Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > آنسو بھی برائے فروخت – صاحبزادہ محمد امانت رسول

آنسو بھی برائے فروخت – صاحبزادہ محمد امانت رسول

میں اِسے مقابلے کی فضا کہوں یا ہیجانی کیفیت کا ماحول؟ مجھے رمضان المبارک میں مختلف چینلز پر آن ائیر پروگرام دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو پایا۔ مذہب کا میدان ہو یا سیاست کا، صحافت کا میدان ہو یا تجارت کااِ ن تمام میدانوں میں واقعی ہم تعمیری مقابلے کی فضا پیدا کر رہے ہیں یا صرف ہیجانی کیفیت پیدا کر کے اپنے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں؟ ہمارا معاشرہ جو زوال پذیری اور ترقی پذیری کی سرحد پر کھڑا ہے اس کی بد قسمتی یہی ہے کہ وہ ابہام و اشکال کے جنگل میں بھٹکتے آہو کی طرح ہے جسے دور سے ٹمٹماتا چراغ اپنی منزل اور اس کے بجھنے کے اندیشے درندوں کی غذا بنا دیتا ہے۔ میں گزشتہ دو سال سے ٹی وی دیکھنا چھوڑ چکا ہوں لیکن ماہ رمضان المبارک میں مختلف چینلز پر مذہبی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مذہبی پروگرام دیکھ کر مجھے پاکستانی مساجد کا ماحول یاد آگیا کہ جہاں اسی طرح کی کیفیت پیدا کی جاتی یا پیدا ہو جاتی ہے۔

ایک فرقے کی مسجد میں بہت بڑے خطیب، مناظر اور مخالف فرقے پر پی ایچ ڈی عالِم کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ مخصوص فرقے کا آپریشن کرے، وہ صاحب تشریف لاتے ہیں مخالف فرقے کے متعلق الزامی اور التزامی گفتگو کرکے چلے جاتے ہیں۔ علاقے میں دونوں فرقوں کے درمیان کھنچاؤ اور تناؤ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد، دوسرا فرقہ ایسے ہی کسی عالم کو دعوت دیتا ہے اور اس کے بھاری اخراجات برداشت کرتا ہے۔ آنے والے مہمان مقرر کو گزشتہ مقرر کے اعترضات اور بیانات بلکہ کیسٹ ہی سُنا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد، حضرت صاحب گفتگو فرماتے ہیں کہ بس رہے نام اللہ کا!یہ سلسلہ ہے کہ کبھی تھمتا نہیں۔ آخر کار،وقت آتا ہے کہ اُس علاقے میں مخصوص تہواروں اور جلسوں پر پولیس بلوائی جاتی اور گلیاں بلاک کر دی جاتی ہیں کیونکہ وہاں دہشت گردی اور تخریب کاری کا اندیشہ پیداہوجاتا ہے۔فقط مخالف فرقوں کے درمیان ہی یہ کیفیت نہیں ہوتی بلکہ ایک ہی مسلک کی دو مساجد کے خطباء اس طرح اذیت کا شکار رہتے ہیں کہ انہیں اُن کے نمازی یہی طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ اُس مسجد کا خطیب لَے اور سُر میں تقریر کرتا ہے جبکہ آپ کی آواز ہی اچھی نہیں۔ اُس مسجد کے نمازی بڑھ گئے ہیں، اُن کا چندہ بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، وہ خطیب یا تو مسجد چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے یا پھر اُس خطیب کے مقابلے میں سُر اور لَے لگانا شروع کر دیتا ہے خواہ وہ جتنا بھی عالم اور تعلیم یافتہ ہو۔

چینلز پر آنے والے مختلف پروگراموں کے کامیابی کا معیار Ratingہے۔ اس ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے سب “پاپڑ” بیلے جاتے ہیں ایک سیاسی ٹاک شو کی ریٹنگ بڑھانے کا بہترین طریقہ معزز مہمانوں کی میزبان کے ہاتھوں بے عزتی ہے۔ بے عزتی کا ایک طریقہ مہمان پر Shouting ہے، مختلف چینلز کے پروگراموں میں میزبان اونچا بول کر اپنی ریٹنگ اونچی کرتا ہے، ریٹنگ بڑھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بہت ہی Cheap قسم کا مزاح پروگرام میں شامل کیا جائے۔ بلکہ اب ایسے ڈرامے بھی دکھائے جا رہے ہیں جنہیں انسان بڑے بچوں کے ساتھ کیا چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ وہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ایسے ڈراموں کی ریٹنگ انہی ذو معنی جملوں کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔

مجھ سے ایک قومی چینل نے لائیو پروگرام کے لیے رابطہ کیا، جب اُن سے اس پروگرام کے Contentsپر بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ لائیو پروگرام ایسا ہوگا جس میں خواتین فون کر کے پوچھیں،کہ میرا بچہ بہت روتا ہے تو اُسے چُپ کرانے کے لیے وظیفہ بتا دیں یا میرا خاوند بہت غصے والا ہے، اُس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کوئی منتر بتا دیں۔ میں نے اُن سے پوچھا ایسا پروگرام تشکیل دینے کی وجہ کیا ہے؟ اُن کا کہنا تھا ایسے پروگراموں کی ریٹنگ آتی ہے۔ اُن کے بقول انڈین ڈراموں کی ریٹنگ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے پروگراموں کو گھر کی عورتیں، ملازمائیں اور نوجوان بچیاں زیادہ دیکھتی ہیں۔

یہی معاملہ اس ماہِ رمضان المبارک کے پروگراموں میں دیکھنے کو ملا بلکہ ایک میزبان نے لائیو شو میں یہاں تک کہہ دیا کہ دوسرے چینل پر میری نقل کی جاتی ہے۔ صورتِ حال یہ تھی کہ اگر ایک چینل پر واہ واہ زیادہ تھی تو دوسرے دن ویسی ہی واہ واہ ہو رہی تھی۔ ایک نعت ایک چینل پر چلی تو وہی نعت دوسرے نعت خواں کی آواز میں دوسرے چینل پر چلائی گئی۔

نوبت یاایں جا رسید کہ آنسو بھی For Saleہو گئے۔ وہ آہ و بکا، گریہ زاری جو بندے اور اُس کے خدا کے درمیان سرگوشی تھی وہ بھی ” چینل عام” کر دی گئی۔ حاضرین کا کثیر طبقہ صرف ٹی وی پر نظر آنے کے لیے ایسے پروگراموں میں شرکت کے لیے آتا اور یہ مجمع بے ہنگم ٹریفک کی طرح ہوتا ہے جسے چُپ کرانا ہی سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے․․․․․․․قارئین! میرے خیال کے مطابق، ہیجانی کیفیت اور تعمیری مقابلے میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ تعمیری مقابلہ راہنمائی اور کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ ہیجانی کیفیت مخصوص اور محدود مفادات کی خاطر پیدا کی جاتی ہے۔ یہ کیفیت عوام کی راہنمائی کے لیے نہیں بلکہ عوام کی راہنمائی میں چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ جب راہنما وراہبر اپنی مقبولیت کو معیارِ ترقی بنا لیں تو پھر ہیجانی کیفیت کا ماحول بن جاتا ہے۔اس ماحول میں خیر و بھلائی کے کام میں آگے بڑھنا اور رب کی رضا کا حصول مقصد نہیں رہتا، پھر وہ چھوٹی چھوٹی خواہشات مقصدبن کر رہ جاتی ہیں، یہ خواہشات کسی شخص اور گروہ کے لیے بہت بڑی اور اُن کا حصول، زندگی اور موت کا مسئلہ ہو سکتا ہے لیکن کسی قوم اور معاشرے کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوتیں۔ آج یہی کیفیت اور صورتِ حال پاکستانی معاشرے کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *