23

معیارات پر پنجاب اور وفاق کا ٹکراؤ مقامی صنعت کیلیے دردسر بن گیا

کراچی: 

پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کے لیے ایک اور چیلنج سامنے آگیا ہے۔

معیارات کے قومی دن کے موقع پر وزیر مملکت کی موجودگی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے خلاف شکایات کے ڈھیر لگادیے گئے، صنعتی نمائندوں سمیت پی ایس کیو سی اے کے ڈائریکٹر نے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سرگرمیوں کو پی ایس کیو سی اے کے امور کی انجام دہی میں رکاوٹ قرار دے دیا۔

صنعتی نمائندوں نے وزیر مملکت سائنس و ٹیکنالوجی میردوستین خان ڈومکی کی موجودگی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے اپنے معیارات کے نفاذ سے تجارت اور برآمدات پر پڑنے والے خدشات پر روشنی ڈالی تاہم وزیر مملک نے تقریب سے خطاب نہیں کیا اور پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پی ایس کیو سی اے کے مابین مفادات کے ٹکراؤ کے بارے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے بھی انکارکردیا۔ اس موقع پر موجود صنعتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ وزیرمملکت سائنس و ٹیکنالوجی اس بارے میں بے بس ہیں کیونکہ وفاق اور پنجاب دونوں میں برسراقتدار جماعت کی حکومت ہے۔

اس موقع پر صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کھانے پینے کی اشیا کے لیے اپنے معیارات کا نفاذ شروع کردیا ہے جس کے بعد قومی سطح پر معیارات کا تعین اور نفاذ کرنے والی وفاقی اتھارٹی پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے اختیارات پر سوالیہ نشان پڑ گیا ہے۔ عالمی سطح پر وفاقی اتھارٹی کی حیثیت سے پی ایس کیو سی اے کی ایکریڈیشن کو قبول کیا جاتا ہے اور 109لازمی آئٹمز کی پیکنگ پر معیار کی سند کے طور پر پی ایس کیو سی اے کا نشان پرنٹ کیا جاتا ہے ان میں کھانے پینے کی 35 اشیا شامل ہیں۔ مینوفیکچررز پریشان ہیں کہ اب انہیں کتنی اتھارٹیز سے معیار کی تصدیق کرانا ہوگی اور عالمی سطح پر کس اتھارٹی کی سند قابل قبول ہوگی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی زد پر آنے والی پاکستان وناسپتی گھی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے نمائندے نے کراچی میں معیارات کے قومی دن کے موقع پر وزیر مملکت میر دوستین خان ڈومکی کی موجودگی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے وناسپتی گھی کی تمام برانڈز کی فروخت پر پابندی اور گھی کی مینوفیکچرنگ بند کرنے کے فیصلے کو ریاست کے اندر ریاست اور غیرقانونی عمل قرار دیتے ہوئے معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر دیگر ماہرین نے بھی اپنے خطاب ملکی سطح پر معیارات کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نہ صرف اسے مقامی مارکیٹ بلکہ ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے بھی معاون قرار دیا۔ تقریب کے دوران پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے دائریکٹر اختر بوگھیو نے بھی اپنی پریزنٹیشن میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد قومی معیارات کے نفاذ پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرتے ہوئے صوبائی اتھارٹیز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کو پاکستان کی بیرونی تجارت کے لیے ایک مسئلہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سارک کے رکن کی حیثیت سے سارک ممالک کے یکساں معیارات کی پاسداری کا پابند ہے۔ اسی طرح پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی قومی اسٹینڈرڈ باڈی کی حیثیت سے درآمدات اور برآمدات سمیت پاکستان میں بننے والی اشیا کے معیار کی ضمانت دیتی ہے جو عالمی سطح پرتسلیم کی جاتی ہے۔ اس موقع پر مختلف صنعتوں کے نمائندوں نے بھی صوبائی اتھارٹیز کی جانب سے قومی معیارات کے تعین اور نفاذ کے امور میں مداخلت کو ملکی صنعت و تجارت بالخصوص برآمدات کے لیے خدشہ قرار دیا۔

صنعتی نمائندوں نے کہا کہ اشیا بنانے والے اداروں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ایک ہی آئٹم کے لیے وفاقی اور صوبائی اتھارٹیز سے لائسنس یا منظوری حاصل کریں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مداخلت کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں