Friday , September 21 2018
ہوم > پاکستان > پی ٹی آئی سے پاناما تک- حسن نثار

پی ٹی آئی سے پاناما تک- حسن نثار

ڈپریشن، فرسٹریشن کی ماری اور مایوسیوں میں گھری ن لیگ نے ’’تیاریاں‘‘ شروع کردی ہیں۔ لاہور میں ورکرز کو جوش بلکہ اشتعال دلانے والے فلیکسز کی بھرمار ہے۔ کروڑوں روپیہ خرچ کرکے صوبے بھر سے پرنسپلز اکٹھے کرکے انہیں ٹاسک دیا گیا کہ طلبہ کی برین واشنگ کریں اور انہیں سمجھائیں کہ شاہی خاندان کے خلاف ’’سازش‘‘ ہو رہی ہے جو جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ٹاسک کے ساتھ ساتھ وعدہ کی صورت میں یہ رشوت بھی دی گئی کہ حکومت بچ جانے کی صورت میں ان کی تنخواہیں دوگنی کردی جائیں گی۔ کہیںخواتین ورکرز کو موبلائز کرنے کے لئے ’’اکٹھ‘‘ ہو رہےہیں لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی مکمل طور پر حال مست ہے۔ سیاسی موسم کا اولین تقاضا ہے ایک موثر تنظیم کی موجودگی تاکہ ٹائیگرز کو پوری طرح متحرک کیا جاسکے۔ کام زور و شور بلکہ سائنٹفک انداز میں جاری تھا لیکن تقریباً گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کم و بیش ’’سٹینڈسٹل‘‘ والی سچویشن ہے کیونکہ پارٹی کے اندرونی انتخابات کی وجہ سے تنظیمیں عارضی طور پر تحلیل کردی گئی تھیں جنہیں فوری طور پر بحال اور متحرک کیا جانا چاہئے ورنہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکرز مجھے اپنا ہمدرد سمجھتے ہوئے مجھ سے ملتے رہتے ہیں۔ اکثریت کی زبان پر یہی رونا ہے۔ ممکن ہو تو پارٹی کی قیادت اس اہم مسئلہ پر توجہ دے ورنہ پی ٹی آئی جانے اور اس کے وہ پرجوش ورکرز جنہیں زمینی حقائق کا شاید قیادت سے بھی بہتر اندازہ ہے۔اب چلتے ہیں میکرو لیول یعنی اپنے پسندیدہ ’’پاناما‘‘ کی طرف جو تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ کیس 70سال سے پنڈولم کی طرح دائیں بائیں جھولتی قوم کے لئے باعث ِ قرار و افتخار ہو، نئی منزل کی طرف نئے سفر کا آغاز ہو، کرپشن کو موت اور میرٹ کو زندگی نصیب ہو، جمہوریت سے جمہور دشمن عناصر مع مکروہ موروثیت چھانٹ کر علیحدہ کردیئے جائیں۔ پاکستان میں پاکیزہ جمہوریت کوفروغ نصیب ہو۔قوم کے ساتھ اس سے بڑا کھلواڑ اور مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ سنگین ترین الزامات کی زد میں کمال معصوم ریاکاری سے پوچھتے ہیں….. ’’الزام کیا ہے؟‘‘ اعلیٰ اور اتم ترین منصب سے جواب آتا ہے۔کرپشنکرپٹ پریکٹسجعلی دستاویزاتمنی ٹریل کا غائب ہوناآمدنی سے کہیں زیادہ بے تحاشا خرچے اور اثاثےبے نامی جائیدادیںصدقے جاواں تلور کا شکار کرنے تو ’’ہینڈسم‘‘ بھاگے آتے ہیں، مور کے شکار سے دور بھاگتے ہیں۔ بھلا ہو کیمرے کے موجد کا جس کی وجہ سے ہم جان پائے کہ ’’شہزادے‘‘ بھی ایویں واجبی سے ہی ہوتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک سعودی شہزادہ بھی شاہ کے حکم پر شہزادگیاں کرتا پکڑا گیا ہے تو خود ہی اندازہ لگالیں جمہوری شہزادوں، شہزادیوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟کہتے ہیں’’قوم نہیں مانے گی‘‘ خود کو قوم سمجھنے کے زعم اور خبط اب لاعلاج نہیں رہے۔ حکیموں نے ’’سنکھیا مدبر‘‘ تقریباً تیار کرلیا ہے کہ حکیم لقمان کے بعد دنیا ’’حکیم عمران‘‘کو کامیاب معالج کے طور پر یاد رکھے گی لیکن اس بیان کا بھی جواب نہیں کہ ’’عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں‘‘ واقعی عزت داروں کے لئے عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ Grover Clovelandیہ فضول سی بات کر گیاکہ…..
“Honor Lies In Honest Toil.”Walter Lippmann کی بھی سن لو…..”He Has Honor If He Molds Himself To An Ideal Of Conduct Though It Is Inconvenient, Unprofitable, Or Dangerous To Do So”
لیکن میاں نواز شریف کی زبان سے ’’عزت‘‘ کا سن کر مجھے بے اختیار رالف والڈو ایمرسن کا یہ تاریخی تبصرہ یاد آیا…..”The Louder He talked Of His Honor, The Faster We Counted Our Spoons.”خدا جانے کچھ لوگ کس شے کو عزت سمجھتے ہیں۔ عزت عزیز ہو تو اس کےگرد امانت، دیانت، قناعت کی فصیلیں کھڑی کرنا پڑتی ہیں۔کسی کو خبر ہو تو بتائے کس جاہل مطلق یا فلمی مکالمے لکھنے والے نے اقبالؒ کا شعر میاں صاحب کے منہ میں ٹھونس دیا۔تو جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میںیہ اعترافی بیان ہے حضور! اور بادی النظر کو اللہ ہر قسم کی نظر بد سے سدا محفوظ رکھے میں تو صبح سے اخباری سرخیوں پر سردھننے میں مگن ہوں۔ ’’لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت نہ ہوئی تو ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے‘‘’’بادی النظر میں شریف فیملی کی کئی دستاویزات جعلی ہیں‘‘’’جعلی دستاویزات پر 7سال سزا ہوسکتی ہے‘‘’’منی ٹریل ثابت نہ ہوئی تو نتائج وزیراعظم بھگتیں گے‘‘”Office Holder To Bear Scions, Impact: SC”Trouble For PM If Children Cannot Justify Assets: SC”ابھی ابھی سنا ہے 10واں پینڈورا بوکس بھی کھلنے والا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی حکومت شدت پسندی کے زیر اثر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت میں شدت پسند گروہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *