنایا گیا ہے تا کہ لوگوں کوجدید اور تیز ترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
نئے اقدامات
﴿تین اضلاع لاہور، لودھراں اور حافظ آباد میں GISکا کامیاب پائلٹ پروجیکٹ            ﴿خواتین کے حقوق وراثت کا تحفظ
﴿ اراضی کے ڈیجیٹل نقشہ جات کی تیاری                    ﴿قانونی معاملات / کورٹ کیسز میں نمایاں کمی
﴿ڈویژنل ہیڈ کواٹرز کی سطح پر رجسٹری کی کمپیوٹرائزڈ سروسز کی فراہمی                ﴿زمین کے متعلقہ کاروبار میں اضافہ سے معیشت کی بہتری
﴿کسانوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے کسان پیکج کے تحت بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے بلا معاوضہ رجسٹریشن اور انتقالات کی تصدیق
مستقبل کے منصوبے
مستقبل قریب میں مندرجہ زیل منصوبے زیر غور ہیںجن سے مالکان کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم ہو گا:۔
﴿شہری اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے پر کام بہت جلد شروع کر دیا جائے گا جس سے شہری آبادی کے مالکانہ حقوق کو تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
﴿مالکان اراضی کے شناختی کارڈ نمبرز کی ڈیٹا بیس میں انٹری کی جائے گی جس سے مالکان شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے اپنا ریکارڈ چیک کر سکیں گے۔
﴿تمام اضلاع کے ڈیجیٹل نقشہ جات تیار کیے جا رہے ہیں۔ جس سے مالکان اپنی اراضی کی تفصیل کے ساتھ ساتھ زمین کا نقشہ بھی ملاحظہ کر سکیں گے
﴿فی الوقت پنجاب کی43 تحصیلوں میں رجسٹری کی کمپیوٹرائزڈ سروسز فراہم کی جا رہی ہیں جس کے دائرہ کار کو پنجاب بھر کی تمام 143 تحصیلوں تک وسیع کیا جارہا ہے
﴿وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم کے مطابق پٹواری سے گرداوری کے امور بھی واپس لیے جائیں گے اور خسرہ گرداوری کی automationکی جائے گی جس سے ریونیو فیلڈ سٹاف کا کردار محدود ہو جائے گا
﴿ وزیراعلیٰ پنجاب نے فرد ملکیت کے ریکارڈ کو آن لائن کرنے می منظوری دے دی ہے۔ آن لائن فرد کو زمین کی فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا
﴿فرد ملکیت اور اراضی کی دیگر دستاویزات کے حصول کے لیے موبائل سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موبائل سروس کے ذریعے اراضی کی دستاویزات شہریوں کو ان کی دہلیز پر ملیں گی
فیس کی ادائیگی کے لیے تمام اراضی ریکارڈ سنٹرز پر بینک آف پنجاب کے کاﺅنٹر کھولے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں پنجاب لینڈ ریکاردز اتھارٹی اور بینک ااف پنجاب کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے

کیپٹن ریٹائرڈ ظفراقبال ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی نے کہا کہ وہ خدمات کی تیز ترین اور شفاف فراہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ لوگوں کو خدمات کی بہترین فراہمی میری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو ہر صورت دور کیا جائے گا۔ نا اہل اور کرپٹ افسران کی اتھارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔کرپٹ افراد کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں