Friday , September 21 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > کتاب: دیارِ ادب (تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ)

کتاب: دیارِ ادب (تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ)

کتاب: دیارِ ادب (تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ)

مصنف: ڈاکٹرمحمدعبدالعزیز سہیل
لیکچرار ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگر

مبصر :ڈاکٹرسیداسرار الحق سبیلی

ڈاکٹرمحمدعبدالعزیز سہیل حالیہ عرصہ میں اردو ادب وصحافت کے افق پر روشن ستارے کی طرح بہت تیزی سے علم وادب کی روشنی پھیلارہے ہیں ۔متعدد مضامین کے علاوہ اب تک ان کی چھ کتابیں منظرعام پرآچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب’’دیارِ ادب‘‘ان کے ادبی‘تحقیقی اورتنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں شائع ہوا ہے۔

یہ کتاب دوحصوں پرمشتمل ہے ۔پہلے حصہ میں پندرہ مضامین ہیں ‘ جن میں قدیم وجدید ادبی شخصیات کا تعارف اور ان کے ادبی فتوحات بیان کئے گئے ہیں جیسے علامہ شبلی ‘مولانا ابوالکلام آزاد ‘ڈاکٹرزور‘ علی سردار جعفری‘ اقبال متین ‘راجہ نرسنگ راج عالی‘ گلزار‘ ڈاکٹرعلی احمدجلیلی ‘ڈاکٹر شیلا راج‘ پروفیسر محمد علی اثر‘ ڈاکٹرقطب سرشار‘ جمیل نظام آبادی اورڈاکٹر نادر المسدوسی وغیرہ۔ تمام مضامین مستند حوالہ جات‘خوب صورت اقتباسات اورعمدہ تنقیدی اظہار بیان پرمشتمل ہیں۔
دوسرے حصہ میں اردو زبان کی ترویج واشاعت‘ مسائل اور عصری تقاضے سے متعلق دس مضامین شامل ہیں۔ جیسے اردوصحافت میں جدید ٹکنالوجی کا رول اور نسل نو‘بچوں میں کتب بینی کیسے فروغ دیں ؟‘ اردو ذریعہ تعلیم اورہماری ذمہ داریاں ‘اردو صحافت :ماضی‘حال اورمستقبل اور عصرِحاضر کے تقاضے اور اسلامی ادب وغیرہ ۔ یہ تمام مضامین اردوزبان وادب سے متعلق ہماری ذمہ داریوں کااحساس دلاتے ہیں۔ ہمیں تازہ فکر ‘نئی جدوجہد اور اقدام پرآمادہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹرعزیز سہیل نے ڈاکٹرشیلاراج کی حیات وخدمات پرتحقیقی مقالہ لکھ کر پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر شیلا راج حیدرآباد کے ایک علمی گھرانے کی نمائندہ تاریخ داں ‘مترجمہ‘ مضمون نگار اور ادیبہ تھیں۔ مصنف نے ڈاکٹرشیلاراج پرتحقیق کے ذریعہ کائستھ خاندان کی علمی وادبی خدمات‘سلاطین آصفیہ کی رواداد‘حیدرآباد کی بے مثال قدیم تہدیب وروایات کونمایاں کیا ہے۔ اس طرح آصف جاہی دور کی علمی وادبی خدمات اور سماجی وتہدیبی حالت پر مصنف کا وسیع مطالعہ ہے۔ اس تناظر میں مندرجہ ذیل مقالات لائق توجہ ہیں (۱)آصف سابع کی قومی یکجہتی ورواداری (۲) راجہ نرسنگ راج عالی آصف جاہی عہد کا شیریں زبان شاعر(۳) حیدرآباد میں اردونثر کے فروغ میں ڈاکٹر شیلاراج کا حصہ۔
ڈاکٹرسہیل ایک متحرک اورفعال شخص ہیں ۔علمی وادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔مضامین تخلیق کرنا،کتابوں پرتبصرہ اورسمینار کے رپوتاژ لکھنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ مصنفین ان سے خواہش کرکے تبصرے لکھواتے ہیں ۔ان کا تعلق ادبی وعلمی سرزمین نظام آباد سے ہے۔ تدریسی مصروفیت کی خاطر محبوب نگر اور جڑچرلہ میں مقیم ہیں۔ اس طرح محبوب نگر ‘جڑچرلہ اورنظام آباد کی علمی وادبی مجلسوں میں نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ ادبی مجلسوں کی ادارتی ذمہ داری بھی ادا کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ان کے مندرجہ ذیل مضامین قابل ذکر ہیں:
(۱)ضلع محبوب نگر کا ادبی ماحول اورڈاکٹرعلی احمدجلیلی (۲) عصرحاضر میں تعمیری ادب کا نمائندہ شاعر ڈاکٹرقطب سرشار(۳)خاموشی میں گونجنا قلندر صفت شاعر جمیل نظام آبادی(۴) جڑچرلہ کا شعری وادبی منظرنامہ(۵) تبصرہ نگاری کا فن(۶) اردوادب میں رپوتاژ نگاری کا فن اور ارتقاء ۔
ڈاکٹر محمدعبدالعزیز سہیل نے اپنے ادبی سفر کا آغازبچوں کے ادبی رسائل ’’التوحید‘‘ اور’’بچوں کے غازی‘‘ کی ادارت سے کیاتھا۔ اور تقریباً نوسال (۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۹ء)ان رسائل کے بانی مدیر رہے۔ اس مناسبت سے ان کا مضمون’’بچوں میں کتب بینی کوکیسے فروغ دیں ؟اہمیت کا حامل ہے لیکن اب انہوں نے بچوں کے ادب سے ناطہ توڑکر بڑوں کے ادب میں جگہ بنائی ہے ۔بچے معصوم اور بے خبر ہوتے ہیں۔ ان کواپنے حقوق اور ترجیحات کا علم نہیں ہوتا ورنہ عزیز سہیل سے ضروراحتجاج کرتے کہ ان کو ان کے ادب سے کیوں محروم رکھاجارہا ہے؟اور سب ہی لوگ بڑوں کے ادب کو ترجیح دے کر داد وصول رہے ہیں۔جب بچوں کا ادب ناپید ہوگا تو بڑوں کے ادب کابھی کوئی پرسان حال نہیں رہے گا۔
غرض اس کتاب میں ادب کی قوس وقزح شامل ہے۔ شبلی کاکمال فن بھی ہے اورابوالکلام آزاد کی مسحور کن نثر بھی دکنی ادب وتحقیق کی حلاوت بھی ہے اور ترقی پسند تحریک کی حقیقت نگاری بھی‘تبصرہ نگاری کے فن کے ساتھ رپوتاژ نگاری کا فن بھی ہے۔ اردو صحافت کے ساتھ جدید ٹکنالوجی سے واقفیت بھی ہے اور عہد آصف جاہی کی ادبی سرگرمیوں سے لے کر دورِ حاضر کے ادبی منظرنامے کی جھلک بھی ہے۔ یہ کتاب علم وادب کے طالب علموں اوراساتذہ کے لئے دستاویز اورمعاون درسی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے بصیرت اور روحانی مسرت حاصل ہوگی۔ میں مصنف کو مبارک باد دیتا ہوں اور ان سے خوب سے خوب ترکی امید رکھتا ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

شادی کے بعد سگھڑ بہو کیسے بنا جائے؟ نامور یونیورسٹی میں ڈگری کا آغاز ہو گیا

بھوپال(فاطمہ فیاض) بھارت کی ایک یونیورسٹی میں اگلے تعلیمی سال سے تین ماہ کا ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *