Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > احتساب کا چورن – شکیل نواز

احتساب کا چورن – شکیل نواز

کسی شخص کو حکومت دی جاتی ہے تو اس پر رعایا کو جوابدہی کی صورت میں ایک بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم آخرت میں اللہ تعالٰی کے حضور میں بھی جواب دہ ہیں۔ حضرت عمرؓ کا ایک مشہور قول ہے کہ اگر نیل کنارے کوئی کتا بھی مر جائے تو روز آخرت مجھے اس کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔

مملکت خداد میں کئی دہائیوں سے یہ بے کس و لاچار عوام احتساب کا خواب دیکھ رہی ہے۔ مگر اس بے چاری عوام کو ہر بار کوئی نیا سیاستدان احتساب کا سنہرا خواب دکھا کر اس کے ساتھ کھیل جاتا ہے، اور یہ بھولے بھالے لوگ ہر بار بے وقوف بن جاتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ معصوم عوام کو ایک ہی سیاستدان یا سیاسی پارٹی کئی کئی مرتبہ احتساب کا نعرہ لگا کر بے وقوف بنا چکے ہیں، اور ہم ہر بار ان شاطر لوگوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ شاطر لوگ جوں ہی ایوان اقتدار میں داخل ہونے لگتے ہیں تو اپنے تمام تر وعدے بمع وعدہ احتساب باہر پھینک دیتے ہیں، اور پھر یہ احتساب کا نعرہ لگانے والے لوگ عجب کرپشن کی غضب کہانیاں رقم کرتے ہیں۔ اب وہ سیاسی پارٹی جو تازہ تازہ حکومت اور قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر چکی ہوتی ہے اپنا پھینکا ہوا نعرہ احتساب اٹھا کر میدان میں آ جاتی ہے۔ ہم بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو آپ کو حالات اس سے مختلف نظر نہیں آئیں گے۔ ہر شخص احتساب نامی چورن بیچ رہا ہے، لیکن گورنمنٹ میں آنے کے بعد کسی کو احتساب کرنے کی صورت میں اپنی حکومت خطرے میں نظر آتی ہے تو کوئی اپنے اتحادی کی ناراضگی سے ڈر کر احتساب سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے نعروں کو جوش خطابت کا نام دے کر احتساب سے مکر جاتے اور کچھ لوگوں کو احتساب کی صورت میں اپنی سیاسی زندگی خطرے میں نظر آتی ہے۔

پچھلے کچھ سالوں سے احتساب کی ایک منظم گونج سنائی دے رہی ہے کرپشن کے خلاف ایک واضح، منظم سوچ رکھنے اور مہم چلانے والا سیاست میں نو مولود ہے۔ گو کہ اس کا تجربہ ناکافی اور حکمت عملی کمزور ہے مگر اس نے کرپشن کے بے تاج بادشاہوں کو چند ہی سالوں میں ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور ان کی چیخوں کی گونج سے ہی ان کی تکلیف اور نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس نومولود کی قیادت اور ایمانداری بے شک قابل رشک ہے مگر جب ہم اس کے اردگرد کے ساتھیوں پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ان میں سے jkTd کے چہرے کرپشن کے کیچڑ سے لتھڑے ہوئے نظر آتے ہیں یہ چڑھتے سورج کے پجاری کئی کئی سیاسی پارٹیاں تبدیل کر کے اس نئی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب ان کرپشن زدہ لوگوں کا کرپشن کے خلاف بات کرناسمجھ سے بالاتر ہے۔ اور ان لوگوں کو ‘الیکٹبلز’ کا نام دے کر اس پارٹی میں شامل کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ جو لوگ خود ناک تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہیں وہ کیسے دوسروں کا احتساب کریں گے؟

محترم عمران خان صاحب! پہلے اپنی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں، اس کے بعد ہم عوام سے ووٹ کی توقع کریں پھر ہم آپ کو ووٹ دینے کے علاوہ آپ کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے۔ احتساب عوامی امنگوں کے مطابق مسلسل اور بے رحم ہونا چایہے، کسی ایک فرد واحد کو نکالنے کے عمل کا نام احتساب نہیں ہونا چایہے۔

خان صاحب! پانامہ لیکس میں چار سو سے زائد لوگوں کا نام آنے کے باوجود آپ کی زبان پر صرف حکمران خاندان کا نام ہی کیوں ہے؟ آپ نے آج تک باقی لوگوں کا نام کیوں نہیں لیا؟ میں مانتا ہوں کہ احتساب کا آغاز کسی ایک خاندان یا فرد سے ہی ہونا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ صرف اپنے مخالف سیاسی خاندان کا احتساب کروانے کے بعد باقی لوگوں کو کلین چٹ دے دیں یا پھر اقتدار ملنے کے بعد آپ روایتی سیاستدانوں کی طرح نعرہ احتساب کو ایک طرف رکھ دیں۔ احتساب لگاتار ہو بے شک اس کی زد میں آپ کا کوئی ساتھی آئے یا آپ خودآئیں، ملک پاکستان کی ترقی کا راز اسی میں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *