Tuesday , October 23 2018
ہوم > پاکستان > عمران کاغصہ افسران پر۔۔۔۔محمدمناظرعلی

عمران کاغصہ افسران پر۔۔۔۔محمدمناظرعلی

آج سے کچھ سال پہلے تک شاید عام آدمی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ دنیا اس کی مٹھی میں ہو گی،تھوڑی زیادہ اردو، انگلش جاننے والا شخص آج اپنی ہتھیلی پر پیرس کی سیر کر لیتا ہے، سنگل کلک پر کوئی بھی چینل موبائل فون میں ہی چلناممکن ہوا ، یہ ایسے لوگوں کے لیے تو بطور خاص ایک کرشمہ ہے جو چند سال پہلے تک بغیر تار کے ٹیلی فون کے وجود کو نا ممکن کہتے تھے، ویسے ترقی کی رفتار جیسی بھی ہے لیکن اس ضمن میں ترقی کا پہیہ اتنا تیز بھاگا کہ آج جہاں ڈاکیا خط لے کر نہیں جاتا تھا انہیں جگہوں پر تھری جی چل رہا ہے اور بیرون ملک ویڈیو کالز ہو رہی ہیں۔ دیہات میں کچھ برس پہلے تک کسان لوگ آپس میں تھوڑے فاصلے سے رابطے کے لیے “کوک”مارتے تھے(کوک ایک خاص انداز میں آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں جو دور تک سنائی دیتی ہے) وہاں بھی انڈرائیڈ موبائل چل رہے ہیں اور فیس بک پر لمحہ بہ لمحہ سٹیٹس اپ ڈیٹ ہو رہے ہیں۔۔اس ساری صورتحال میں اگر غور کریں تو ایک چیز بڑی تیزی سے ہوئی ہے اور وہ ہے اپنی سوچ کا اظہار۔۔۔

ویسے تو کوئی انسان خود سے طاقتور شخص کے خلاف ایک لفظ نہیں بول سکتا لیکن سوشل میڈیا نے لوگوں کو غصہ نکالنے کا ایک آزاد ماحول فراہم کردیا ہے حالانکہ غصے کو کنٹرول کرنا چاہیے مگر کون کرے؟؟۔۔۔گلی محلے سے لے کر امریکہ تک لوگ اپنے نا پسندیدہ لوگوں کو دن رات لعن طعن کر رہے ہوتے ہیں اس لئے کہ انہیں یہ یقین ہے کہ انہیں کسی نے کیا کہنا ہے ایسے لوگوں کو فیس بک کا تو پتہ ہے مگر ابھی یہ لوگ سائبر کرائم ایکٹ سے ناواقف ہیں اور امید ہے رفتہ رفتہ ہو جائیں گے کیونکہ اب عدالتوں میں ایسے مقدمات پر فیصلے شروع ہو چکے ہیں جو کسی کو سوشل میڈیا پر تنگ کرتے ہیں۔۔۔

سیاسی جماعتوں کے لیے بھی کافی آسانی ہوئی ہے جو کمپین وہ کروڑوں روپے سے چلاتے تھے اب وہ انتہائی کم پیسوں میں سوشل میڈیا پر چلنا ممکن ہوئی ہے تحریک انصاف کے لوگ اس حوالے سے سب سے پہلے اور زیادہ متحرک شمار کیے جاتے ہیں، ان کے دیکھا دیکھی باقی جماعتوں نے بھی اب اپنے سوشل میڈیا سیل بنا لیےہیں  جو دن رات اپنا پیغام عام کرتے ہیں اور پارٹی کیخلاف ہونے والی باتوں کا جواب اور کہیں گالم گلوچ کرتے رہتے ہیں ۔۔مذہبی جماعتیں بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس دوڑ میں شامل ہیں انہوں نے بھی اس کی اشد ضرورت محسوس کی ہے ،جو بزرگ  کچھ عرصہ قبل تک تصویر بنوانا حرام سمجھتے تھے اب انہیں کے ویڈیو پیغام عام نظر آتے ہیں،خیر انہیں بھی حق حاصل ہے کیونکہ اس میدان میں اظہار کی آزادی ہے، کمنٹس جو بھی آئیں وہ الگ جنگ ہے۔۔۔

نوکیا 3310سے شروع ہونے والے اس سفر میں آج لوگ بہت آگے نکل چکے ہیں جہاں اب انہیں پابندی قبول نہیں ،وہ بولنا چاہتے ہیں اور” رَج” کے بولتے ہیں لیکن پاکستان کے سرکاری افسران شاید اب سوچ سمجھ کر ہی بولیں کیونکہ افسران کو ایک زبانی حکم جاری ہوا ہے کہ وہ اپنی زبان کو لگام دیں، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد بہت سے سرکاری افسران حکومت مخالف سٹیٹس دے رہے ہیں اور کچھ لوگ دھڑادھڑفیس بک پرآنے والی پوسٹوں پر کمنٹس کررہے ہیں جو حکومت کے لیے تشویش پیدا کر رہے ہیں کہ تنخواہ حکومت دے  اور افسران پھر بھی ان کیخلاف باتیں کریں،یعنی حکومت کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ”یہ منہ اورمسورکی دال”۔۔۔۔ یہ معاملہ چاہے آزادی اظہار کا ہو مگر حکومت کو یہ ہضم نہیں ہوا ابھی تک تو سرکاری افسران کو زبانی منع کیا گیا ہے لیکن بہت جلد اس پر اگلا اقدام بھی سامنے آنے والا ہے کیونکہ کچھ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے تمام افسران کی فہرستیں مرتب ہونا شروع ہو گئی ہیں جو حکومت کے  خلاف سوشل ویب سائٹس پر لکھتے ہیں۔۔۔یہ معاملہ قابل غور ہے کہ فہرستیں کیوں تیار ہو رہی ہیں، آخر کچھ نہ کچھ تو ہو گا ایسے افسران کے خلاف، وہ دور دراز علاقوں میں تبادلہ ہو سکتا ہے، حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے پر کوئی اور جواز بناتے ہوئے تنزلی بھی ہو سکتی ہے یا کچھ بھی،، جو متعلقہ اتھارٹی کو حکم ملے گا وہ کر دیا جائے گا۔۔۔

مگر یہاں حکومت کو ایک مشورہ ہے کہ اس طرح کسی کی سوچ دبائی نہیں جا سکتی ہے اس سے وہ باز ہی رہیں تو ان کے لئے بہتر ہو گا کیونکہ اگر کسی افسر کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تو اس کے دو چار ہزار فیس بک فرینڈز نے ایک ایک سٹیٹس دے دیا توپھر آپ ضرب لگاتے جائیں بات کہاں تک پہنچ جائے گی۔۔۔لہذا پہلے پانامہ کی مصیبت سے نکلیں پھر آزادی اظہار پر پابندی لگائیں ورنہ اب تقریبا ہر ووٹر فیس بک پر ہے اور ووٹر کا ذہن بدلتے  ہوئے کچھ وقت نہیں لگتا،ایک ہی قوم کے پاس سستی تفریح رہ گئی ہے اور اس پر بھی پابندیاں مت لگائیں۔۔سرکاری افسران بھی قوم کا حصہ ہیں،ڈرا دھمکا کر ان کی آواز بند مت کریں اور ویسے بھی عمران خان کا غصہ اپنے افسران پر نکالنا کہاں کا انصاف ہے۔۔”ڈگاکھوتے توں،غصہ کمہار تے”۔۔۔۔۔

 پانامہ کے جال میں پھنسانے میں خان کا ہاتھ ہے افسران کا نہیں اور ہاں آپ کے مشیروں نے یہاں تک لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،پابندی لگانی ہے تو ان پر لگائیں،کیوں کہ انہیں بولتے ہوئے پتہ نہیں چلتاکہ وہ کیاکیابول رہے ہیں،حتی کہ قومی اداروں  کوبھی بخشا نہیں جاتا ۔

یہ بھی دیکھیں

” ہم ایسا کوئی نکاح نامہ تیار نہیں کررہے جس میں عورت۔ ۔ ۔“کنوارے نوجوانوں کیلئے بڑی خبرآگئی ، واضح اعلان ہوگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل نے عورت کو طلاق کا حق دینے سے متعلق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *