26

قطر کا معاشی بحران؛ 388 سعودی کمپنیاں بند، 50 ارب ریال نکل گئے

 واشنگٹن / کویت سٹی / ریاض: سعودی عرب اور قطر کے درمیان سفارتی تعلقات خراب ہونے کے بعد دوحہ میں سرمایہ کاری کرنیوالی 388 سعودی کمپنیوں نے کام بند کر کے واپسی کی راہ اختیار کرلی جس کے نتیجے میں قطر کو غیر معمولی معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

سعودی عرب کے اخبار الریاض نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ قطر میں سرمایہ کاری کرنے والے سعودی گروپوں نے وہاں پر کام بند کردیاہے، اس وقت سیکڑوں سعودی کمپنیاں قطر میں کاروبار بند کرچکی ہیں اور متعدد بند کرنے کے مراحل میں ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ ان کمپنیوں کے ساتھ ساتھ قطر میں سعودی کمپنیوں کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کے 50ارب ریال بھی ملک سے نکل گئے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے خلیجی ملکوں کے ساتھ قطر کا تنازع پیدا ہوا ہے قطر کے تیل اور گیس بردار جہاز سمندری راستے استعمال کرتے ہیں، خلیجی بحران کے بعد قطر کو خوراک اور غذائی سامان کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، قطر کو اپنی27 لاکھ آبادی اور ہزاروں غیر ملکی ملازمین کے لیے خوراک ہوائی جہازوں کے ذریعے منگوانا پڑ رہی ہے۔ غیر قطری ملازمین اور کم آمدنی والے افراد کے لیے مہنگی اشیائے صرف کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔

دریں اثنا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پیدا ہونیوالے بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کا آغازکر دیا، وہ اس مناسبت سے پہلے سے ثالثی کے عمل میں شریک عرب ریاست کویت پہنچ گئے ہیں، کویت پہنچ کرانھوں نے ریاستی امیر شیخ صباح الاحمد الصباح سے ملاقات بھی کی، ملاقات میں بحران کے مختلف پہلوئوں کو زیر بحث لایا گیا۔

ادھر امریکاکا کہنا ہے کہ قطرکے ساتھ مل کردہشت گردی کی فنڈنگ کو روکا جائے گا جبکہ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بھی وزارت حج و عمرہ کے اس موقف کی تصدیق کی ہے کہ مملکت کی حکومت برادر قطری شہریوں کو کسی بھی وقت اور کسی بھی فضائی کمپنی (ما سوا قطر ایئرویز) کے ذریعے عمرے اور حج کی ادائیگی کے لیے دیکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں