ہوم > کالم > ترکی کی رابعہ۔۔۔۔محمدحسان

ترکی کی رابعہ۔۔۔۔محمدحسان

میرے سامنے مختلف تصویریں بکھری پڑی تھیں ، ہر تصویر ایک پوری داستان بیان کر رہی تھی ، سوچ رہا تھا کہ کس تصویر کو تحریر کو موضوع بناوں ۔

ایک نوجوان جو ٹینک کے آگے لیٹ گیا ، یہ تصویر دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی ، اس نوجوان نے واقعتاً حیرت انگیز جرات مندانہ کام کیا تھا ، اس جیسے سینکڑوں نوجوان تھے جو اس رات ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ، گولیوں سے چھلنی ہوئے مگر نہتے جسموں کے ساتھ ٹینکوں پر چڑھ دوڑے اور غالب رہے ۔

ایک اور تصویر اُس کم عمر بچے کی تھی جس کا لڑکپن ابھی کھیل کود سے عبارت تھا ، مگر وہ اُس رات کا شہید کہلایا ۔

جذبوں کا ایک سیلاب تھا جو گزشتہ برس پندرہ جولائی کی رات کو ترکی کی سڑکوں پر اُمڈ آیا تھا ،
اُس رات کا ایک ایک منظر طویل سیاسی جدوجہد سے حاصل ہونے والے عوامی شعور کی پختگی کا منہ بولتا ثبوت تھا ،

رات بھر نہتے جسموں اور سنگینوں کے درمیان جاری رہنے والی جنگ میں قربانی اور ایثار کے جذبوں کو کامیابی ملی تو صبح صادق کی روشنی میں تشکر اور فتح کے احساس سے چمکتے چہروں کی تصاویر بھی دیدہ زیب تھیں ۔

اب ایک سال گذر جانے کے بعد ترک قوم اُس رات میں قربانی دے کر اَمر ہوجانے والے شہدا کی یاد میں جمع ہو رہےہیں ، تقریبات منا رہے ہیں ، جشن بھی برپا ہے اور شہدا کا فخر بھی ۔ سب کےچہرے خوشی سے کھلے ہیں ، سبھی تصویریں بھلی لگ رہی ہیں ۔۔

ایسے میں ایک انتہائی خوبصورت معصوم بچی کی تصویر بھی نظر آئی ، ہنستی مسکراتی یہ تصویر اگلی نسل کے تابناک مستقل کی نوید سنا رہی تھی ۔ میں بھی بے اختیار مسکرا رہا تھا کہ اچانک میری نظر اِس بچی کے ہاتھ پر رکی اور نظریں گویا اس کی چار انگلیوں پر جم سی گئی ۔۔۔ یہ رابعہ کا نشان تھا ، جسے دیکھتے ہی نجانے کیوں دل میں اُداسی کی لہر دوڑ گئی ۔۔۔!

آہ رابعہ ۔۔۔! رابعہ مصر کے اخوان کی داستان اَلم ہے ۔
آمریت کے خلاف مصر کی اسلامی تحریک کی لازوال جدوجہد کے دوران اُبھرنے والا چار انگلیوں پر مشتمل رابعہ کا نشان، اسلامی تحریکوں میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے اظہار کی علامت بن گیا۔ ترک صدر طیب اردوان نے بھی مصر کے اخوان سے یکجہتی کرتے ہوئے ،رابعہ کا نشان بنایا تھا ۔۔ ۔ مصر میں رابعہ کا نشان بنانے والوں کی تو پوری بستی ٹینکوں کے گولوں، آگ اور بارود کی بارش میں اُڑا دی گئی ۔۔

آج مصری رابعہ جیلوں میں اذیتوں کا شکار ہے اور ترکی کی رابعہ فتح مندی کے جذبے سے سرشار ہے ۔ تصویر میں بچی تو مسکرا رہی ہے مگر اس کی چار انگلیوں کا نشان مجھے مصری رابعہ کی یاد دلا کر مغموم کئے دے رہا ہے ۔

سوچتا ہوں کبھی تو مصری رابعہ بھی زندانوں سے نکل کر ترکی کی اس معصوم رابعہ کی طرح مسکرائے گی اور چار انگلیوں کا نشان اس کی فتح کی نوید سنا رہا ہوگا ۔

فی الحال ۔۔۔ ترکی کی رابعہ ۔۔تمھیں سلطنت عثمانیہ کی جانب فتح و کامرانی کا سفر مبارک ہو ۔۔۔!

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *