Wednesday , December 12 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > نئی نسل پر فرسودہ خیالات تھوپے نہیں جا سکتے:منزہ ہاشمی

نئی نسل پر فرسودہ خیالات تھوپے نہیں جا سکتے:منزہ ہاشمی

                فیض احمد فیض کی صاحبزادی منزہ ہاشمی سےوقاص غوری کی خصوصی گفتگو

تعارف
منزہ ہاشمی فیض احمد فیض کی صاحبزادی ہونے کے ساتھ پاکستان ٹی وی انڈسٹری میں کام کرنے والی پہلی خاتون ہیں ۔انہوں نے چالیس سال سے زائد عرصہ تک پاکستان ٹیلی ویژن میں خدمات سرانجام دیں ،منزہ ہاشمی میڈیا کے کردار کے حوالے سے اپنا خاص نقطہ نظر رکھتی ہیں اور فیض احمد فیض کی سوچ کی ترویج کے لیے فیض گھر بھی چلا رہی ہیں ۔موجودہ صورتحال پر ان کی رائے جاننے کے لیے ان سے خصوصی گفتگو کی گئی جو نذر قارئین ہے ۔

س!آپ نے ٹی وی میڈیا میں چالیس سال سے زائد گزارے تو میں اپنا پہلا سوال اسی بارے میں پوچھنا چاہوں گا کہ آج کل پاکستان کے میڈیا کی سمت درست ہے ۔۔؟
ج! جب سے میں نے پی ٹی وی چھوڑا ہے ، بہت کم ٹی وی دیکھتی ہوں اور اگر کبھی نظر بھی پڑ ھ جائے تو بہت حیران ہوتی ہوں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔؟پہلے پرائم ٹائم میں ڈرامے دکھائے جاتے تھے ۔جنہیں دیکھنے کے لیے گلیاں سنسان ہو جاتی تھی ۔سارا خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا تھا ۔لیکن اب تو اس وقت ایک نیا ڈرامہ سٹارٹ ہو جاتا ہے ۔ہمارے میڈیا نے ایک نئی سمت لے لی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ڈراموں کا معیار بھی وہ نہیں رہا ۔جو پہلے تھا ۔بریکنگ نیوز اور ایک دوسرے کی پگڑیا ں اچھالنے کے چکر میں سب اصول بھلا دیے گئے ہیں ۔پی ٹی وی کو ایک بور چینل کہا جاتا تھا ۔میں کہنا چاہوں گی کہ پی ٹی وی بور ضرور ہوگا لیکن ذمہ دار چینل ہے۔آج کل کے میڈیا کی ترجیحات ہی تبدیل ہو گئیں ہیں ۔ان کا مقصد نئی نسل کی تربیت نہیں ہے ۔پہلے میڈیا عوام کو غلط اور سہی کا فرق بھی بتاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے جو نہایت قابل افسوس بات ہے ۔غربت ،تعلیم اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل پر بات ہی نہیں کی جاتی بلکہ دیگر معاملات میں قوم کو الجھایا جا رہا ہے ۔
س! عام اصطلاح ہے کہ میڈیا وہ دکھاتا ہے جو معاشرے میں ہو رہا ہے ،لیکن یہ بھی کہا جا تا ہے کہ جو میڈیا دکھائے پھر وہ رواج بن جاتا ہے ۔تو کون سی بات درست ہے ۔۔؟
ج! دیکھیں میڈیا جو نیوز دکھاتا ہے وہ معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے ۔کہیں کرائم یا بم دھماکے کے خبر تبھی آتی جب ایسا ہوا ہو ۔لیکن اس کے ساتھ دوسری بات بھی درست ہے کہ میڈیا لوگوں کی ذہن سازی بھی کررہا ہے ۔میڈیا سے لوگوں کا مائنڈ سیٹ بنتا ہے ۔مثلا “میڈیا ایک جرم ہونے پر شور برپا کر دیتا ہے اور ایک آدھ دن لگتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ۔لیکن دوسرے ہی دن اس خبر کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔اس کا فالو اپ نہیں کیا جاتا ۔یہ جرنلزم نہیں ہے ۔صحافی کا کام صرف خبر دینا نہیں اس کی وجوہات کو بیان کرنا بھی ہے ۔اگر ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ چھت سے چھلانگ لگا دیتی ہے تو یہ خبر ہے ۔لیکن اس نے ایسا کیوں کیا ۔۔؟وجوہات کیا تھیں ۔۔؟یہ کس نے بتانا ہے ۔یہ بھی میڈیا کا کام ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک جائے اور اس کے اسباب سے سب کو آگاہ کرے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل پر قابو پایا جا سکے ۔آج کل سیاسی ٹاک شوز کا رواج عام ہے ۔اُس نے یہ کہا ،وہ کہا ؟کس نے کون سی پارٹی جوائن کر لی ۔چلیں یہ سب بھی ٹھیک ہے لیکن مستقبل کے بارے میں بھی بات ہونی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو کو ن سا پاکستان دے کر جا رہے ہیں ۔مہنگائی بہت بڑا ایشو ہے لیکن اس پر کوئی بات نہیں کرتا ۔پرانے وقت میں لوگ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا سکتے تھے لیکن آج وقت تبدیل ہے ایسا ممکن نہیں رہا ۔ ایسے بہت سے معاملات ہیں جن پر بات ہونی ضروری ہے ۔
س! آج کل ٹی وی پر جو تجزیہ نگار سیاسی معاملات پر بات کرتا ہے ،رمضان المبارک میں وہ مذہبی سکالر بن جاتا ہے اور کبھی نیلام گھر سجا کر لوگوں میں انعامات تقسیم کرتا ہے ۔آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں ۔۔؟
ج!آپ نے بہت تلخ سوال کیا ،پہلے میں ان باتوں پر بہت کڑھتی تھی لیکن یہ دل جلانے والی باتیں ہیں ۔جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہی لوگ کر رہے ہیں جن کو آخرت پر یقین نہیں ہے ۔کیونکہ جس کو آخرت پر یقین ہو وہ ایسا کام نہیں کرتا ۔میں کچھ لوگوں کا نام نہیں لینا چاہتی لیکن ان کے بارے میں جو باتیں سننے کو ملتی ہوں میں حیران ہوتی ہوں کہ آخر یہ لوگ کون ہیں ۔۔؟ جو قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔لیکن خود ان کے بارے میں مضحکہ خیز باتیں عام ہیں ۔لہذا اس پر کچھ کہا نہیں جا سکتا ،صرف افسوس اور بہتری کی دعا کی جا سکتی ہے ۔یہ چینل مالکان کی ذمہ داری ہے کہ احتیاط کریں ۔کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی چینل پر ایک نوجوان خاتون کے روپ میں پروگرام کرتا تھا ۔لیکن آپ حیران ہوں گے کہ وہ انتہائی سنجیدہ لوگ مہمان بن کر آئے تو پھر آپ کس کا قصور نکالیں گے ۔۔؟چینل مالکان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے حد سے بڑھ گئے ہیں ۔وہ صرف رینٹنگ اور پیسوں کے لیے کام کر رہے ہیں حالانکہ ان کو سوچنا چاہیے کہ جو بھی بات یہاں ہو رہی ہے وہ کروڑوں لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔میں کہنا چاہوں کہ میڈیا مالکان ،کانٹینٹ ،پالیسی اور معیار پر سمجھوتہ کر رہے ہیں ۔
س! پیمرا کا کیا کردار ہے اس سب میں وہ کیوں خاموش ہے ۔۔؟
ج! دیکھیں پیمرا کا اس میں کوئی قصور نہیں کیونکہ اس ادارے کے پاس کوئی اتھارٹی ہی نہیں ۔زرا سا ایکشن لیا جائے تو اس کو کھینچ دیا جاتا ہے ۔جب تک پیمرا کو آزاد نہیں کیا جاتا معاملات بہتر نہیں ہو سکتے ۔دنیا بھر میں جتنی بھی ریگولیشن اتھارٹیز ہیں وہ انڈیپنڈنٹ ہوتی ہیں ۔صرف ہمارے ہاں ہی ایسا رحجان نہیں ۔جب پیمرا بنایا گیا تھا میں اس میٹنگ میں شریک تھی۔تب یہی بات ہوئی تھی کہ اس کو انڈیپنڈنٹ بنایا جائے گا تاہم بعد میں ایسا نہیں ہو سکا ۔
س! پہلے لوگ سٹیج ڈرامہ دیکھنے تھیٹر جاتے تھے لیکن اب رات کو ٹی وی پر ہی جگتیں لگنی شروع ہو جاتی ہیں ۔دیکھنے والوں پر کیا اثر پڑ رہا ہوگا اس کا ۔۔؟
ج! مزاح بھی ایک فن ہے ۔لیکن ہر بات کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے ۔آج کل جو ہو رہا ہے وہ کسی طور مناسب نہیں اور نہ ہماری اقدار کے مطابق ہے ۔یہاں میں سہیل احمد کی تعریف کرنا چاہوں گی کہ وہ بہت اچھی کامیڈی کرتے ہیں اور کبھی غیر اخلاقی بات نہیں کرتے ۔لیکن بعض دوسرے فنکار ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جنہیں فیملی میں بیٹھ کر نہیں سنا جا سکتا تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دیگر نئے ٹرینڈز کی طرح یہ بھی قابل افسوس ہے۔
س! نئی نسل کو گائیڈ کرنے کے لیے کس قسم کی پروڈکشن ہونی چاہیے ۔۔؟
ج! سب سے پہلے ہمیں پوچھنا پڑے گا کہ نئی نسل چاہتی کیا ہے ۔آج کے بچے وہ نہیں رہے جیسے ہم تھے ۔ان پر کوئی بات یا سوچ تھوپی نہیں جا سکتی ،ہمیں ان کو موجودہ حالات کے مطابق تربیت دینی ہوگی ،ورجہ ہم خود کہیں پیچھے رہہ جائیں گے ۔لیکن ہم ابھی بھی فرسودہ خیالات میں الجھے ہوئے ہیں۔جو معاشرے میں ہو رہا اس کی بات کرنی چاہیے ۔میں کہتی ہوں کہ ایک نئی نسل آ گئی ہے اور اس کو اس کے مطابق ڈیل کریں ۔آپ پرانی اور آج کی فلموں میں فرق دیکھ لیں ،گنڈاسے کا دور ختم ہو چکا ۔اسی طرح جو باتیں ہمارے دور میں لازم تھیں آج نہیں ہے ۔اب جو کمی ہے وہ ٹیچرز کی ہے ۔ہمارے ہاں راستہ دکھانے والوں کی کمی ہے ۔سوچ کا تعین کروانے والے کم ہیں ۔
س! آپ نے پی ٹی وی میں چالیس سال تک خدمات سرنجام دیں کیسا دور رہا۔۔؟ یادگارلمحات یا واقعات سے ہمارے قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
ج! وہ یادگار دور تھا لیکن اتنا آسان نہیں تھا ۔آج کل تو بہت سہولیات ہو گئیں ہیں کوئی بھی کام جھٹ پٹ ہو جاتا ہے ۔اُس وقت ہم ساری ساری رات کام کرتے تھے ۔تب دور بھی بہت اچھا تھا مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ میں اکیلی خاتون مردوں میں کام کر رہی ہوں ۔میں تو گھر سے نکل کر اپنے گھر آ جاتی تھی اور فیملی سے بھی مکمل سپورٹ تھی ۔ بہت سی انقلاب دیکھے اور حکومتیں بھی بدلتی دیکھیں ۔تاہم ہم نے اپنا کام جاری رکھا ۔مجھے یاد ہے ضیا ءدور میں ہمارے آزادی ختم ہوئی اور الفاظ کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی گئی ۔یہاں میں ایک واقعہ بھی شئیر کرنا چاہتی ہوں جب بارہ اکتوبر انیس ننانوے کومسلم لیگ ن کی حکومت الٹائی گئی تب بھی بہت کڑا وقت تھا ۔ تب کچھ فوجی آئے اور انہوں پوچھا ہیڈ کون ہے ۔۔؟ میں نے جواب دیا کہ میں ہوں ۔لیکن ان کو یقین نہیں آیا اس لیے انہوں نے دوبارہ پوچھا ،وہی جواب سن کر انہوں نے کہا کہ وہ ٹراسمیشن جہاں ہو رہی وہاں جانا چاہتے ہیں ۔ہم اوپر گئے تو انہوں کہا کہ اس کو بند کردیں ۔جس پر میں نے کہا مجھے ہیڈکوارٹرز سے آرڈز چاہییں اس کے بغیر میں بند نہیں کرونگی ۔کچھ دیر میں ہیڈ کوراٹر سے بھی کال آ گئی ۔اس وقت پی ٹی وی کے گیٹ بھی بند کردیے گئے ۔وہاں جو بچے کو کام سیکھنے آتے تھے ان کے والدین بھی گیٹ پر موجود تھے لیکن کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی ،بہت پریشان کن صورتحال تھی اس رات ۔
س! ہر بار جمہوریت کیوں ختم ہو جاتی ہے ،جمہوری سسٹم میں کیا خامیاں ہیں ۔۔؟
ج! جمہوریت کا کوئی بھی ایک ماڈل نہیں ہوتا ۔یہ ہر ملک میں مختلف ہے ۔آپ اپنے حالات ،واقعات اور روایات کے مطابق ایک نظام
تشکیل دیتے ہیں ۔جس کو چلتے رہنا چاہیے کیونکہ جمہوریت چلے گی تو ملک ترقی کرئے گا
س! آپ نے خواتین کے لیے بھی کافی کام کیا ۔ خواتین کس حد تک آگے بڑھ رہی ہیں پاکستان میں ۔۔؟
ج! اگر تو میڈیا پر انحصار کیا جائے تو وہ تو یہی بتائے گا کہ کسی کی گردن کٹ گئی یا کوئی قتل ہوگئی لیکن اصل صورتحال اس سے مختلف ہے ۔پاکستان میں خواتین کی حالت دن بدن بہتر ہو رہی ہے ،بے تحاشا خواتین اپنااور گھر والوں کا پیٹ پال رہی ہیں ۔ہر شعبے میں آپ دیکھ لیں آپ کو خواتین دکھائی دیں گے جو خوش آئند بات ہے ۔میں تو خواتین کو دیکھ کر حیران ہوتی ہوں کہ وہ کتنی محنت کرتی ہیں ۔ہاںبہتری کی گنجائش ہے لیکن جب مائنڈ سیٹ تبدیل ہو جائے گا تو جو کچھ مشکلات باقی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی ۔
س! آپ فیض احمد فیض کے صاحبزادی ہیں کبھی شاعری کا شوق پیدا ہوا ۔؟
ج! شاعر ایک ہی ہوتا ہے خاندان میں اور ہمارے خاندان کا بڑا نام فیض احمد فیض تھے ۔ضروری نہیں کہ میں شاعری بھی شروع کردوں ۔اس لیے میں شاعری نہیں کرتی البتہ ہم نے ایک فیض گھر بنایا ہے جہاں فیض احمد فیض کے خیالات کی ترویج کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی آکر ہمارے ساتھ کام کرنا چاہے یا کتابیں آئیں ہمارے پاس ،تو ہم اس کو پہلے پرکھتے ہیں کہ یہ فیض کی سوچ اور افکار کے مطابق ہیں کہ نہیں ۔فیض گھر میں آرٹ سے متعلق کلاسز بھی ہو رہی ہے ۔
س! فیض احمد فیض سے کیا یادیں وابستہ ہیں ۔؟
ج! فیض احمد فیض کی کئی باتیں یاد آتی ہیں ۔ایک بار دور آمریت میں مجھ پر الزام تراشی کی گئی تو میں بابا کو کہا کہ یہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔ جس پر ان کا جواب جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے کہ ایسی باتوں پر توجہ نہ دیا کرو بلکہ” مائنڈ سوئچ ©”کرلیا کرو ۔کسی بھی بات سے اپنا حوصلہ کم نہ ہونے دو ۔آپ یقین کریں اس کے بعد میں نے یہی کیا جب بھی کسی نے الزام تراشی یا کوئی ایسی بات جو مجھے پسند نہیں میں نے دماغ کو مکمل طور پر وہاں سے سوئچ کرلیا ۔ فیض احمد فیض بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔بعض لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شاعری سوچ رہے ہیں لیکن اصل میں وہ وہاں ہونے والی فضولیات نہیں سننا چاہتے ہیں ۔میرے پاس فیض احمد فیض کے بہت سے خطوط ہیں جو انہوں نے مجھے لکھے تھے ۔میرا ارادہ ہے کہ ان کو کتابی شکل میں شائع کروں تاکہ لوگ جان سکیں کے فیض احمد فیض کس طرح کے باپ تھے ۔

یہ بھی دیکھیں

بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا؟

لاہور(ویب ڈیسک)ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *