28

بد عنوان کسٹمز افسران کے خلاف کریک ڈاؤن

 کراچی:  پاکستان کسٹمز میں انسدادرشوت ستانی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ رشید شیخ ودیگراعلیٰ کسٹمز حکام کسٹمز ہاؤس کراچی میں قائم مختلف کلکٹریٹ، ڈائریکٹوریٹس اورسیل میں اچانک چھاپوں اور تلاشیوں کی ابتدا کردی ہے۔

ذرائع نے  بتایا کہ چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ نے حال ہی میں ڈپٹی کلکٹر کسٹمز عمران رسول کے ہمراہ کسٹمزاپریزمنٹ ویسٹ کلکٹریٹ میں چھاپہ مارکر کسٹمز افسران سے 30 لاکھ روپے برآمد کرلیے ہیں۔ چھاپے کے دوران کلکٹریٹ میں موجود اپریزنگ آفیسر سے مبینہ طور پررشوت کے 27لاکھ روپے برآمد کیے گئے اورکلکٹریٹ میں تعینات ایک پرنسپل اپریزرکے قبضے سے 3لاکھ روپے کی رقم برآمد کی گئی۔

ذرائع نے بتایاکہ چیف کلکٹر رشید شیخ نے کسٹمز ہاؤس سمیت تمام کلکٹریٹس، ڈائریکٹوریٹ اور سیل میں کسٹمز کلیئرنس ودیگرقانونی وغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث بیرونی عناصر اسپیڈ منی مافیاز کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

انسداد رشوت ستانی مہم کے تحت حال ہی میں کی جانے والی کارروائی کے دوران برآمد ہونے والی رقم سے متعلق کچھ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں کے اس بیان پر کہ یہ رقم ان کی تھی انہیں واپس کردی گئی ہے، ان کلیئرنگ ایجنٹوں کا موقف تھا کہ یہ رقم انہوں نے چھاپے کے دوران تلاشی کے عمل سے گھبراکر کسٹمزافسران کے پاس رکھوا دی تھی۔

اس ضمن میں چیف کلکٹرکسٹمزاپریزمنٹ رشید شیخ نے ’’ایکسپریس‘‘ کے استفسار پربتایا کہ کسٹمز ہاؤس کے مختلف کلکٹریٹس میں کچھ ایسی بھتہ مافیاز متحرک ہیں۔ جن کی منفی سرگرمیوں سے محکمے کی جگ ہنسائی ہورہی ہے اور یہی بھتہ مافیا عام لوگوں سے رشوت یا اسپیڈ منی کے نام پر بھاری رقوم وصول کرکے لوگوں کے مطلوبہ کام کراتے ہیں لیکن پاکستان کسٹمزنے اب اپنے اعلیٰ افسران کے ساتھ نچلے درجے کے اسٹاف کی بھی جانچ پڑتال سخت کردی ہے تاکہ کسٹمز ہاؤس میں مختلف لبادوں میں سرعام گھومنے والے بیرونی ایجنٹوں اور مافیا کا خاتمہ کیا جاسکے اوررائج قوانین کے مطابق محکمہ کسٹمز کے اعلیٰ افسران واسٹاف تجارت وصنعت کے لیے خدمات انجام دے سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد رشوت ستانی مہم کے دوران رشوت دینے اور لینے والوں کے خلاف اب باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کرائی جائے گی، اس ضمن میں آئندہ چند روز میں نئے احکام بھی جاری کردیے جائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں