ہوم > کالم > سیاسی عصبیّت اور ابن خلدون – ارشاد احمد عارف

سیاسی عصبیّت اور ابن خلدون – ارشاد احمد عارف

میاں نوازشریف نے اپنے خاندان کو احتساب کے لیے خود پیش کیا، بینچ کی تشکیل اور جے آئی ٹی کے قیام پر کوئی اعتراض ہوا نہ دانیال عزیز، عابد شیر علی اور طلال چودھری کے بقول ”متنازعہ“ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے کسی نے انکار کیا۔ جے آئی ٹی نے بلایا تو کسی کو توقع نہیں تھی کہ وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب اور محترمہ مریم نواز سے لے کر اسحق ڈار تک ع
کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے

رپورٹ خلاف توقع اور خلاف مزاج آئی تو اعتراضات وارد ہوئے اور معاملہ اب عدالت میں ہے جو دوچار روز میں نمٹا دے گی۔ جب سے میاں صاحب پر نااہلی کی تلوار لٹکی اور ایوان اقتدار سے بےدخلی کا امکان روشن ہوا، ہمارے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ اگر شریف خاندان اقتدار میں نہ رہا تو پاکستان اور جمہوریت کا انجام کیا ہوگا؟ اس ضمن میں قوم کو دور از کار تاویلات اور صدیوں پرانے تصورات سے مرعوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علامہ ابن خلدون نے چودھویں صدی عیسوی میں خاندانوں، قبائل اور قوموں کی عصبیت کو حصول اقتدار اور کاروبار حکمرانی میں کامرانی اور دوسروں پر غلبہ کی شرط قرار دیا جو قبائلی معاشرے میں واقعتاً کارآمد ہتھیار تھا مگر ہمارے بعض دانشور آج بھی عصبیت کی ڈفلی بجا کر اسے جمہوری ریاست میں ایک ایسے خاندان کی کامیابی و استحکام کے مظہر کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو حسب و نسب کے اعتبار سے برتر ہے نہ اس عصبیت کا حامل جسے ابن خلدون غلبہ و شوکت کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں چودھویں صدی کے فلسفے کی کارفرمائی کسی پسماندہ قبائلی معاشرے میں تو ممکن ہے مگر ایک ایسی ریاست میں؟ ایں خیال است و محال است و جنوں، جو جمہوریت کی علمبردار ہے، ایک ایسی ریاست جہاں مغربی طرز کی پارلیمانی جمہوریت کو بطور سیاسی نظام فخر سے پیش کیا جاتا ہے اور جس میں بدقسمتی سے مسلم لیگ حکمران جماعت تو ہے لیکن سیاسی عصبیت کے عنصر سے قطعی عاری اور بھان متی کا کنبہ ہے جو صرف اقتدار کے دنوں میں شریف خاندان، چودھری خاندان، ایوب خان اور کسی دوسرے سول و فوجی حکمران کی کی منڈیر پر بیٹھتا اور اقتدار سے محرومی کے بعد اُڑنچھو ہوجاتا ہے“۔ عصبیت کا یہ فلسفہ جمہوری ممالک میں دم توڑ چکا جہاں سیاسی جماعتیں کسی عصبیت کی بنا پر نہیں بلکہ منشور اور اصولوں کی بنا پر تشکیل پاتیں اور حکومتیں طاقت، غلبے اور شان و شوکت کے بجائے ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہوتی ہیں، جمہوری نظام میں زبان، نسل، علاقے اور مسلک کی عصبیت کا تذکرہ تک ممنوع ہوتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہمارے پیش نظر ہو نہ ہو، ترقی یافتہ اقوام مدنظر رکھتی ہیں کہ ”جس نے کسی قسم کی عصبیت پر لوگوں کو ابھارا، جمع کیا وہ ہم میں سے نہیں“۔ عصبیت خواہ سیاسی ہو، مسلکی، نسلی یا لسانی، انسان کو شخصیت پرستی پر مائل کرتی ہے اور مفاد پرستی اس کا لازمی جزو ہے جبکہ اصول، نظریے اور اقدار کی بنا پر کسی جماعت یا گروہ سے وابستگی آپ میں کھوٹے کھرے کی تمیز، رواداری، بردباری کے اوصاف پیدا کرتی ہے۔ خذما صفاو دع ما کدر حیرت یہ ہے کہ عصبیت کا پرچار کرنے والوں نے قوم کو کبھی ابن خلدون کے دیگر افکار و نظریات سے کبھی آگاہ نہیں کیا، جو آج بھی کارآمد اور چشم کشا ہیں۔

ہمارے بعض دانشور آج بھی عصبیت کی ڈفلی بجا کر اسے جمہوری ریاست میں ایک ایسے خاندان کی کامیابی و استحکام کے مظہر کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو حسب و نسب کے اعتبار سے برتر ہے نہ اس عصبیت کا حامل جسے ابن خلدون غلبہ و شوکت کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

ابن خلدون لکھتے ہیں۔ ”جب اہل سلطنت عیش پسندی میں آگے بڑھتے ہیں اور ان کے اخراجات اور مصارف لشکر زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں تو محاصل ملکی کو اور بڑھانا پڑتا ہے حتیٰ کہ سلطنت اپنی زندگی کے آخری سانس لینے لگتی ہے۔ سلطنت میں طاقت نہیں رہتی کہ وہ ٹیکس وصول کر سکے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملکی آمدن اپنی مقدار میں بہت گر جاتی ہے۔ ادھر تمدنی ضرورتیں بڑھتی رہتی ہیں اور فوجی مصارف بھی ساتھ ساتھ زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور لامحالہ صاحب اقتدار کو الجھن کا یہی حل نظر آتا ہے کہ اموال تجارت پر طرح طرح کے ٹیکس لگائے جائیں اور بازاروں میں مال فروختنی پر اور شہر میں اشیائے تجارت پر جو آمدنی حاصل ہو، اس میں سے حکومت کا ٹیکس وصول کیا جائے مگر ان غلط کاریوں سے بھی بادشاہ کی بھوک نہیں بجھتی وہ ہر طرح کی وصولی کے لیے پریشان رہتا ہے. سلطنت کے دور انحطاط میں ٹیکسوں کی زیادتی اس قدر ہو جاتی ہے کہ کاروبار میں لوگوں کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور ملک کے بازارو منڈیاں ماند پڑ جاتی ہیں“۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *